نئے انتظامی یونٹس اور عوام

رفاقت علی پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث کوئی نئی بات نہیں، لیکن اس بحث کو عموماً سیاسی مفادات، لسانی حساسیت اور صوبائی تعصب کے چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک اہم انتظامی مسئلہ بھی سیاسی نعرے میں تبدیل ہوجاتا

نئے انتظامی یونٹس، فیصلہ کیوں ضروری؟

رفاقت علی پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کررہی ہے۔ کوئی اسے سیاسی ضرورت قرار دے رہا ہے، کوئی انتظامی مجبوری، کوئی اسے وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ سمجھتا ہے تو کوئی اسے سیاسی مفادات سے جوڑ کر دیکھتا

نئے صوبے اور ریاست کی رفتار

رفاقت علی ریاستی نظام میں وقت بھی ایک سرمایہ ہوتا ہے۔ جس شہری کو ایک معمولی کام کے لیے کئی دن دفتر در دفتر بھٹکنا پڑے، جس ضلع کی فائل فیصلہ ہونے تک مہینوں میزوں پر گردش کرتی رہے اور جس علاقے میں ہنگامی صورتحال کا جواب مرکز تک پہنچتے

نئے صوبے، امید کے نئے دروازے

رفاقت علی کبھی کبھی کسی بڑے مسئلے کا حل کسی بڑے نعرے میں نہیں، ایک چھوٹی سی خواہش میں چھپا ہوتا ہے۔ ایسی خواہش جو ایک ماں اپنے دل میں لیے اپنے بچے کو اسکول بھیجتی ہے، ایک کسان اپنی فصل کے ساتھ لیے بازار جاتا ہے اور ایک نوجوان اپنے

نئے صوبے: نئے پاکستان کی بنیاد

رفاقت علی پاکستان کی تاریخ میں کچھ سوال ایسے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید اہم ہوتے جاتے ہیں۔ نئے صوبوں کا سوال بھی انہی میں سے ایک ہے۔ اس موضوع پر بات ہوتے ہی عموماً بحث اس بات تک محدود ہوجاتی ہے کہ کون سا علاقہ

نئے صوبے: عوامی سہولت یا سیاسی ضرورت؟

رفاقت علی پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں کی بات ہوتی ہے تو بحث فوراً سیاست، لسانی شناخت، علاقائی تعصب اور اقتدار کی تقسیم کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نئے صوبے بنانے کا مطالبہ صرف چند سیاسی قوتوں کا ایجنڈا ہو، لیکن