براؤزنگ بلاگز

بلاگز

چراغ جو بجھا نہیں

غلام مصطفیٰ سمندر کے کنارے ایک پرانی لائٹ ہاؤس عمارت تھی۔ دن کے وقت وہ سفید پتھروں کا ایک خاموش مینار دکھائی دیتی، مگر رات ہوتے ہی اس کی چوٹی پر جلنے والا چراغ دُور سمندر میں سفر کرنے والے جہازوں کے لیے راستہ بن جاتا۔ اس لائٹ ہاؤس کا

نئے انتظامی یونٹس کے ذریعے بہتر حکمرانی

تحریر: رفاقت علی پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کو اگر صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ سمجھا جائے تو شاید اس کے اصل مقصد تک پہنچنا مشکل ہوجائے۔ یہ سوال اس سے کہیں بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی آئندہ نسلیں کس انتظامی نقشے

مضبوط ریاست، بااختیار انتظامی یونٹس

دانیال جیلانی پاکستان میں کچھ بحثیں ایسی ہیں جو برسوں تک سیاسی نعروں، علاقائی حساسیتوں اور جماعتی مفادات کے درمیان الجھی رہتی ہیں۔ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ بھی طویل عرصے سے اسی کیفیت کا شکار ہے۔ مگر حالات کبھی کبھی پرانے سوالات کو

قائداعظمؒ، اصولوں کا روشن استعارہ

غلام مصطفیٰ کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ ایک زمانہ بھی رخصت ہوجاتا ہے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مٹی کے سپرد ہوکر بھی قوموں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کے قدموں کے نشان وقت کی آندھیاں نہیں مٹاسکتیں، ان کی آواز تاریخ

روشنی کا سفر

عبدالعزیز بلوچ شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی تھی، جہاں شام ڈھلتے ہی دکانوں کے شٹر گرنے لگتے تھے۔ اسی گلی کے آخری سرے پر ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان تھی۔ دکان کا مالک زبیر تھا، جو برسوں سے کتابیں بیچ رہا تھا، مگر پچھلے کچھ عرصے سے

اختیار عوام تک، نظام بدلنا ہوگا

وقاص بیگ پاکستان کو آج صرف معاشی استحکام کی نہیں، انتظامی تجدید کی بھی ضرورت ہے۔ یہ تجدید کسی صوبے، علاقے یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ اس سوال کا جواب ہے کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں ریاستی اختیار عام شہری تک کتنے مؤثر

خاموش نیکی کا سفر

بلال ظفر سولنگی گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا جسے برسوں سے کوئی استعمال نہیں کرتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کا پانی خشک ہوچکا ہے، مگر گاؤں کا بوڑھا مؤذن حامد ہر فجر کے بعد کچھ دیر اس کنویں کے پاس ضرور بیٹھتا تھا۔ ایک صبح ایک نوجوان نے

عوام کی تقدیر کا سوال

رفاقت علی قومیں صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتیں، وہ اپنے انتظامی ڈھانچوں کی کارکردگی سے پہچانی جاتی ہیں۔ ریاست کا حُسن صرف اس کے بلند ایوانوں، وسیع شاہراہوں اور بڑے شہروں میں نہیں ہوتا، اصل حُسن وہاں دکھائی دیتا ہے جہاں ایک غریب باپ اپنے

محرومی کا حل، نئے انتظامی یونٹس

دانیال جیلانی پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث اب محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہی۔ گزشتہ کئی روز سے جاری بحث نے ملک کے مختلف حصوں میں ایک بنیادی سوال کو جنم دیا ہے۔ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیے اور عوام

ایمان کی جیت

عبدالعزیز بلوچ شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی تھی، جہاں دکانوں کے باہر لٹکتے بلب شام ہوتے ہی زرد روشنی بکھیرنے لگتے تھے۔ اسی گلی کے آخری سرے پر لکڑی کے ایک بوسیدہ تختے پر لکھا تھا: "زُہیر واچ ہاؤس، وقت کی مرمت یہاں ہوتی ہے۔"دکان کا