جشنِ میلاد النبی ﷺ: فکر، عمل اور تجدید

اسد احمد

12 ربیع الاول مسلمانوں کے لیے محبت، شکر، امید اور کردار کی تجدید کا موقع ہے۔ بارہ ربیع الاول کے موقع پر گلیاں درود و سلام، چراغاں اور خوشیوں سے سجی ہوں گی تو اصل سوال یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بھی اس نور کے استقبال کے لیے کتنا تیار کیا ہے۔ جشنِ آمدِ رسول ﷺ کی حقیقی روح محض چراغاں، جلوس، محفل اور نعت تک محدود نہیں، یہ اس عظیم ہستی کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا عہد ہے جنہوں نے انسان کو عزت، کمزور کا حق، پڑوسی کا احترام اور سچائی کی طاقت سکھائی۔ رسول اکرم ﷺ کی آمد ایسے ماحول میں ہوئی جب معاشرہ ظلم، جہالت، ناانصافی اور تعصب میں گھرا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے پوری انسانیت کو مخاطب کیا اور بتایا کہ عزت دولت، طاقت یا رنگ سے نہیں بلکہ تقویٰ، کردار اور اچھے عمل سے ہے۔ اسی لیے میلاد النبی ﷺ کا جشن ماضی کی عظیم یاد کے ساتھ مستقبل کا راستہ متعین کرنے کا موقع بھی ہے۔
آج ہمارے اردگرد معاشی پریشانی، مہنگائی، بے روزگاری، جھوٹ، ملاوٹ، سفارش، رشوت، عدم برداشت اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایسے حالات میں سیرتِ رسول ﷺ ہمارے لیے عملی زندگی کا دستور ہے۔ اگر جشنِ آمدِ رسول ﷺ کے موقع پر ہم ایک جھوٹ چھوڑ دیں، کسی کا حق ادا کردیں، ضرورت مند کی مدد کریں، والدین کے ساتھ نرمی کریں یا کسی ناراض شخص کو معاف کردیں تو یہ عمل ہزار چراغوں سے زیادہ روشن ہوسکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا نمایاں پہلو رحمت ہے۔ قرآن کریم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔ اس رحمت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے رویے میں نرمی پیدا کرے۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں اختلاف رائے چند لمحوں میں دشمنی بن جاتا ہے، معمولی بات پر زبان تلخ ہوجاتی ہے اور ایک دوسرے کی عزت مجروح کرنا آسان سمجھا جاتا ہے۔ جشنِ میلاد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ ہماری زبان سے خیر نکلے، ہمارے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور ہمارے رویے سے امن کو فروغ ملے۔
آپ ﷺ نے معاشرے کے کمزور طبقات کو خاص اہمیت دی۔ یتیم، مسکین، بیوہ، مسافر اور ضرورت مند آپ ﷺ کی توجہ سے محروم نہیں رہتے تھے۔ آج بارہ ربیع الاول کے موقع پر اگر ہر صاحبِ استطاعت شخص اپنے محلے کے کسی مستحق گھرانے کا سہارا بن جائے تو جشن کی خوشی ایک حقیقی سماجی خدمت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ کسی بچے کی فیس ادا کرنا، کسی مریض کی دوا خریدنا، کسی غریب کے گھر راشن پہنچانا یا کسی بے سہارا خاندان کی عزتِ نفس برقرار رکھتے ہوئے مدد کرنا سیرتِ طیبہ سے محبت کا خوبصورت اظہار ہے۔
جشنِ آمدِ رسول ﷺ ہمیں نوجوان نسل کے بارے میں سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمارے بچے ایسے دور میں بڑے ہورہے ہیں جہاں معلومات بہت ہیں مگر رہنمائی کم ہے۔ انہیں سیرتِ رسول ﷺ صرف تقریروں اور نصابی ابواب کے ذریعے نہیں بلکہ کردار کے نمونے سے سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اگر والدین سچ بولیں، استاد انصاف کرے، تاجر دیانت اختیار کرے، افسر ذمے داری نبھائے اور بااثر افراد قانون اور اخلاق کا احترام کریں تو نئی نسل خود سیکھے گی کہ رسول اکرم ﷺ کی محبت زندگی میں کیسے ظاہر ہوتی ہے۔
اس مبارک دن کا ایک اہم پیغام اتحاد ہے۔ امت کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، مگر رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس وہ مرکز ہے جس کے گرد محبت کے رشتے مضبوط ہوسکتے ہیں۔ ہمیں اختلاف کو دشمنی نہیں بنانا چاہیے۔ مسلکی، سیاسی، لسانی اور علاقائی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کرنا، مقدسات کا احترام کرنا اور امن قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جشنِ میلاد کا نور تب زیادہ نمایاں ہوگا جب ہماری محفلوں کے ساتھ ہمارے دل بھی روشن ہوں گے اور رویوں میں برداشت پیدا ہوگی۔
بارہ ربیع الاول کے اجتماعات میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوں گی، نعت خواں آقائے دو جہاں ﷺ کی شان بیان کریں گے، گھروں اور بازاروں کو سجایا جائے گا اور لوگ خوشی کا اظہار کریں گے۔ یہ محبت کے مظاہر ہیں، مگر تکمیل عمل سے ہوتی ہے۔ اگر محفل ختم ہونے کے بعد وہی شخص دوبارہ جھوٹ بولے، کمزور کا حق دبائے، کاروبار میں دھوکا دے، والدین کو دکھ پہنچائے یا پڑوسی کو تکلیف دے تو اسے اپنے جشن کی روح پر غور کرنا چاہیے۔ محبت صرف زبان کا دعویٰ نہیں، کردار کی گواہی بھی مانگتی ہے۔
جشنِ آمدِ رسول ﷺ دراصل دل کی صفائی کا موسم بھی ہے۔ ہمیں اپنے اندر کے تکبر، حسد، بغض، لالچ اور انتقام کو پہچاننا ہوگا۔ اگر ہم دوسروں کی خوشی سے خوش ہونا، معافی مانگنا، معاف کرنا، وعدہ پورا کرنا اور امانت کی حفاظت سیکھ لیں تو ہماری زندگی میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا نور اتر سکتا ہے۔ یہ تبدیلی کسی بڑے اعلان کی محتاج نہیں، ایک گھر سے شروع ہوکر پورے معاشرے تک پہنچ سکتی ہے۔
کل بارہ ربیع الاول ہے۔ آئیے اس دن کو صرف کیلنڈر کی تاریخ نہ بننے دیں۔ اپنے گھر میں درود و سلام کی محفل سجائیں، سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں، بچوں کو آپ ﷺ کی زندگی کے روشن واقعات سنائیں اور کسی مستحق کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئیں۔ عہد کریں کہ ہم جھوٹ سے بچیں گے، حقوق العباد کا خیال رکھیں گے، محبت پھیلائیں گے اور اختلاف کے باوجود دوسروں کی عزت کریں گے۔
رسول اکرم ﷺ کی آمد نے تاریخ کا رخ بدل دیا تھا، اب ہماری باری ہے کہ ہم اپنی زندگی کا رخ بدلیں۔ یہی بارہ ربیع الاول کی خوشی ہوسکتی ہے کہ ہمارے گھروں کی روشنی کے ساتھ کردار بھی روشن ہوں، زبان پر درود کے ساتھ اخلاق ہوں اور محبت کے ساتھ انسانیت کے لیے رحمت بھی ہو۔ اگر ایسا ہوگیا تو جشنِ آمدِ رسول ﷺ دن کی تقریب نہیں رہے گا بلکہ پوری زندگی کے لیے روشنی کا سفر بن جائے گا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔