براؤزنگ بلاگز

بلاگز

نئے صوبے: ریاست سے فاصلے کم کرنے کا سفر

وقاص بیگ کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا اندازہ اس کے بلند و بالا ایوانوں، وسیع شاہراہوں یا بڑے شہروں کی چمک دمک سے نہیں لگایا جاسکتا۔ ریاست کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک عام شہری، جو اقتدار کے مراکز سے سیکڑوں میل دُور رہتا ہے، اپنے

ایک نیکی، کئی چراغ روشن

غلام مصطفیٰ شہر کے ایک پرانے حصے میں سہیل نام کا خاموش مزاج آدمی رہتا تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر حساب کتاب لکھنے کا کام کرتا تھا۔ آمدن زیادہ نہیں تھی مگر اس کی ایک عادت ایسی تھی جس سے محلے کے لوگ واقف تھے۔ وہ ہر جمعے کو اپنی جیب میں

محنت، توکل اور کامیابی

بلال ظفر سولنگی شہر کے ایک خاموش سے محلے میں زریاب نام کا نوجوان رہتا تھا۔ عمر زیادہ نہیں تھی، مگر زندگی نے اسے وقت سے پہلے بڑا کردیا تھا۔ والد کا انتقال ہوچکا تھا، گھر میں بیمار ماں اور دو چھوٹی بہنیں تھیں۔ زریاب صبح ایک چھوٹی سی دکان

موت کے دروازے سے 6 بار واپسی

محمد راحیل وارثی موت کے بارے میں انسان نے بہت کچھ لکھا، بہت کچھ سوچا اور بہت کچھ جاننے کی کوشش کی، مگر موت کا راز آج بھی زندگی کے سب سے بڑے معموں میں شامل ہے۔ انسان پیدا ہوتا ہے، زندگی کے مختلف موسموں سے گزرتا ہے اور ایک دن اس دنیا سے

اختیار عوام تک، نئے صوبے ضروری

اسد احمد پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو جذبات اور سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ نئے صوبوں کا بنیادی تصور دراصل یہ ہونا چاہیے کہ ریاستی نظام کو اس طرح منظم کیا جائے کہ عوام تک حکومت، سہولت، روزگار

امید کی پہلی اینٹ

عبدالعزیز بلوچ شہر کے آخری سرے پر ایک پرانی سی بستی تھی۔ وہاں کچی گلیاں، ٹوٹی دیواریں اور چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔ اسی بستی میں حارث نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ عمر قریباً پینتالیس برس تھی اور پیشے کے اعتبار سے وہ معمولی سا مستری تھا۔ سارا دن

نظام کا رونا کب تک؟

دانیال جیلانی پاکستان آج جن بڑے مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مؤثر اور عوام دوست طرز حکمرانی کا بھی ہے۔ برسوں سے ہم مختلف اداروں کی کمزوری، انتظامی رکاوٹوں، بیوروکریسی کی سست روی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوام کو درپیش

جشنِ میلاد النبی ﷺ: فکر، عمل اور تجدید

اسد احمد 12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے محبت، شکر، امید اور کردار کی تجدید کا موقع ہے۔ بارہ ربیع الاول کے موقع پر گلیاں درود و سلام، چراغاں اور خوشیوں سے سجی ہوں گی تو اصل سوال یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بھی اس نور کے استقبال کے لیے

نئے صوبے اور ریاست کی رفتار

رفاقت علی ریاستی نظام میں وقت بھی ایک سرمایہ ہوتا ہے۔ جس شہری کو ایک معمولی کام کے لیے کئی دن دفتر در دفتر بھٹکنا پڑے، جس ضلع کی فائل فیصلہ ہونے تک مہینوں میزوں پر گردش کرتی رہے اور جس علاقے میں ہنگامی صورتحال کا جواب مرکز تک پہنچتے

خالی لفافہ

بلال ظفر سولنگی شہر کے پرانے حصے میں ایک چھوٹی سی ڈاک خانہ نما دکان تھی، جس کے باہر لکڑی کا ایک بورڈ لگا تھا: "خط لکھو، جواب ضرور آئے گا۔"یہ دکان 65 سالہ حامد چلاتا تھا۔ وہ نہ کوئی بڑا کاروباری شخص تھا، نہ کوئی مشہور آدمی۔ ساری زندگی