براؤزنگ بلاگز

بلاگز

آزادی کا اصل قرض

وقاص بیگ یوم آزادی میں دو روز باقی تھے۔ شہر کی گلیوں میں سبز ہلالی پرچم ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہے تھے۔ کہیں بچوں کے ہاتھوں میں جھنڈیاں تھیں، کہیں گھروں کی چھتوں پر چراغاں کیا جارہا تھا اور کہیں دکانوں کے باہر سبز و سفید قمقمے

دھوئیں کے بغیر نشہ: پاکستان میں نکوٹین کا بڑھتا چیلنج

بلال ظفر سولنگی نکوٹین کا عادی بننے کے لیے اب کسی نوجوان کا سگریٹ سلگانا ضروری نہیں رہا۔ ایک چھوٹا سا نکوٹین پاؤچ یا جیب میں آسانی سے سما جانے والا ایک چھوٹا ویپ سگریٹ کے دھوئیں کی بو یا روایتی سگریٹ نوشی کی واضح علامات کے بغیر کسی

آزادی کا اصل مطلب

اسد احمد 14 اگست آنے میں صرف تین دن باقی تھے۔ پورا شہر سبز و سفید جھنڈیوں، قمقموں اور قومی پرچموں سے سج چکا تھا۔ بازاروں میں رش تھا، بچے ہاتھوں میں جھنڈیاں لیے گھوم رہے تھے، دکانوں سے ملی نغموں کی آوازیں آرہی تھیں اور ہر طرف جشنِ آزادی

ایک سجدہ، نئی زندگی

عبدالعزیز بلوچ شہر کے ایک پرانے محلے میں اکبر نام کا نوجوان رہتا تھا۔ وہ محنتی تھا، خواب دیکھتا تھا اور اپنی زندگی بدلنے کے لیے دن رات کوشش کرتا تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا، مگر کئی مہینوں سے حالات خراب تھے۔ کبھی مال خراب

میجر طفیل شہید، تاریخ کا درخشاں باب

محمد راحیل وارثیسرزمین پاک انتہائی خوش قسمت گردانی جاتی ہے کہ وطن کے رکھوالے یہاں کثیر تعداد میں پیدا ہوتے اور ملک کے لیے مرمٹنے کے جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں۔ اپنے قیام سے ہی یہ وطن دشمن قوتوں کی آنکھوں میں بُری طرح کھٹکتا آرہا ہے، وہ اسے

آخری ویڈیو

وقاص بیگ رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ شہر کی قریباً تمام دکانیں بند ہوچکی تھیں۔ سڑک پر ٹریفک کم تھا، لیکن موبائل فون کی اسکرینوں پر دنیا ابھی جاگ رہی تھی۔ ارسلان ایک چھوٹی سی چائے کی دکان کے باہر پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھا اپنے موبائل کی

بابائے کراچی۔۔۔ جمشید نسروانجی مہتا

محمد راحیل وارثی آج عروس البلاد کراچی اُجڑا اُجڑا سا نظر آتا ہے۔ سہولتوں کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ہر سُو مسائل کے انبار دِکھائی دیتے ہیں۔ بدانتظامی، بدعنوانی، غفلت، غیر ذمے داری و دیگر عوامل عوام کے مصائب میں مزید اضافے کا باعث ثابت ہورہے

دورۂ ویسٹ انڈیز: کامیابی کا تسلسل قائم کیا جائے

عبدالعزیز بلوچ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی آٹھ وکٹوں سے شاندار کامیابی صرف ایک میچ میں فتح حاصل کرنے کا واقعہ نہیں بلکہ یہ قومی ٹیم کے اعتماد، حوصلے اور صلاحیتوں کی بحالی کی علامت بھی ہے۔ غیر ملکی سرزمین پر مسلسل

کامیابی کا راز

غلام مصطفیٰ بارش ابھی تھمی ہی تھی۔ گاؤں کے کچے راستوں پر مٹی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ گاؤں کے کنارے ایک پرانا سا کھیت تھا، جہاں ساٹھ سالہ کسان یوسف ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے پہنچ جاتا۔ اس کے چہرے پر جھریاں ضرور تھیں، مگر آنکھوں میں عجیب

ایک درست فیصلہ

بلال ظفر سولنگی زندگی میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے، خوش حال رہنا چاہتا ہے اور اپنے بچوں کو ایک بہتر مستقبل دینا چاہتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف خواہشیں انسان کی تقدیر نہیں بدل سکتیں۔ تقدیر بدلنے کے لیے سوچ، عادت اور عمل بدلنا