جب ظلم لوٹ کر واپس آتا ہے۔۔۔

وقاص بیگ شہر کے پرانے مگر خوبصورت علاقے میں ایک بڑا سا بنگلہ تھا۔ یہ بنگلہ کبھی ہنسی، محبت اور سکون کی مثال ہوا کرتا تھا۔ اس گھر میں ایک خوش حال خاندان رہتا تھا۔ ماں، باپ اور دو بچے۔ ہر شام گھر کے صحن میں چائے، قہقہے اور زندگی کی

زبان کے زخم

وقاص بیگ وہ نوجوان ہمیشہ خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا تھا۔ اس کی زبان تیز، لہجہ کاٹ دار اور رویہ ایسا تھا کہ جیسے دنیا کے سب لوگ اس سے کم تر ہوں۔ گھر میں والدین ہوں یا باہر بزرگ، کسی کی عزت کرنا اس نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ اس کے نزدیک

کامیابی کا سفر

وقاص بیگ چھوٹے سے گاؤں میں فیصل نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ اس کے والد ایک عام مزدور تھے اور ماں گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں مصروف رہتی۔ گاؤں والے اکثر کہتے، "تم جیسے لوگ بڑے خواب نہیں دیکھ سکتے۔" لیکن فیصل کے دل میں ایک چھوٹی سی

خود کی تلاش

وقاص بیگ شہر کی اونچی عمارتوں کے بیچ ایک پرانا سا فلیٹ تھا، جہاں زاہد اکیلا رہتا تھا۔ عمر قریباً چالیس سال کے قریب، مگر چہرہ 50 سال کے فرد سے بھی زیادہ تھکا ہوا لگتا تھا۔ آنکھوں میں نیند کم اور سوچ زیادہ رہتی تھی۔ زاہد کبھی ایک

ہزار دلوں کی روشنی

وقاص بیگ رمضان کا مہینہ شہر میں اپنی روشنیوں اور خوشبو کے ساتھ آیا تھا۔ عصر کے بعد ہی بازار کی رونق بڑھ جاتی، لوگ کھانے پینے کے سامان خریدنے میں مصروف اور بچے خوشی سے بھاگ دوڑ کررہے تھے۔ لیکن شہر کے ایک گوشے میں، گلیوں کی تاریکی

رحمتِ رمضان

وقاص بیگ رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں گزر رہی تھیں۔ شہر کی روشنیاں ان مبارک ساعتوں میں بھلی لگ رہی تھیں مگر ایک تنگ گلی کے آخری کچے دروازے کے پیچھے اندھیرا اپنی پوری خاموشی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اذانِ عشاء کی آواز فضا میں پھیلی تو

اندھیرے سے روشنی تک

وقاص بیگ عارف ایک تعلیم یافتہ، سمجھ دار اور باصلاحیت نوجوان تھا۔ اچھے گھرانے سے تعلق، مناسب نوکری، ماں باپ زندہ، مگر ایک کمی تھی، دل کا سکون۔ ابتدا میں دوستوں کی محفلیں، پھر سگریٹ، پھر شراب اور آہستہ آہستہ وہ نشے کی اُس اندھی گلی میں

حرام کا انجام

وقاص بیگ شہر کے ایک مصروف بازار میں یاسر کی دکان تھی۔ بظاہر وہ نہایت شریف، ملنسار اور دین دار دکھائی دیتا تھا۔ پیشانی پر سجدے کا نشان، زبان پر میٹھی باتیں اور ہاتھ میں تسبیح، لوگ اسے قابلِ اعتماد سمجھتے تھے۔ مگر اس ظاہری دین داری کے

صبر

وقاص بیگ یہ واقعہ برصغیر کے ایک چھوٹے سے قصبے کا ہے، جہاں وقت آہستہ آہستہ گزرتا تھا اور لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقف ہوا کرتے تھے۔ اسی قصبے میں ایک بزرگ رہتے تھے جنہیں سب حاجی صاحب پکارا کرتے تھے۔ حاجی صاحب نہ عالمِ دین تھے، نہ

جب وہ زندہ تھا تو ہم کہاں تھے؟

وقاص بیگ فجر کی اذان ہوچکی تھی مگر مسجد کے صحن میں ابھی اندھیرا ٹھہرا ہوا تھا۔صفوں کے آخر میں ایک آدمی بیٹھا تھا، نہ جوان، نہ بوڑھا۔ کپڑے صاف تھے مگر پرانے، آنکھوں میں نیند نہیں بلکہ برسوں کی تھکن تھی۔نماز شروع ہوئی۔ وہ شخص سجدے میں