براؤزنگ بلاگز
بلاگز
کیا واقعی بجلی سستی ہورہی ہے؟
عبدالعزیز بلوچ
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی جانب سے یہ اعلان کہ حکومت نے آئی پی پیز ماڈل کو آئندہ کے لیے دفن کردیا ہے اور بجلی کو اس حد تک سستا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ لوگ اضافی بجلی بیٹریوں میں محفوظ کرکے رات کو استعمال کرسکیں،!-->!-->!-->!-->!-->…
بے قدری کی سزا
حسان احمد
ایک بوڑھا باپ تھا۔ کمزور، نحیف، کانپتے ہاتھوں والا۔ مگر اُس کی آنکھوں میں اب بھی اپنے بیٹے کے لیے وہی محبت زندہ تھی، جو اُس دن تھی جب اُس نے پہلی بار اُسے اپنی گود میں اٹھایا تھا۔ وہ شخص ساری زندگی مزدوری کرتا رہا۔ گرمی کی!-->!-->!-->!-->!-->…
معرکۂ حق، عظیم الشان جشن
دانیال جیلانی
معرکۂ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان مانومنٹ اسلام آباد میں منعقد ہونے والی خصوصی تقریب محض ایک سرکاری اجتماع نہیں تھا بلکہ یہ پوری قوم کے اجتماعی شعور، اتحاد اور عزم کی بھرپور عکاسی تھی۔ اس موقع پر صدرِ مملکت!-->!-->!-->!-->!-->…
جب خواب بڑے ہوں۔۔۔
مہروز احمد
وہ بچہ روزانہ پرانی جوتیوں میں اسکول جاتا تھا… جوتوں کے تلے سے زمین صاف نظر آتی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں خواب بہت بڑے تھے۔ وہ جب کلاس میں بیٹھتا تو خاموش رہتا، نہ زیادہ بولتا، نہ کسی سے جھگڑا کرتا مگر اس کی کاپی میں لفظوں کے!-->!-->!-->!-->!-->…
معرکۂ حق: عسکری کامیابی سے قومی وقار تک
اسد احمد
معرکۂ حق اور آپریشن “بُنیان المرصوص” کی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر پورے ملک میں یومِ تشکر منایا گیا۔ یہ صرف ایک عسکری کامیابی کی سالگرہ نہیں بلکہ قومی وحدت، عسکری مہارت، سیاسی قیادت اور عوامی جذبے کے اظہار کا دن بھی ہے۔!-->!-->!-->!-->!-->…
پراکسی جنگ کا نیا کھیل
دانیال جیلانی
وزیر دفاع خواجہ آصف کے گزشتہ روز کے بیان نے ایک بار پھر جنوبی ایشیا کی پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی صورت حال کو اجاگر کیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ افغانستان بھارت کی پراکسی کے طور پر استعمال ہورہا ہے اور بھارت افغانستان کے ذریعے!-->!-->!-->!-->!-->…
اپنا گھر اسکیم، حکومت کا عظیم قدم
مہروز احمد
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے “اپنا گھر اسکیم” کا اجرا بلاشبہ ایک اہم اور بروقت اقدام ہے، جو نہ صرف عام آدمی کے دیرینہ خواب اپنے گھرکو حقیقت کے قریب لانے کی کوشش ہے، بلکہ ملکی معیشت کو بھی ایک نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا!-->!-->!-->!-->!-->…
مزدور کی کہانی
غلام مصطفیٰ
صبح ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی تھی۔ فضا میں ہلکی سی نمی اور سڑکوں پر خاموشی تھی، مگر شہر جاگنے سے پہلے ہی کچھ لوگ جاچکے تھے۔ انہی میں ایک شخص بھی تھا، عمر قریباً پچپن سال، کندھوں پر وقت کا بوجھ، ہاتھوں میں چھالے اور آنکھوں!-->!-->!-->!-->!-->…