نظام کا رونا کب تک؟

دانیال جیلانی

پاکستان آج جن بڑے مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مؤثر اور عوام دوست طرز حکمرانی کا بھی ہے۔ برسوں سے ہم مختلف اداروں کی کمزوری، انتظامی رکاوٹوں، بیوروکریسی کی سست روی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور عوام کو درپیش مشکلات کا رونا روتے آرہے ہیں مگر بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: آخر کب تک ہم نظام کی خامیوں کا ماتم کرتے رہیں گے؟ نظام کو بدلنے کے بارے میں سنجیدگی سے کب سوچیں گے؟
پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں پیش آنے والا الم ناک واقعہ، جس میں نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، پوری قوم کے لیے انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک ہے۔ ایسے واقعات کے بعد عموماً تحقیقات، معطلیاں، انکوائریاں اور بیانات سامنے آتے ہیں، لیکن اصل ضرورت اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ہے کہ آخر ایسے سانحات کی بنیادی وجوہ کیا ہیں اور انہیں مستقل طور پر کیسے روکا جاسکتا ہے؟ ہر سانحے کے بعد صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ایسا نظام کب قائم ہوگا جس میں غفلت، کمزور نگرانی اور انتظامی بے ترتیبی کے لیے کوئی گنجائش نہ ہو؟ پمز کا واقعہ کسی ایک ادارے تک محدود کرکے دیکھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ یہ ہمیں مجموعی انتظامی ڈھانچے پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ایک عام شہری کو بنیادی سہولت کے حصول کے لیے طویل انتظار، پیچیدہ دفتری مراحل اور دور دراز مراکز کا سامنا کرنا پڑے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا موجودہ انتظامی تقسیم وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں اور چھوٹی انتظامی اکائیوں کی بحث اہم ہوجاتی ہے۔
نئے صوبوں کا مطالبہ کسی علاقے کے خلاف نہیں، کسی زبان یا قومیت کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا ہے۔ اس مطالبے کی بنیاد انتظامی سہولت، بہتر حکمرانی، وسائل تک منصفانہ رسائی اور عوام کو اقتدار کے مراکز کے قریب لانے کی ضرورت پر ہے۔ پاکستان کے بڑے صوبوں کی آبادی، جغرافیہ اور مسائل میں بہت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے۔ ایک ہی انتظامی مرکز سے وسیع و عریض علاقوں کے مسائل کو یکساں توجہ کے ساتھ حل کرنا آسان نہیں۔ دوردراز علاقوں کے شہری اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی ان کی روزمرہ ضروریات سے بہت دُور ہے۔ اگر انتظامی اکائیاں نسبتاً چھوٹی ہوں، اختیارات مقامی سطح تک منتقل ہوں اور افسران اپنے علاقوں کے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں تو مسائل کے حل کی رفتار بہتر ہوسکتی ہے۔
سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ عوام کو بہتر حکمرانی کیسے دی جائے؟ اگر موجودہ ڈھانچہ عوام کی ضرورت پوری کرنے میں ناکام ہے تو اس میں اصلاح کیوں نہ کی جائے؟ اگر نئے انتظامی یونٹس سے سرکاری اداروں کی نگرانی بہتر ہوسکتی ہے، فیصلے جلد ہوسکتے ہیں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سہولت پہنچ سکتی ہے، تو اس تجویز پر سنجیدہ بحث کیوں نہ کی جائے؟
دنیا بھر میں انتظامی ڈھانچے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ریاستیں اپنی آبادی، جغرافیہ اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئے یونٹس بناتی ہیں۔ پاکستان بھی اگر اپنے مسائل کا پائیدار حل چاہتا ہے تو اسے جذباتی مخالفت کے بجائے دلیل، اعداد و شمار اور عوامی مفاد کی بنیاد پر اس معاملے کا جائزہ لینا ہوگا۔
نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ صرف نقشے پر نئی حد بندی کافی نہیں ہوگی۔ اختیارات اور وسائل کی حقیقی منتقلی، مضبوط بلدیاتی نظام، میرٹ پر تقرریاں، پیشہ ورانہ قیادت، شفاف نگرانی، لازمی سیفٹی آڈٹس اور کارکردگی کی بنیاد پر جواب دہی بھی ضروری ہے۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو نئی اکائی بھی پرانے مسائل کا شکار ہوسکتی ہے۔ اسی لیے نئے صوبوں کی بحث دراصل نئے طرز حکمرانی کی بحث ہونی چاہیے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ غریب آدمی کے لیے حکومت کا مطلب صرف اسمبلی، وزارت یا سیکریٹریٹ نہیں۔ اس کے لیے حکومت وہ ہے جو اسے بروقت علاج دے، اس کے بچوں کو تعلیم دے، اس کی جان و مال کی حفاظت کرے، اس کے روزگار میں آسانی پیدا کرے اور اس کی شکایت پر فوری کارروائی کرے۔
اگر حکومت عوام کے قریب ہوگی تو جواب دہی بھی زیادہ ہوگی۔ جب اختیار دور ہوگا تو عام شہری کی آواز بھی کمزور ہوجاتی ہے۔ چھوٹی انتظامی اکائیاں اس فاصلے کو کم کرسکتی ہیں۔ پمز کا سانحہ ہمیں ایک بنیادی سبق دیتا ہے: صرف نظام کا رونا کافی نہیں، نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہر سانحے کے بعد چند دن افسوس، چند بیانات اور چند انکوائریاں کرکے معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ان خامیوں کو تلاش کرنا ہوگا جو بار بار حادثات اور انتظامی ناکامیوں کو جنم دیتی ہیں۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جو سانحے کے بعد جاگنے کے بجائے سانحہ ہونے سے پہلے خطرے کو محسوس کرلے۔
نئے صوبے کوئی جادوئی نسخہ نہیں، لیکن بہتر نظام کی طرف ایک اہم قدم ضرور ہوسکتے ہیں۔ اس لیے اس مطالبے کو سیاسی نعروں کی عینک سے دیکھنے کے بجائے عوامی سہولت اور قومی مفاد کے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں، دانش ور، ماہرینِ انتظامیہ اور سول سوسائٹی مل بیٹھیں اور طے کریں کہ پاکستان کے عوام کو زیادہ مؤثر حکمرانی کیسے فراہم کی جاسکتی ہے۔ اگر نئے صوبے اس مقصد میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں تو پھر اس تجویز پر سنجیدہ، کھلے اور غیر جانب دارانہ انداز میں غور ہونا چاہیے۔ قوم کو صرف یہ سننے کی ضرورت نہیں کہ نظام خراب ہے، قوم یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ نظام کب بدلے گا۔
پمز جیسے سانحات ہمیں جھنجھوڑتے اور یاد دلاتے ہیں کہ اصلاحات کو مزید مؤخر کرنے کی گنجائش نہیں۔ ہمیں ایسا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا جو عوام کے مسائل کو سمجھے، بروقت فیصلے کرے اور ہر سطح پر جواب دہ ہو۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سوال سے آگے بڑھ کر حل تلاش کریں۔ نظام کا رونا کب تک رہے گا؟ نظام بدلا جائے، انتظامی اکائیاں مؤثر بنائی جائیں اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے سوچا جائے۔ یہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔