مایوسی کے جنگل میں امید کا درخت

وقاص بیگ شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں اب پہلے جیسی گھنی نہیں رہی تھیں۔ کئی ٹہنیاں سوکھ چکی تھیں، تنے پر وقت کے نشان صاف دکھائی دیتے تھے، مگر اس درخت کے نیچے آج بھی لوگ کچھ دیر بیٹھتے، بچے کھیلتے اور

نئے صوبے: بہتر پاکستان کی جستجو

وقاص بیگ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی خوب صورتی صرف اس کے پہاڑوں، دریاؤں، صحراؤں اور سمندروں میں نہیں بلکہ اس کے مختلف علاقوں میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگی، ثقافت، زبان، روایات اور مسائل کے تنوع میں بھی پوشیدہ ہے۔ یہی تنوع

آزادی کا اصل قرض

وقاص بیگ یوم آزادی میں دو روز باقی تھے۔ شہر کی گلیوں میں سبز ہلالی پرچم ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہے تھے۔ کہیں بچوں کے ہاتھوں میں جھنڈیاں تھیں، کہیں گھروں کی چھتوں پر چراغاں کیا جارہا تھا اور کہیں دکانوں کے باہر سبز و سفید قمقمے

آخری ویڈیو

وقاص بیگ رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ شہر کی قریباً تمام دکانیں بند ہوچکی تھیں۔ سڑک پر ٹریفک کم تھا، لیکن موبائل فون کی اسکرینوں پر دنیا ابھی جاگ رہی تھی۔ ارسلان ایک چھوٹی سی چائے کی دکان کے باہر پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھا اپنے موبائل

آخری چابی

وقاص بیگ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں گررہی تھیں۔ شہر کے ایک چھوٹے سے محلے میں 45 سالہ عثمان اپنے ٹوٹے ہوئے دروازے کے سامنے بیٹھا تھا۔ چہرے پر تھکن، آنکھوں میں بے بسی اور دل میں سیکڑوں سوال تھے۔ ایک زمانہ تھا جب عثمان کی چھوٹی سی ورکشاپ

چراغ

وقاص بیگ پاکستان کے ایک دور افتادہ گاؤں میں اٹھارہ سالہ سلیم رہتا تھا۔ اس کا باپ مٹی کے برتن بناتا تھا اور ماں لوگوں کے گھروں میں سلائی کا کام کرتی تھی۔ گھر میں غربت تھی، لیکن ایک چیز کی کبھی کمی نہیں تھی، وہ تھی امید۔ گاؤں میں اکثر

کوشش ہی کامیابی ہے

وقاص بیگ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں برس رہی تھیں۔ شہر کی ایک تنگ گلی میں واقع چھوٹے سے کرائے کے کمرے میں ارسلان خاموش بیٹھا چھت کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے سامنے نوکریوں کے مسترد شدہ خطوط کا ڈھیر پڑا تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں وہ درجنوں

رشتے بچائیں، دنیا نہیں

وقاص بیگ فجر کی اذان ختم ہوئی تو پورا گاؤں ہلکی ہلکی روشنی میں نہارہا تھا۔ مسجد سے نمازی واپس آرہے تھے، لیکن آج احمد کے قدم مسجد سے گھر کی طرف نہیں، قبرستان کی طرف اٹھ رہے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا سا لفافہ تھا، جس کے کنارے وقت

نشے سے نجات کی داستان

وقاص بیگ رات کے دو بج رہے تھے۔ پورا محلہ سو چکا تھا، مگر ایک گھر میں اب بھی روشنی جل رہی تھی۔ وہ روشنی امید کی نہیں، بے بسی کی تھی۔ دروازے کے ساتھ بیٹھی ماں اپنے ہاتھوں میں تسبیح پکڑے بار بار ایک ہی دعا مانگ رہی تھی۔"یااللہ! میرا

پٹرول مافیا، ہوشیار باش!

وقاص بیگ کسی بھی ملک میں پٹرولیم مصنوعات محض ایک تجارتی شے نہیں ہوتیں بلکہ معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور روزمرہ زندگی کا قریباً ہر شعبہ ایندھن سے جڑا ہوا ہے۔