امن کا نیا موقع

اسد احمد مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست، جنگوں اور سفارتی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات بھی اسی خطے کے سب سے پیچیدہ تنازعات میں شمار ہوتے ہیں، جن کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ

ماہ صفر سے متعلق غلط فہمیاں اور توہمات

اسد احمد اسلام ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ہر قسم کی توہم پرستی، بے بنیاد عقائد اور جھوٹے خوف سے آزاد کرتا ہے۔ اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک اہم مہینہ صفر بھی ہے، جس کے بارے میں معاشرے میں مختلف قسم کی غلط فہمیاں اور

جنگ نہیں، امن چاہیے

اسد احمد دنیا ایک بار پھر اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، اسلحے اور جنگی حکمتِ عملی کو سفارت کاری، مذاکرات اور دانش مندی پر ترجیح دی جارہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، فضائی حملے، ڈرون کارروائیاں، فوجی اڈوں کو

شہدا کی عظمت اور قومی شعور کا تقاضا

اسد احمد قوموں کی تاریخ میں کچھ اقدار ایسی ہوتی ہیں جو سیاسی اختلافات، نظریاتی تقسیم اور وقتی مفادات سے کہیں بلند مقام رکھتی ہیں۔ وطن پر جان نچھاور کرنے والے شہدا انہی مقدس اقدار میں شامل ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی کا چراغ اس لیے

دولت سے زیادہ قیمتی رشتے

اسد احمد بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں اسپتال کی کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ کمرہ نمبر 17 میں 60 سالہ رئیس علی خاموشی سے بستر پر لیٹا چھت کو دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر چند گھنٹے پہلے ہی بتاچکے تھے کہ اس کے پاس زندگی کے شاید چند دن ہی باقی ہیں۔ رئیس

عقل مند تاجر اور درویش

اسد احمد بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ عرب کے ایک سرسبز شہر میں، جہاں کھجوروں کے باغ ہوا کے ساتھ جھومتے تھے اور بازاروں میں خوشبوؤں کی مہک پھیلی رہتی تھی، ایک نہایت امیر تاجر رہتا تھا۔ اس کا نام عبدالرحمٰن تھا۔ اس کے پاس اونٹوں کے

مفت مشوروں کا بادشاہ

اسد احمد شہر کے ایک محلے میں نثار احمد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ محلے والے اسے "پروفیسر صاحب" کہتے تھے، حالانکہ اُس نے زندگی میں کبھی کسی کالج کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ اُسے ہر معاملے میں مشورہ دینے کا شوق تھا۔ کوئی

اندھیروں سے اجالوں تک

اسد احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں شہزاد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ اگر کوئی اس کے ماضی کو جانتا تو شاید اس کے قریب کھڑے ہونے سے بھی گریز کرتا۔ جھوٹ، دھوکا، سود، رشوت، لوگوں کا حق مارنا، کمزوروں کا استحصال کرنا اور اپنی خواہشات کے لیے

علم کا معجزہ۔۔۔

اسد احمد گاؤں کے کچے راستوں پر چلتے ہوئے اکثر لوگ ایک نوجوان کو دیکھتے تھے جو ہر روز صبح سویرے مزدوری کے لیے نکلتا اور رات گئے تھکا ہارا واپس آتا تھا۔ اس نوجوان کا نام یاسر تھا۔ اس کے چہرے پر محنت کی تھکن تو ہوتی تھی، مگر آنکھوں میں

دل کی نرمی

اسد احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام سلیم تھا۔ لوگ اُسے کامیاب آدمی کہتے تھے۔ اس کی اپنی دکان تھی، اچھا گھر تھا، بینک بیلنس تھا اور معاشرے میں عزت بھی تھی۔ لیکن اگر کوئی اس کے دل کے اندر جھانکتا تو اسے معلوم