براؤزنگ بلاگز

بلاگز

نظام کا رونا کب تک؟

دانیال جیلانی پاکستان آج جن بڑے مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مؤثر اور عوام دوست طرز حکمرانی کا بھی ہے۔ برسوں سے ہم مختلف اداروں کی کمزوری، انتظامی رکاوٹوں، بیوروکریسی کی سست روی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوام کو درپیش

جشنِ میلاد النبی ﷺ: فکر، عمل اور تجدید

اسد احمد 12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے محبت، شکر، امید اور کردار کی تجدید کا موقع ہے۔ بارہ ربیع الاول کے موقع پر گلیاں درود و سلام، چراغاں اور خوشیوں سے سجی ہوں گی تو اصل سوال یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بھی اس نور کے استقبال کے لیے

نئے صوبے اور ریاست کی رفتار

رفاقت علی ریاستی نظام میں وقت بھی ایک سرمایہ ہوتا ہے۔ جس شہری کو ایک معمولی کام کے لیے کئی دن دفتر در دفتر بھٹکنا پڑے، جس ضلع کی فائل فیصلہ ہونے تک مہینوں میزوں پر گردش کرتی رہے اور جس علاقے میں ہنگامی صورتحال کا جواب مرکز تک پہنچتے

خالی لفافہ

بلال ظفر سولنگی شہر کے پرانے حصے میں ایک چھوٹی سی ڈاک خانہ نما دکان تھی، جس کے باہر لکڑی کا ایک بورڈ لگا تھا: "خط لکھو، جواب ضرور آئے گا۔"یہ دکان 65 سالہ حامد چلاتا تھا۔ وہ نہ کوئی بڑا کاروباری شخص تھا، نہ کوئی مشہور آدمی۔ ساری زندگی

آمدِ رسول ﷺ، رحمت کا پیغام

محمد راحیل وارثی دنیا کی تاریخ میں بہت سے دن آئے، بہت سے واقعات رونما ہوئے، سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں، بڑے بڑے فاتحین نے زمین کے وسیع حصوں پر حکومت کی، مگر بعض ایام ایسے ہوتے ہیں جو صرف کیلنڈر کا حصہ نہیں بنتے بلکہ انسانی تاریخ کے

نئے صوبے، نئی سمت کا سوال

وقاص بیگ پاکستان کی سیاست میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جو بار بار اٹھتے ہیں، دب جاتے ہیں، پھر کسی نئے واقعے کے بعد دوبارہ سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ نئے صوبوں کا سوال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ محض انتظامی تقسیم کا مسئلہ نہیں، بلکہ ریاست اور شہری

رحمتِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن دنیا

اسد احمد ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے، جس سے وابستہ سب سے عظیم یاد دنیا کی اس ہستی کی تشریف آوری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا (ترجمہ): ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے

نئے صوبے اور عوام کی تقدیر

دانیال جیلانی نقشے پر کھینچی ہوئی لکیریں کسی ریاست کا جغرافیہ تو متعین کرسکتی ہیں، مگر اس کے شہریوں کی قسمت نہیں لکھ سکتیں۔ قسمت اس وقت بدلتی ہے جب ریاست اپنے شہری کے دروازے تک پہنچتی ہے، جب ایک بیمار کو علاج کے لیے شہر در شہر نہ بھٹکنا

مایوسی کے جنگل میں امید کا درخت

وقاص بیگ شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں اب پہلے جیسی گھنی نہیں رہی تھیں۔ کئی ٹہنیاں سوکھ چکی تھیں، تنے پر وقت کے نشان صاف دکھائی دیتے تھے، مگر اس درخت کے نیچے آج بھی لوگ کچھ دیر بیٹھتے، بچے کھیلتے اور

نئے صوبے، امید کے نئے دروازے

رفاقت علی کبھی کبھی کسی بڑے مسئلے کا حل کسی بڑے نعرے میں نہیں، ایک چھوٹی سی خواہش میں چھپا ہوتا ہے۔ ایسی خواہش جو ایک ماں اپنے دل میں لیے اپنے بچے کو اسکول بھیجتی ہے، ایک کسان اپنی فصل کے ساتھ لیے بازار جاتا ہے اور ایک نوجوان اپنے