اختیار عوام تک، نظام بدلنا ہوگا

وقاص بیگ پاکستان کو آج صرف معاشی استحکام کی نہیں، انتظامی تجدید کی بھی ضرورت ہے۔ یہ تجدید کسی صوبے، علاقے یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ اس سوال کا جواب ہے کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں ریاستی اختیار عام شہری تک کتنے مؤثر

نئے انتظامی یونٹس: فاصلے بدلنے ہوں گے

وقاص بیگ ریاست صرف سرحدوں، دارالحکومتوں اور سرکاری عمارتوں کا نام نہیں۔ ریاست دراصل اُس فاصلے کا نام بھی ہے جو ایک عام شہری اور اُس کے حق کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ اگر ایک شخص کو اپنے جائز کام کے لیے گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں کا سفر کرنا

آخری سیڑھی

وقاص بیگ شہر کے ایک پرانے محلے میں حامد نام کا بڑھئی رہتا تھا۔ اس کی چھوٹی سی دکان تھی۔ دکان کے باہر لکڑی کے ٹکڑے، پرانے دروازے اور مختلف اوزار بکھرے رہتے تھے۔ دکان اتنی چھوٹی تھی کہ دو آدمی اندر کھڑے ہوجاتے تو تیسرا دروازے پر رک

نئے صوبے: ریاست سے فاصلے کم کرنے کا سفر

وقاص بیگ کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا اندازہ اس کے بلند و بالا ایوانوں، وسیع شاہراہوں یا بڑے شہروں کی چمک دمک سے نہیں لگایا جاسکتا۔ ریاست کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب ایک عام شہری، جو اقتدار کے مراکز سے سیکڑوں میل دُور رہتا ہے،

نئے صوبے، نئی سمت کا سوال

وقاص بیگ پاکستان کی سیاست میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جو بار بار اٹھتے ہیں، دب جاتے ہیں، پھر کسی نئے واقعے کے بعد دوبارہ سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ نئے صوبوں کا سوال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہ محض انتظامی تقسیم کا مسئلہ نہیں، بلکہ ریاست اور

مایوسی کے جنگل میں امید کا درخت

وقاص بیگ شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک بوڑھا درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں اب پہلے جیسی گھنی نہیں رہی تھیں۔ کئی ٹہنیاں سوکھ چکی تھیں، تنے پر وقت کے نشان صاف دکھائی دیتے تھے، مگر اس درخت کے نیچے آج بھی لوگ کچھ دیر بیٹھتے، بچے کھیلتے اور

نئے صوبے: بہتر پاکستان کی جستجو

وقاص بیگ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی خوب صورتی صرف اس کے پہاڑوں، دریاؤں، صحراؤں اور سمندروں میں نہیں بلکہ اس کے مختلف علاقوں میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگی، ثقافت، زبان، روایات اور مسائل کے تنوع میں بھی پوشیدہ ہے۔ یہی تنوع

آزادی کا اصل قرض

وقاص بیگ یوم آزادی میں دو روز باقی تھے۔ شہر کی گلیوں میں سبز ہلالی پرچم ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہے تھے۔ کہیں بچوں کے ہاتھوں میں جھنڈیاں تھیں، کہیں گھروں کی چھتوں پر چراغاں کیا جارہا تھا اور کہیں دکانوں کے باہر سبز و سفید قمقمے

آخری ویڈیو

وقاص بیگ رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ شہر کی قریباً تمام دکانیں بند ہوچکی تھیں۔ سڑک پر ٹریفک کم تھا، لیکن موبائل فون کی اسکرینوں پر دنیا ابھی جاگ رہی تھی۔ ارسلان ایک چھوٹی سی چائے کی دکان کے باہر پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھا اپنے موبائل

آخری چابی

وقاص بیگ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں گررہی تھیں۔ شہر کے ایک چھوٹے سے محلے میں 45 سالہ عثمان اپنے ٹوٹے ہوئے دروازے کے سامنے بیٹھا تھا۔ چہرے پر تھکن، آنکھوں میں بے بسی اور دل میں سیکڑوں سوال تھے۔ ایک زمانہ تھا جب عثمان کی چھوٹی سی ورکشاپ