دولت سے زیادہ قیمتی رشتے

اسد احمد بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں اسپتال کی کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ کمرہ نمبر 17 میں 60 سالہ رئیس علی خاموشی سے بستر پر لیٹا چھت کو دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر چند گھنٹے پہلے ہی بتاچکے تھے کہ اس کے پاس زندگی کے شاید چند دن ہی باقی ہیں۔ رئیس

عقل مند تاجر اور درویش

اسد احمد بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ عرب کے ایک سرسبز شہر میں، جہاں کھجوروں کے باغ ہوا کے ساتھ جھومتے تھے اور بازاروں میں خوشبوؤں کی مہک پھیلی رہتی تھی، ایک نہایت امیر تاجر رہتا تھا۔ اس کا نام عبدالرحمٰن تھا۔ اس کے پاس اونٹوں کے

مفت مشوروں کا بادشاہ

اسد احمد شہر کے ایک محلے میں نثار احمد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ محلے والے اسے "پروفیسر صاحب" کہتے تھے، حالانکہ اُس نے زندگی میں کبھی کسی کالج کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ اُسے ہر معاملے میں مشورہ دینے کا شوق تھا۔ کوئی

اندھیروں سے اجالوں تک

اسد احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں شہزاد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ اگر کوئی اس کے ماضی کو جانتا تو شاید اس کے قریب کھڑے ہونے سے بھی گریز کرتا۔ جھوٹ، دھوکا، سود، رشوت، لوگوں کا حق مارنا، کمزوروں کا استحصال کرنا اور اپنی خواہشات کے لیے

علم کا معجزہ۔۔۔

اسد احمد گاؤں کے کچے راستوں پر چلتے ہوئے اکثر لوگ ایک نوجوان کو دیکھتے تھے جو ہر روز صبح سویرے مزدوری کے لیے نکلتا اور رات گئے تھکا ہارا واپس آتا تھا۔ اس نوجوان کا نام یاسر تھا۔ اس کے چہرے پر محنت کی تھکن تو ہوتی تھی، مگر آنکھوں میں

دل کی نرمی

اسد احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام سلیم تھا۔ لوگ اُسے کامیاب آدمی کہتے تھے۔ اس کی اپنی دکان تھی، اچھا گھر تھا، بینک بیلنس تھا اور معاشرے میں عزت بھی تھی۔ لیکن اگر کوئی اس کے دل کے اندر جھانکتا تو اسے معلوم

نیکی کبھی نہیں مرتی

اسد احمد شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ گلی تھی، جہاں ایک چھوٹا سا مکان وقت کی مار سہتے سہتے بوڑھا ہوچکا تھا۔ اسی مکان میں حاجی عبدالرحمٰن رہتے تھے۔ سفید داڑھی، کمزور جسم اور چہرے پر برسوں کی محنت کے نشانات۔ محلے والے انہیں ایک عزت

وہ کامیاب تو ہوگیا مگر۔۔۔۔

اسد احمد وہ لڑکا روز صبح سب سے پہلے اٹھتا تھا… نہ اس لیے کہ اُسے زندگی سے بہت محبت تھی، بلکہ اس لیے کہ اگر وہ دیر سے جاگتا، تو گھر میں چولہا ٹھنڈا رہ جاتا۔اس کی عمر کھیلنے کی تھی مگر اُس کے ہاتھوں میں کھلونوں کی جگہ ذمے داریاں تھیں۔

معرکۂ حق: عسکری کامیابی سے قومی وقار تک

اسد احمد معرکۂ حق اور آپریشن “بُنیان المرصوص” کی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر پورے ملک میں یومِ تشکر منایا گیا۔ یہ صرف ایک عسکری کامیابی کی سالگرہ نہیں بلکہ قومی وحدت، عسکری مہارت، سیاسی قیادت اور عوامی جذبے کے اظہار کا دن بھی

خواب یا حقیقت

اسد احمد استنبول کی بارش ہمیشہ عجیب ہوتی ہے… جیسے آسمان بھی کسی کی کہانی سن کر رو رہا ہو۔بوسفورس کے کنارے ایک لڑکا روز بیٹھا کرتا تھا۔ نام تھا حمزہ۔ ہاتھ میں پرانی سی ڈائری، آنکھوں میں خواب… اور دل میں ایک ایسا درد جسے وہ کسی کو بتا