نئے انتظامی یونٹس، بہتر پاکستان

اسد احمد پاکستان آج ایک ایسے انتظامی موڑ پر کھڑا ہے جہاں پرانے سوالات کے ساتھ ایک نیا سوال بھی پوری شدت سے سامنے آرہا ہے: اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہورہا ہے تو کیا بہتری کے لیے نئے راستے

اختیار کا فاصلہ

اسد احمد پاکستان میں حکمرانی کا ایک بڑا مسئلہ شاید وسائل کی کمی سے زیادہ اختیار کا فاصلہ ہے۔ عام شہری اور فیصلہ کرنے والے ادارے کے درمیان جتنا زیادہ فاصلہ ہوگا، اُتنا ہی مسئلہ سمجھنے، فیصلہ کرنے اور اس پر عمل درآمد میں وقت لگے گا۔

اختیار عوام تک، نئے صوبے ضروری

اسد احمد پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کو جذبات اور سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ نئے صوبوں کا بنیادی تصور دراصل یہ ہونا چاہیے کہ ریاستی نظام کو اس طرح منظم کیا جائے کہ عوام تک حکومت، سہولت،

جشنِ میلاد النبی ﷺ: فکر، عمل اور تجدید

اسد احمد 12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے محبت، شکر، امید اور کردار کی تجدید کا موقع ہے۔ بارہ ربیع الاول کے موقع پر گلیاں درود و سلام، چراغاں اور خوشیوں سے سجی ہوں گی تو اصل سوال یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بھی اس نور کے استقبال کے

رحمتِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن دنیا

اسد احمد ربیع الاول وہ مبارک مہینہ ہے، جس سے وابستہ سب سے عظیم یاد دنیا کی اس ہستی کی تشریف آوری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کے بارے میں فرمایا (ترجمہ): ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے

نئے صوبے: بہتر حکمرانی کی جانب قدم

اسد احمد پاکستان ایک وسیع جغرافیے، مختلف تہذیبی رنگوں، بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتی ہوئی معاشی ضروریات کا ملک ہے۔ وقت کے ساتھ ہماری آبادی میں اضافہ ہوا، شہر پھیل گئے، نئے شہری مراکز وجود میں آئے اور عوام کی ضروریات پہلے سے کہیں زیادہ

امید کا چراغ

اسد احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں حامد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ عمر تقریباً پچاس برس تھی، مگر حالات نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ وہ سڑک کنارے ٹھیے پر موچی کا کام کرتا، لوگوں کے جوتے مرمت کرتا اور جو کچھ کماتا، اسی سے گھر کا

کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟

اسد احمد پاکستان ایسا ملک ہے جہاں آبادی میں مسلسل اضافہ، شہری پھیلاؤ، انتظامی ضروریات اور معاشی سرگرمیوں کی بدلتی ہوئی صورت حال نے حکمرانی کے روایتی طریقۂ کار پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ملک میں نئے صوبے بنانے کی

آزادی کا اصل مطلب

اسد احمد 14 اگست آنے میں صرف تین دن باقی تھے۔ پورا شہر سبز و سفید جھنڈیوں، قمقموں اور قومی پرچموں سے سج چکا تھا۔ بازاروں میں رش تھا، بچے ہاتھوں میں جھنڈیاں لیے گھوم رہے تھے، دکانوں سے ملی نغموں کی آوازیں آرہی تھیں اور ہر طرف جشنِ

مایوسی سے کامیابی تک کا سفر

اسد احمد شہر کے مصروف ترین علاقے میں ایک چھوٹی سی گھڑیوں کی دکان تھی۔ دکان کا مالک پچاس سالہ حارث تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے ہاتھوں میں جادو ہے۔ برسوں پرانی، بند پڑی گھڑیاں بھی اس کے ہاتھ لگتے ہی دوبارہ چلنے لگتیں۔ لیکن عجیب بات یہ