محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی

حسان احمد شہر کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا محلہ تھا جہاں ٹوٹی پھوٹی گلیاں، بجلی کے لٹکتے تار اور وقت کی مار کھائے ہوئے گھر تھے۔ انہی میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کی دیواریں نمی سے کالی پڑچکی تھیں۔ اس گھر میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا

انسانیت کا سبق

حسان احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔ اس کا نام زینب بی بی تھا۔ وہ بہت غریب تھی۔ اس کا کوئی سہارا نہیں تھا۔ شوہر کئی سال پہلے وفات پاچکا تھا اور اولاد بھی دنیا کے مختلف شہروں میں جابسنے کے بعد اس سے بے خبر

ماں کی نصیحت

حسان احمد شدید سردی کی ایک رات تھی۔ شہر کی سڑکیں سنسان تھیں اور لوگ اپنے گرم کمروں میں سو چکے تھے۔ ایک نوجوان، حارث، اپنی گاڑی میں تیزی سے گھر جارہا تھا۔ وہ ایک کامیاب کاروباری شخص تھا، دولت کی کوئی کمی نہ تھی، مگر دل میں عجیب بے

جینا اسی کا نام ہے

حسان احمد رات بہت خاموش تھی، مگر اس خاموشی میں ایک عورت کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ ایک پرانی سی چھت والے گھر کے کونے میں بیٹھی تھی، جہاں دیواروں پر نمی کے داغ تھے اور فرش پر وقت کی تھکن بکھری ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ

وقت کا بے رحم انصاف

حسان احمد شہر کے سب سے بڑے ہوٹل کی بارہویں منزل پر کھڑا زوہیب نیچے جگمگاتی سڑکوں کو دیکھ رہا تھا۔ شیشے کی دیوار کے اُس پار پورا شہر اس کے قدموں میں بچھا محسوس ہوتا تھا۔ وہ جہاں جاتا، لوگ کھڑے ہوکر استقبال کرتے۔ سوشل میڈیا پر اُس کی

بے قدری کی سزا

حسان احمد ایک بوڑھا باپ تھا۔ کمزور، نحیف، کانپتے ہاتھوں والا۔ مگر اُس کی آنکھوں میں اب بھی اپنے بیٹے کے لیے وہی محبت زندہ تھی، جو اُس دن تھی جب اُس نے پہلی بار اُسے اپنی گود میں اٹھایا تھا۔ وہ شخص ساری زندگی مزدوری کرتا رہا۔ گرمی کی

آخری خط

حسان احمد سردیوں کی ایک خاموش شام تھی۔ ہوا میں ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔ لاہور کے ایک پرانے سے محلے کی تنگ گلیوں میں واقع ایک چھوٹے سے گھر کے اندر، 70 سالہ بوڑھا شخص، حامد، کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر گرتے ہوئے پتوں کو دیکھ رہا

معاشرے کو بہتر بنانے والی خاموش طاقت

حسان احمد شہری شعور سے مراد وہ بنیادی آگاہی اور ذمے داری ہے جو ہر فرد پر اپنی معاشرتی زندگی کے حوالے سے لازم ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا نام ہے کہ ہم عوامی مقامات پر کیسے برتاؤ کرتے ہیں، مشترکہ وسائل کا کس طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے

پاکستان کا خلائی تحقیق میں نیا سنگ میل

حسان احمد پاکستان نے خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ (EO-3) کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی خلائی صلاحیتوں میں اضافے کی علامت ہے

آخر وہ کون تھا؟

حسان احمد استنبول کی ٹھنڈی صبح تھی۔ استنبول کی گلیاں ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھیں، مگر باسفورس کے کنارے بیٹھا ایک نوجوان اپنی زندگی کے اندھیروں میں گم تھا۔ اس کا نام ایمرے تھا۔ لوگ اسے ایک سخت دل اور خود غرض انسان کے طور پر جانتے