کوشش ہی کامیابی ہے

وقاص بیگ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں برس رہی تھیں۔ شہر کی ایک تنگ گلی میں واقع چھوٹے سے کرائے کے کمرے میں ارسلان خاموش بیٹھا چھت کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے سامنے نوکریوں کے مسترد شدہ خطوط کا ڈھیر پڑا تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں وہ درجنوں

رشتے بچائیں، دنیا نہیں

وقاص بیگ فجر کی اذان ختم ہوئی تو پورا گاؤں ہلکی ہلکی روشنی میں نہارہا تھا۔ مسجد سے نمازی واپس آرہے تھے، لیکن آج احمد کے قدم مسجد سے گھر کی طرف نہیں، قبرستان کی طرف اٹھ رہے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا سا لفافہ تھا، جس کے کنارے وقت

نشے سے نجات کی داستان

وقاص بیگ رات کے دو بج رہے تھے۔ پورا محلہ سو چکا تھا، مگر ایک گھر میں اب بھی روشنی جل رہی تھی۔ وہ روشنی امید کی نہیں، بے بسی کی تھی۔ دروازے کے ساتھ بیٹھی ماں اپنے ہاتھوں میں تسبیح پکڑے بار بار ایک ہی دعا مانگ رہی تھی۔"یااللہ! میرا

پٹرول مافیا، ہوشیار باش!

وقاص بیگ کسی بھی ملک میں پٹرولیم مصنوعات محض ایک تجارتی شے نہیں ہوتیں بلکہ معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور روزمرہ زندگی کا قریباً ہر شعبہ ایندھن سے جڑا ہوا ہے۔

شہدا کی حرمت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے

وقاص بیگ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے، جس کی بنیاد بے شمار قربانیوں پر استوار ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس سرزمین کے سپوتوں نے وطن کی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف

منافع سے پہلے اعتماد کمائیں

وقاص بیگ شہر کے قدیم بازار میں حارث کی ایک بڑی دکان تھی۔ دُور دُور سے لوگ اس کے پاس خریداری کے لیے آتے تھے۔ ظاہری طور پر وہ نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور خوش لباس انسان تھا، مگر اس کی تجارت کی بنیاد ایک ایسی عادت پر قائم تھی جو آہستہ

قرض کی قیمت

وقاص بیگ شہر کے قدیم بازار میں وسیم نام کا شخص کاروبار کرتا تھا۔ لباس نفیس، گفتگو میٹھی اور چہرے پر ہر وقت مصنوعی مسکراہٹ سجی رہتی۔ جو اسے پہلی بار دیکھتا، یہی سمجھتا کہ اس سے زیادہ شریف آدمی شاید ہی کوئی ہو۔ مگر اس کی ایک عادت ایسی

موبائل بابا۔۔۔

وقاص بیگ شہر کے پرانے بازار میں ایک عجیب آدمی رہتا تھا۔ نام تو اس کا بشیر احمد تھا، لیکن پورا شہر اسے "موبائل بابا" کہتا تھا۔وجہ؟اس کے ہاتھ میں چوبیس گھنٹے موبائل رہتا تھا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی وہ پہلے اپنے بچوں کو نہیں، بلکہ فیس بک،

جھوٹے سیٹھ کے لیے عبرت ناک سبق

وقاص بیگ ایک گاؤں میں نثار نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ بہت چالاک سمجھا جاتا تھا، لیکن حقیقت میں اس کی چالاکی زیادہ تر دھوکے، جھوٹ اور لوگوں کو بے وقوف بنانے میں استعمال ہوتی تھی۔ گاؤں والے اسے مذاق میں "سیٹھ نثار" کہتے تھے، حالانکہ

سچے آنسو۔۔۔

وقاص بیگ شہر کے مصروف علاقے میں ایک شخص رہتا تھا، جس کا نام فرید تھا۔ بظاہر وہ خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ملنسار نظر آتا تھا، مگر حقیقت اس کے چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ فرید کا کاروبار دھوکے، جھوٹ اور فریب پر قائم تھا۔ وہ لوگوں کی