سچے آنسو۔۔۔

وقاص بیگ شہر کے مصروف علاقے میں ایک شخص رہتا تھا، جس کا نام فرید تھا۔ بظاہر وہ خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ملنسار نظر آتا تھا، مگر حقیقت اس کے چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ فرید کا کاروبار دھوکے، جھوٹ اور فریب پر قائم تھا۔ وہ لوگوں کی

جھوٹ کا دردناک انجام

وقاص بیگ شہر کے ایک مصروف علاقے میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام حماد تھا۔ حماد ذہین تھا، بات کرنے میں چالاک تھا اور لوگوں کو قائل کرنے کا فن بخوبی جانتا تھا۔ مگر اس کی ایک بڑی کمزوری تھی، وہ جھوٹ بولنے میں مہارت رکھتا تھا۔ شروع

مسیحا۔۔۔

وقاص بیگ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں پہاڑوں کے دامن میں بسے ہوئے گھروں کی چھتیں مٹی سے بنی ہوئی تھیں اور سڑکیں کچی تھیں۔ اسی گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد ایک مزدور

آخری روٹی

وقاص بیگ یخ بستہ رات تھی۔ شہر کی روشن سڑکوں پر گاڑیوں کا شور تھا، بازار جگمگا رہے تھے اور لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ انہی سڑکوں کے کنارے ایک بوڑھا شخص پھٹے ہوئے کپڑوں میں بیٹھا تھا۔ اس کا نام کریم بخش تھا۔ سفید بال، جھریوں

قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی

وقاص بیگ کراچی کی رات ہمیشہ کی طرح روشن تھی۔ بلند عمارتوں کی چمکتی کھڑکیاں، سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں، فوڈ اسٹریٹس کا شور اور ہر طرف زندگی کی بھاگ دوڑ۔ انہی روشنیوں کے درمیان گلشنِ اقبال کے ایک اپارٹمنٹ کی ساتویں منزل پر احسن اپنے گھر

اصل کامیابی۔۔۔

وقاص بیگ ریاض کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں ریت کے طوفان زندگی کا حصہ تھے اور خاموشی ہر گھر کی دیواروں میں بسی ہوئی تھی۔ اسی گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا سلمان۔ وہ بہت غریب تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی

راکھ سے اٹھتا خواب

وقاص بیگ یہ کہانی کسی افسانوی دنیا کی نہیں، نہ ہی کسی فلمی ہیرو کی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو روزمرہ زندگی کی سخت حقیقتوں میں جیتا ہے، جہاں خواب سہولت سے نہیں بلکہ قیمت دے کر خریدے جاتے ہیں۔ اس کا نام دانش تھا۔دانش ایک ایسے

پاکستان امن کا پیامبر

وقاص بیگ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں آچکا ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، مذاکرات اور سفارتی رابطے ایک نازک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان کا فعال اور متحرک سفارتی کردار نہ صرف خطے کے

جب ظلم لوٹ کر واپس آتا ہے۔۔۔

وقاص بیگ شہر کے پرانے مگر خوبصورت علاقے میں ایک بڑا سا بنگلہ تھا۔ یہ بنگلہ کبھی ہنسی، محبت اور سکون کی مثال ہوا کرتا تھا۔ اس گھر میں ایک خوش حال خاندان رہتا تھا۔ ماں، باپ اور دو بچے۔ ہر شام گھر کے صحن میں چائے، قہقہے اور زندگی کی

زبان کے زخم

وقاص بیگ وہ نوجوان ہمیشہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا تھا۔ اس کی زبان تیز، لہجہ کاٹ دار اور رویہ ایسا تھا کہ جیسے دنیا کے سب لوگ اس سے کم تر ہوں۔ گھر میں والدین ہوں یا باہر بزرگ، کسی کی عزت کرنا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ اس کے نزدیک