براؤزنگ بلاگز

بلاگز

اے آئی انقلاب کی جانب قدم

فہیم سلیم وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 2030 تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کو پاکستان کے روشن اور باوقار مستقبل کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ انڈس اے آئی ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں

الفاظ کی طاقت

مہروز احمد شہرِ بے مثال کی وزارتوں میں عجیب و غریب قصے مشہور تھے، برسہا برس بیت جانے کے باوجود عوام کی حالت زار وہی تھی جب کہ حکمران طبقہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہا تھا۔ رشوت وصولی عام تھی، عوام کی کسی کو پروا نہیں تھی۔ طبقۂ امرا کے

کبھی کسی کا بُرا نہ چاہیں

حسان احمد شفیق ایک سرکاری دفتر میں کلرک تھا۔ نہ بہت بااختیار، نہ بہت نمایاں مگر اس کے دل میں ایک خواہش ضرور تھی کہ کسی طرح سب سے آگے نکل جائوں، چاہے راستہ درست ہو یا نہیں۔ اسی دفتر میں ایک اور ملازم سلمان تھا۔ سلمان وقت کا پابند، نرم

اندھیرے سے روشنی تک

وقاص بیگ عارف ایک تعلیم یافتہ، سمجھ دار اور باصلاحیت نوجوان تھا۔ اچھے گھرانے سے تعلق، مناسب نوکری، ماں باپ زندہ، مگر ایک کمی تھی، دل کا سکون۔ ابتدا میں دوستوں کی محفلیں، پھر سگریٹ، پھر شراب اور آہستہ آہستہ وہ نشے کی اُس اندھی گلی میں داخل

آپریشن ردّالفتنہ ون کی کامیاب تکمیل

دانیال جیلانی بلوچستان، جو ہمیشہ سے پاکستان کی جغرافیائی، اسٹرٹیجک اور معاشی اہمیت کا حامل صوبہ رہا ہے، گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا دشمن قوتوں کی وہ

توبہ

اسد احمد شہر کی معروف بستی میں یاسر کا نام خوف کی علامت تھا۔ لوگ اس کے شر سے بچنے کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ یاسر چور، مجرم، ایک ایسا شخص جسے حالات نے درندگی سکھا دی تھی۔ لیکن کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ یاسر کے سینے میں بھی ایک دل دھڑکتا

نیک اعمال

غلام مصطفیٰ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی زندگی دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں بار بار نیک اعمال کی تاکید کی گئی ہے، کیونکہ نیک اعمال ہی وہ سرمایہ ہیں جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں نجات عطا

ایران، امریکا مذاکرات اور پاکستان

بلال ظفر سولنگی پچھلے کچھ دنوں سے امریکا اور ایران کے درمیان حالات خاصے کشیدہ شکل اختیار کرچکے ہیں۔ اب ایران اور امریکا کے درمیان ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی بحالی کی خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مشرقِ وسطیٰ اور خطہ جنوبی ایشیا

حرام کا انجام

وقاص بیگ شہر کے ایک مصروف بازار میں یاسر کی دکان تھی۔ بظاہر وہ نہایت شریف، ملنسار اور دین دار دکھائی دیتا تھا۔ پیشانی پر سجدے کا نشان، زبان پر میٹھی باتیں اور ہاتھ میں تسبیح، لوگ اسے قابلِ اعتماد سمجھتے تھے۔ مگر اس ظاہری دین داری کے

مغفرت، رحمت اور تجدیدِ عہد کی رات

محمد راحیل وارثی شبِ برأت اسلامی تقویم کی اُن بابرکت راتوں میں سے ایک ہے جو رحمت، مغفرت اور نجات کی نوید لے کر آتی ہے۔ یہ رات شعبان المعظم کی پندرہویں شب کو آتی ہے اور برصغیر سمیت عالمِ اسلام کے کئی حصوں میں نہایت عقیدت و احترام کے