نئے صوبے: عوام کے خوابوں کا نیا راستہ

دانیال جیلانی قومیں صرف زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں، قومیں ان خوابوں سے بنتی ہیں جو ایک عام آدمی اپنی بستی، اپنے شہر اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دیکھتا ہے۔ کسی ریاست کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کا نقشہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ

نئے صوبے: مضبوط پاکستان کی طرف ضروری قدم

دانیال جیلانی عوام پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کی خوشیاں جوش و خروش سے منارہے ہیں۔ یہ دن ہمیں اپنے بزرگوں کی قربانیوں، قیامِ پاکستان کے مقاصد اور ایک ایسے وطن کے خواب کی یاد دلاتا ہے، جہاں ہر شہری کو عزت، مساوات، انصاف اور بنیادی

تین مسلم طاقتیں، ایک عزم

دانیال جیلانی آج مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا جس بے یقینی، کشیدگی اور اضطراب سے گزر رہی ہے، اس میں ایسے معاہدوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے جو جنگ کے شعلے بھڑکانے کے بجائے امن کی شمع روشن کریں۔ پاکستان،

یومِ استحصال کشمیر اور پاکستان کی سفارتی کاوشیں

دانیال جیلانی جنوبی ایشیا کی سیاست میں اگر کوئی مسئلہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے تک مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنارہا ہے تو وہ مسئلہ کشمیر ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں یہ معاملہ ہمیشہ بنیادی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے

ہر موسم کی مضبوط دوستی

دانیال جیلانی دنیا اس وقت تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی، معاشی اور تزویراتی صف بندیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں مفادات کی بنیاد پر اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں، لیکن بعض تعلقات ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت، حالات اور

امن واستحکام کی کامیاب جدوجہد

دانیال جیلانی پاکستان ایک بار پھر اس حقیقت کا سامنا کررہا ہے کہ دہشت گردی صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور ریاستی خودمختاری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران سیکیورٹی

دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد

دانیال جیلانی پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، مشکل اور صبر آزما جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف ہمارے ہزاروں شہریوں کو متاثر کیا بلکہ پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس، فرنٹیئر کور، رینجرز اور دیگر

ضمیر کا بوجھ

دانیال جیلانی شہر کی چکاچوند میں رہنے والا، بلند و بالا عمارت کے پچیسویں فلور پر پُرتعیش اپارٹمنٹ کا مالک، اسلم خان، خود کو ایک روشن خیال، ترقی پسند اور حقیقت پسند سمجھتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو ہر چیز کو مادی ترازو میں تولتے

مولانا فضل الرحمٰن کا دفاع کرنے والوں کو جواب

دانیال جیلانی بھائی، خون کی توہین نہیں، حقیقت کی توہین ہورہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ “جائز اور دوٹوک سوال” دراصل ایک پرانا سیاسی حربہ ہے جو کئی دہائیوں سے جے یو آئی کے پلیٹ فارم سے آزمایا جارہا ہے۔ یہ نہ تو نیا ہے اور نہ ہی

پاکستان دشمنوں کیلئے پیغام

دانیال جیلانی پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے، جہاں سلامتی کے چیلنجز وقت کے ساتھ صرف اپنی نوعیت ہی نہیں، بلکہ اپنی شدت بھی تبدیل کرتے رہے ہیں۔ روایتی جنگوں کا دور اب بڑی حد تک ہائبرڈ وار فیئر، اطلاعاتی محاذ، سائبر حملوں، دہشت گردی