نئے صوبے اور عوام کی تقدیر

دانیال جیلانی

نقشے پر کھینچی ہوئی لکیریں کسی ریاست کا جغرافیہ تو متعین کرسکتی ہیں، مگر اس کے شہریوں کی قسمت نہیں لکھ سکتیں۔ قسمت اس وقت بدلتی ہے جب ریاست اپنے شہری کے دروازے تک پہنچتی ہے، جب ایک بیمار کو علاج کے لیے شہر در شہر نہ بھٹکنا پڑے، جب ایک نوجوان کو روزگار کے لیے اپنا گھر اور علاقہ نہ چھوڑنا پڑے، جب ایک طالب علم کے خواب تک پہنچنے کے راستے میں انتظامی رکاوٹیں دیوار نہ بن جائیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث محض سیاسی نعرہ نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ قومی سوال بن جاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ نقشے پر ایک نئی لکیر کھینچ دی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ پاکستان کے ہر شہری کو یکساں سہولت، مؤثر حکمرانی اور بروقت انصاف فراہم کرنے کے قابل ہے؟ اگر جواب ہاں ہے تو بحث ختم کردیجیے۔ لیکن اگر جواب نہیں ہے تو پھر اصلاح سے خوف کیسا؟
پاکستان ایک وسیع و عریض ملک ہے۔ اس کے صوبوں کے اندر ایسے وسیع علاقے موجود ہیں جہاں ایک شہری کو صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ ایک معمولی سرکاری کام بھی ایک طویل سفر بن جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت کا تصور عوام کے لیے قربت کے بجائے فاصلے کی علامت بن جاتا ہے۔ریاست کا حُسن یہ نہیں کہ اس کا دارالحکومت کتنا شاندار ہے، ریاست کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ اس کا دور افتادہ شہری خود کو کتنا اہم محسوس کرتا ہے۔
نئے صوبوں کی بحث اسی احساسِ محرومی کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صوبہ کسی قوم، زبان، علاقے یا طبقے کی جاگیر نہیں۔ صوبہ ایک انتظامی اکائی ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت، وسائل کی بہتر تقسیم اور حکمرانی کو مؤثر بنانا ہے۔ اگر کسی انتظامی اکائی کا حجم اتنا بڑھ جائے کہ اس کے دُور افتادہ علاقوں تک ریاستی سہولتوں کی رسائی مشکل ہوجائے تو اس ڈھانچے پر نظرثانی کرنا دانش مندی ہے، جرم نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنے انتظامی نقشے تبدیل کیے۔ نئی اکائیاں بنیں، پرانی تقسیم میں تبدیلی آئی، اختیارات منتقل ہوئے اور انتظامی نظام کو عوامی ضرورت کے مطابق ڈھالا گیا۔ کسی بھی زندہ معاشرے میں انتظامی ڈھانچہ پتھر پر لکھی ہوئی تحریر نہیں ہوتا۔ تو پھر پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال اٹھتے ہی بعض حلقوں کے لہجے میں اتنی تلخی کیوں پیدا ہوجاتی ہے؟
کیا ہر نئی تجویز موجودہ نظام کے خلاف بغاوت ہے؟ کیا اصلاح کا مطالبہ انتشار ہے؟ کیا عوام کے قریب حکومت کا مطالبہ ملک دشمنی ہے؟
یقیناً نہیں۔ اصل حب الوطنی یہ ہے کہ ریاست کو مضبوط بنانے کے لیے کمزوریوں کی نشان دہی کی جائے۔ اگر کسی علاقے کے لوگ برسوں سے یہ محسوس کررہے ہوں کہ ان کی آواز فیصلہ سازی کے مراکز تک پوری قوت سے نہیں پہنچتی تو ان کے سوال کو دبانے کے بجائے سننا چاہیے، کیونکہ دبے ہوئے سوال ختم نہیں ہوتے، وہ وقت کے ساتھ بڑے سوال بن جاتے ہیں۔
نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو بھی یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کسی بھی انتظامی تبدیلی کا مقصد کسی سے اس کا حق چھیننا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح نئے صوبے کا مطالبہ کرنے والوں کی ذمے داری بھی کم نہیں کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس انتظامی، معاشی اور آئینی بنیادوں پر اپنا مقدمہ پیش کریں۔ بحث ہونی چاہیے۔ کھلے دل سے ہونی چاہیے۔ پارلیمان میں ہونی چاہیے، جامعات میں ہونی چاہیے، دانشوروں کے درمیان ہونی چاہیے، ماہرینِ معیشت اور انتظامیہ کے ماہرین کے ساتھ ہونی چاہیے۔ لیکن بحث کو دھرنوں، دھمکیوں اور سیاسی تصادم کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ صوبے بندوق سے نہیں، دلیل سے بنتے ہیں۔
یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر ایک نئی انتظامی اکائی بننے سے ایک علاقے میں نئی یونیورسٹی قائم ہوتی ہے، اسپتال بنتے ہیں، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، سڑکوں کا جال پھیلتا ہے، سرکاری ادارے قریب آتے ہیں اور وسائل کی تقسیم زیادہ مؤثر ہوجاتی ہے تو کیا محض پرانی انتظامی ترتیب برقرار رکھنے کے لیے ان امکانات کو مسترد کردینا دانش مندی ہوگی؟ ہرگز نہیں۔
ہمیں نقشے سے زیادہ انسان کو دیکھنا ہوگا۔ ایک ماں کو دیکھنا ہوگا جو اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے طویل سفر کرتی ہے۔ اس نوجوان کو دیکھنا ہوگا جو روزگار کے لیے اپنے شہر سے نکلتا ہے۔ اس طالب علم کو دیکھنا ہوگا جس کے علاقے میں معیاری تعلیمی ادارہ موجود نہیں۔ اس کسان کو دیکھنا ہوگا جو اپنی پیداوار کے مسائل کے لیے ایسے دفتر کے چکر لگاتا ہے جو اس کی پہنچ سے دُور ہے۔
نیا صوبہ اگر ان انسانوں کے مسائل کم کرسکتا ہے تو اس بحث کو محض سیاسی مخالفت کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ اور یہاں ایک بنیادی سوال پھر سامنے آتا ہے: کیا ہم اپنے انتظامی نظام کو عوام کی سہولت کے لیے بدل سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ترقی کے دعوے کھوکھلے ہیں۔ اگر ہاں، تو پھر نئے صوبوں کی بحث کو بھی اسی اصلاحی عمل کا حصہ سمجھنا ہوگا۔ ہمیں یہ فیصلہ جذبات سے نہیں، عقل سے کرنا ہے۔ لسانی تعصب سے نہیں، قومی مفاد سے کرنا ہے۔ سیاسی مصلحت سے نہیں، عوامی ضرورت سے کرنا ہے۔ نئے صوبے پاکستان کو توڑنے کا نہیں، پاکستان کو بہتر انداز میں چلانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا قیام آئین، اتفاقِ رائے، انتظامی ضرورت اور عوامی مفاد کی بنیاد پر ہو۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم سوال سے نہ گھبرائیں۔ کیونکہ جو قومیں سوال سے ڈرتی ہیں، وہ اصلاح سے بھی محروم رہتی ہیں۔ اور پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت کسی لکیر سے ڈرنے کی نہیں، بلکہ اُن رکاوٹوں کو دُور کرنے کی ہے جو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ پیدا کرتی ہیں۔
نئے صوبوں کی بحث دراصل نئے نقشے کی بحث نہیں، یہ نئے طرزِ حکمرانی کی تلاش ہے۔
اور اگر اس تلاش کے نتیجے میں ایک عام پاکستانی کو حکومت اپنے قریب، انصاف اپنے دروازے پر، تعلیم اپنی دسترس میں، علاج اپنی پہنچ میں اور روزگار اپنے علاقے میں مل سکتا ہے تو پھر اس بحث کو روکنا نہیں چاہیے۔ اسے سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہیے۔ کیونکہ آخرکار ریاست کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ نقشے پر کتنی لکیریں ہیں… اصل پیمانہ یہ ہے کہ اُن لکیروں کے اندر بسنے والا انسان کتنا خوش حال، محفوظ اور بااختیار ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔