نئے صوبے، امید کے نئے دروازے

رفاقت علی

کبھی کبھی کسی بڑے مسئلے کا حل کسی بڑے نعرے میں نہیں، ایک چھوٹی سی خواہش میں چھپا ہوتا ہے۔ ایسی خواہش جو ایک ماں اپنے دل میں لیے اپنے بچے کو اسکول بھیجتی ہے، ایک کسان اپنی فصل کے ساتھ لیے بازار جاتا ہے اور ایک نوجوان اپنے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے کسی دفتر کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ یہ خواہش صرف اتنی ہے کہ اسے اپنا کام کروانے کے لیے بہت دور نہ جانا پڑے، اس کی آواز سننے والا اس کے قریب ہو اور اس کے مسائل کو فائلوں کے ڈھیر میں گم نہ ہونا پڑے۔
شاید نئے صوبوں کی بحث کو بھی اسی انسانی احساس کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم اکثر نئے صوبوں کی بات سنتے ہی نقشے، سرحدیں اور سیاسی تقسیم سوچنے لگتے ہیں، حالانکہ اس بحث کا ایک نہایت خوبصورت اور انسانی پہلو بھی ہے۔ نئے صوبوں کا تصور دراصل یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے مزید کم کیے جاسکتے ہیں؟ کیا انتظامیہ کو عام آدمی کے دروازے تک لایا جاسکتا ہے؟ کیا ایک ایسے شہری کو، جو پہلے ہی معاشی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، اپنے جائز کام کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنے سے بچایا جاسکتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر نئے صوبوں کے تصور کو محض سیاسی نعرہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان ایک خوبصورت اور وسیع ملک ہے۔ یہاں پہاڑ بھی ہیں، میدان بھی، صحرا بھی، دریا بھی اور سمندر بھی۔ ہر خطے کی اپنی زبان، ثقافت، رہن سہن اور معاشی ضرورتیں ہیں۔ ایک علاقے کا مسئلہ دوسرے علاقے سے مختلف ہوسکتا ہے۔ کہیں پانی بنیادی ضرورت ہے، کہیں سڑکیں، کہیں صحت، کہیں تعلیم اور کہیں روزگار سب سے بڑا سوال ہے۔ جب ضرورتیں مختلف ہوں تو انتظامی ترجیحات بھی مختلف ہونی چاہئیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کا خیال ایک سنجیدہ انتظامی ضرورت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
تصور کیجیے ایک دور افتادہ علاقے کے ایک نوجوان کو اپنی تعلیم یا روزگار سے متعلق کسی اہم سرکاری معاملے کے لیے صوبائی دارالحکومت جانا پڑے۔ سفر کا خرچ الگ، وقت الگ اور غیر یقینی الگ۔ ایک غریب آدمی کے لیے یہ صرف فاصلے کا مسئلہ نہیں ہوتا، یہ اس کی روزمرہ زندگی سے چھن جانے والے کئی دنوں کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر فیصلہ کرنے والا ادارہ اس کے قریب ہو تو شاید وہی مسئلہ چند گھنٹوں میں حل ہوجائے۔ یہی تو اچھی حکمرانی ہے۔
اچھی حکومت وہ نہیں جو صرف بڑے شہروں میں اپنی موجودگی دکھائے، بلکہ وہ ہے جو دور بیٹھے انسان کو بھی یہ احساس دے کہ ریاست اسے دیکھ رہی ہے، اس کی بات سن رہی ہے اور اس کے مسائل اس کے لیے اہم ہیں۔ نئے صوبوں کے حامیوں کی سب سے مضبوط دلیل بھی یہی ہونی چاہیے کہ اس عمل کا مرکز سیاست نہیں، عوام ہوں۔ کسی نئے صوبے کا مطالبہ کسی دوسرے علاقے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ زبان، نسل، برادری یا علاقائی تعصب کو اس بحث کا حصہ بنانا نقصان دہ ہوگا۔ ہمیں اس معاملے کو محبت، دلیل اور آئینی راستے سے آگے بڑھانا ہوگا۔
یہ پاکستان کی تقسیم نہیں، انتظامی طور پر مزید مضبوط بنانے کی راہ ہے۔ ہم اگر کسی بڑے گھر میں رہتے ہیں اور گھر کے افراد بڑھ جاتے ہیں تو سہولت کے لیے کمروں، راستوں اور انتظامات کو بہتر بناتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ خاندان تقسیم ہوگیا۔ بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر فرد کو زیادہ آرام، توجہ اور سہولت مل سکے۔ صوبوں کے معاملے کو بھی اسی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔
اگر کسی صوبے کی آبادی، رقبہ اور انتظامی ذمے داریاں اس حد تک بڑھ جائیں کہ ہر علاقے تک مؤثر توجہ پہنچانا مشکل ہوجائے تو انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی ایک فطری ضرورت بن سکتی ہے۔ نئے صوبے اسی ضرورت کا ممکنہ جواب ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک بات بہت اہم ہے: صرف صوبہ بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔
نئے صوبے کے ساتھ مضبوط مقامی حکومتیں، شفاف نظام، بہتر بلدیاتی ادارے، تعلیم اور صحت کی سہولتیں، روزگار کے مواقع اور میرٹ پر مبنی انتظامیہ بھی ضروری ہوگی۔ اگر نام بدل جائے لیکن عام آدمی کی زندگی نہ بدلے تو پھر نئے صوبے کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔
اس لیے نئے صوبوں کی بحث دراصل ہمیں پورے نظامِ حکمرانی پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ اقتدار کہاں تک پہنچتا ہے؟ بجٹ کہاں خرچ ہوتا ہے؟ فیصلے کون کرتا ہے؟ ترقی کے ثمرات کس تک پہنچتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام آدمی اپنے حق کے لیے کتنی دور جاتا ہے؟
یہ سوال کسی ایک سیاسی جماعت کے نہیں، پورے معاشرے کے سوال ہیں۔ ہمیں جذبات ضرور رکھنے چاہئیں، مگر جذبات کے ساتھ عقل بھی۔ ہمیں اپنے علاقوں سے محبت ضرور ہونی چاہیے، مگر پاکستان سے محبت اس سے کہیں بڑی ہونی چاہیے۔ نئے صوبوں کی بنیاد ایسی ہی محبت پر رکھی جانی چاہیے، ایسی محبت جو کسی کو چھیننے کی نہیں، سب کو دینے کی بات کرے۔
شاید وقت آگیا ہے کہ ہم نئے صوبوں کو نقشے کی تبدیلی کے بجائے نظام کی بہتری کے زاویے سے دیکھیں۔
وہ ماں جو اپنے بچے کے علاج کے لیے پریشان ہے، اسے یہ معلوم نہیں کہ صوبے کی حد کہاں ختم ہوتی ہے۔ اسے صرف یہ معلوم ہے کہ اسپتال اس کے قریب ہو۔
وہ کسان سیاسی نقشے نہیں دیکھتا، وہ چاہتا ہے کہ اس کی فصل کا مسئلہ حل ہو۔
وہ نوجوان آئینی بحث کی باریکیاں نہیں جانتا، وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اسے اپنے مستقبل کے لیے مواقع ملیں۔ اگر نئے صوبے ان لوگوں کی زندگی میں آسانی لا سکتے ہیں، حکومت کو ان کے قریب لا سکتے ہیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم میں مدد دے سکتے ہیں اور پس ماندہ علاقوں کو ترقی کا برابر موقع دے سکتے ہیں تو پھر اس تصور پر کھلے دل، ٹھنڈے دماغ اور سنجیدہ قومی مکالمے کے ساتھ غور ضرور ہونا چاہیے۔
نئے صوبے دیواریں کھڑی کرنے کا نام نہ بنیں، پل بنانے کا ذریعہ بنیں۔ ایسے پُل جو حکومت کو عوام سے ملائیں، وسائل کو ضرورت مند علاقوں تک پہنچائیں اور پاکستان کے ہر شہری کو یہ یقین دلائیں کہ اس کا علاقہ کتنا ہی دُور کیوں نہ ہو، ریاست اس سے دور نہیں۔ اور شاید نئے صوبوں کی سب سے خوبصورت تعریف یہی ہے: صوبے کم یا زیادہ کرنے کی بحث نہیں، انسان اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرنے کی کوشش۔
اگر یہ مقصد سامنے رہے تو نئے صوبوں کی بات تقسیم کی نہیں، تعمیر کی بات بن سکتی ہے، اختلاف کی نہیں، آسانی کی بات بن سکتی ہے اور سیاست کی نہیں، عوام کی زندگی سنوارنے کی بات بن سکتی ہے۔
پاکستان کو ایسے ہی خوابوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے دور نہ کریں، بلکہ قریب لے آئیں۔ نئے صوبوں کا خواب بھی اسی وقت خوبصورت ہوگا جب اس کے مرکز میں نقشہ نہیں، انسان ہوگا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔