منافع سے پہلے اعتماد کمائیں

وقاص بیگ شہر کے قدیم بازار میں حارث کی ایک بڑی دکان تھی۔ دُور دُور سے لوگ اس کے پاس خریداری کے لیے آتے تھے۔ ظاہری طور پر وہ نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور خوش لباس انسان تھا، مگر اس کی تجارت کی بنیاد ایک ایسی عادت پر قائم تھی جو آہستہ

قرض کی قیمت

وقاص بیگ شہر کے قدیم بازار میں وسیم نام کا شخص کاروبار کرتا تھا۔ لباس نفیس، گفتگو میٹھی اور چہرے پر ہر وقت مصنوعی مسکراہٹ سجی رہتی۔ جو اسے پہلی بار دیکھتا، یہی سمجھتا کہ اس سے زیادہ شریف آدمی شاید ہی کوئی ہو۔ مگر اس کی ایک عادت ایسی

موبائل بابا۔۔۔

وقاص بیگ شہر کے پرانے بازار میں ایک عجیب آدمی رہتا تھا۔ نام تو اس کا بشیر احمد تھا، لیکن پورا شہر اسے "موبائل بابا" کہتا تھا۔وجہ؟اس کے ہاتھ میں چوبیس گھنٹے موبائل رہتا تھا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی وہ پہلے اپنے بچوں کو نہیں، بلکہ فیس بک،

جھوٹے سیٹھ کے لیے عبرت ناک سبق

وقاص بیگ ایک گاؤں میں نثار نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ بہت چالاک سمجھا جاتا تھا، لیکن حقیقت میں اس کی چالاکی زیادہ تر دھوکے، جھوٹ اور لوگوں کو بے وقوف بنانے میں استعمال ہوتی تھی۔ گاؤں والے اسے مذاق میں "سیٹھ نثار" کہتے تھے، حالانکہ

سچے آنسو۔۔۔

وقاص بیگ شہر کے مصروف علاقے میں ایک شخص رہتا تھا، جس کا نام فرید تھا۔ بظاہر وہ خوش اخلاق، ہنس مکھ اور ملنسار نظر آتا تھا، مگر حقیقت اس کے چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ فرید کا کاروبار دھوکے، جھوٹ اور فریب پر قائم تھا۔ وہ لوگوں کی

جھوٹ کا دردناک انجام

وقاص بیگ شہر کے ایک مصروف علاقے میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام حماد تھا۔ حماد ذہین تھا، بات کرنے میں چالاک تھا اور لوگوں کو قائل کرنے کا فن بخوبی جانتا تھا۔ مگر اس کی ایک بڑی کمزوری تھی، وہ جھوٹ بولنے میں مہارت رکھتا تھا۔ شروع

مسیحا۔۔۔

وقاص بیگ ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں پہاڑوں کے دامن میں بسے ہوئے گھروں کی چھتیں مٹی سے بنی ہوئی تھیں اور سڑکیں کچی تھیں۔ اسی گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام احمد تھا۔ احمد بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد ایک مزدور

آخری روٹی

وقاص بیگ یخ بستہ رات تھی۔ شہر کی روشن سڑکوں پر گاڑیوں کا شور تھا، بازار جگمگا رہے تھے اور لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ انہی سڑکوں کے کنارے ایک بوڑھا شخص پھٹے ہوئے کپڑوں میں بیٹھا تھا۔ اس کا نام کریم بخش تھا۔ سفید بال، جھریوں

قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی

وقاص بیگ کراچی کی رات ہمیشہ کی طرح روشن تھی۔ بلند عمارتوں کی چمکتی کھڑکیاں، سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں، فوڈ اسٹریٹس کا شور اور ہر طرف زندگی کی بھاگ دوڑ۔ انہی روشنیوں کے درمیان گلشنِ اقبال کے ایک اپارٹمنٹ کی ساتویں منزل پر احسن اپنے گھر

اصل کامیابی۔۔۔

وقاص بیگ ریاض کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں ریت کے طوفان زندگی کا حصہ تھے اور خاموشی ہر گھر کی دیواروں میں بسی ہوئی تھی۔ اسی گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا سلمان۔ وہ بہت غریب تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی