اندھیروں سے اجالوں تک

اسد احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں شہزاد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ اگر کوئی اس کے ماضی کو جانتا تو شاید اس کے قریب کھڑے ہونے سے بھی گریز کرتا۔ جھوٹ، دھوکا، سود، رشوت، لوگوں کا حق مارنا، کمزوروں کا استحصال کرنا اور اپنی خواہشات کے لیے

علم کا معجزہ۔۔۔

اسد احمد گاؤں کے کچے راستوں پر چلتے ہوئے اکثر لوگ ایک نوجوان کو دیکھتے تھے جو ہر روز صبح سویرے مزدوری کے لیے نکلتا اور رات گئے تھکا ہارا واپس آتا تھا۔ اس نوجوان کا نام یاسر تھا۔ اس کے چہرے پر محنت کی تھکن تو ہوتی تھی، مگر آنکھوں میں

دل کی نرمی

اسد احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام سلیم تھا۔ لوگ اُسے کامیاب آدمی کہتے تھے۔ اس کی اپنی دکان تھی، اچھا گھر تھا، بینک بیلنس تھا اور معاشرے میں عزت بھی تھی۔ لیکن اگر کوئی اس کے دل کے اندر جھانکتا تو اسے معلوم

نیکی کبھی نہیں مرتی

اسد احمد شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ گلی تھی، جہاں ایک چھوٹا سا مکان وقت کی مار سہتے سہتے بوڑھا ہوچکا تھا۔ اسی مکان میں حاجی عبدالرحمٰن رہتے تھے۔ سفید داڑھی، کمزور جسم اور چہرے پر برسوں کی محنت کے نشانات۔ محلے والے انہیں ایک عزت

وہ کامیاب تو ہوگیا مگر۔۔۔۔

اسد احمد وہ لڑکا روز صبح سب سے پہلے اٹھتا تھا… نہ اس لیے کہ اُسے زندگی سے بہت محبت تھی، بلکہ اس لیے کہ اگر وہ دیر سے جاگتا، تو گھر میں چولہا ٹھنڈا رہ جاتا۔اس کی عمر کھیلنے کی تھی مگر اُس کے ہاتھوں میں کھلونوں کی جگہ ذمے داریاں تھیں۔

معرکۂ حق: عسکری کامیابی سے قومی وقار تک

اسد احمد معرکۂ حق اور آپریشن “بُنیان المرصوص” کی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر پورے ملک میں یومِ تشکر منایا گیا۔ یہ صرف ایک عسکری کامیابی کی سالگرہ نہیں بلکہ قومی وحدت، عسکری مہارت، سیاسی قیادت اور عوامی جذبے کے اظہار کا دن بھی

خواب یا حقیقت

اسد احمد استنبول کی بارش ہمیشہ عجیب ہوتی ہے… جیسے آسمان بھی کسی کی کہانی سن کر رو رہا ہو۔بوسفورس کے کنارے ایک لڑکا روز بیٹھا کرتا تھا۔ نام تھا حمزہ۔ ہاتھ میں پرانی سی ڈائری، آنکھوں میں خواب… اور دل میں ایک ایسا درد جسے وہ کسی کو بتا

تاریکی سے سچائی تک

اسد احمد ایک نوجوان زین اکثر جھوٹ بولنے کی عادت کا شکار رہتا۔ چھوٹے چھوٹے جھوٹ سے شروع ہوا معاملہ جلد ہی ایک عادت بن گیا۔ دفتر میں وقتی فائدہ حاصل کرنے کے لیے، دوستوں کے سامنے اپنی تصویر بہتر دکھانے کے لیے اور کبھی کبھار خطرناک

ایک خاموش قربانی

اسد احمد وہ سردیوں کی ایک خاموش صبح تھی۔ لاہور کی پرانی گلیوں میں دھند ایسی چھائی ہوئی تھی جیسے وقت بھی تھم گیا ہو۔ اسی گلی کے آخر میں ایک چھوٹا سا مکان تھا، جس کی دیواریں پرانی ضرور تھیں مگر اندر ایک انمول رشتہ سانس لے رہا تھا، ماں

بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک

اسد احمد ایک بڑے شہر کے مصروف علاقے میں ایک درمیانی عمر کا شخص، سلیم، اپنی روزمرہ زندگی میں اتنا الجھا ہوا تھا کہ اسے کسی کے جذبات یا حالات پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں تھی۔ نوکری، گھر کی ذمے داریاں اور مسلسل دوڑ دھوپ نے اسے ایک ایسا