ایک غلطی، بڑا سبق

حسان احمد شہر کے معروف نجی ادارے میں نعمان نام کا ایک نوجوان ملازم کام کرتا تھا۔ ملازمت اسے اچھی سفارش سے ملی تھی، تنخواہ بھی معقول تھی اور دفتر کا ماحول بھی بہترین تھا، لیکن نعمان کی ایک عادت ایسی تھی جس نے آہستہ آہستہ اس کی ساکھ

حقیقی دولت کیا ہے؟

حسان احمد قدیم اناطولیہ کے ایک شہر میں ایک بزرگ درویش رہتے تھے۔ لوگ انہیں "بابا سلیم" کہتے تھے۔ ان کے کپڑے سادہ، جھونپڑی معمولی، مگر باتیں ایسی ہوتیں کہ سننے والے گھنٹوں سوچتے رہ جاتے۔ اسی شہر پر سلطان مراد کی حکومت تھی۔ سلطان بہادر

مفت کی دعوت

حسان احمد گاؤں میں ایک شخصیت ایسی تھی جس کا اصل نام تو زبیر شہزاد تھا، لیکن پورا علاقہ اسے زبیر خالی جیب کے نام سے جانتا تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ غریب تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی جیب میں کبھی پیسے نہیں ہوتے تھے… مگر زبان ایسی کہ سننے

اسمارٹ مرغا۔۔۔

حسان احمد گاؤں بھولے شاہ میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام برکت علی تھا۔ وہ نہایت نیک، شریف اور دیانت دار آدمی تھا، لیکن ایک کمزوری اس میں ضرور تھی: وہ ہر نئی بات پر فوراً یقین کرلیتا تھا۔ ایک دن شہر سے اس کا بھانجا آیا جو سوشل میڈیا

محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی

حسان احمد شہر کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا محلہ تھا جہاں ٹوٹی پھوٹی گلیاں، بجلی کے لٹکتے تار اور وقت کی مار کھائے ہوئے گھر تھے۔ انہی میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کی دیواریں نمی سے کالی پڑچکی تھیں۔ اس گھر میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا

انسانیت کا سبق

حسان احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔ اس کا نام زینب بی بی تھا۔ وہ بہت غریب تھی۔ اس کا کوئی سہارا نہیں تھا۔ شوہر کئی سال پہلے وفات پاچکا تھا اور اولاد بھی دنیا کے مختلف شہروں میں جابسنے کے بعد اس سے بے خبر

ماں کی نصیحت

حسان احمد شدید سردی کی ایک رات تھی۔ شہر کی سڑکیں سنسان تھیں اور لوگ اپنے گرم کمروں میں سو چکے تھے۔ ایک نوجوان، حارث، اپنی گاڑی میں تیزی سے گھر جارہا تھا۔ وہ ایک کامیاب کاروباری شخص تھا، دولت کی کوئی کمی نہ تھی، مگر دل میں عجیب بے

جینا اسی کا نام ہے

حسان احمد رات بہت خاموش تھی، مگر اس خاموشی میں ایک عورت کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ ایک پرانی سی چھت والے گھر کے کونے میں بیٹھی تھی، جہاں دیواروں پر نمی کے داغ تھے اور فرش پر وقت کی تھکن بکھری ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ

وقت کا بے رحم انصاف

حسان احمد شہر کے سب سے بڑے ہوٹل کی بارہویں منزل پر کھڑا زوہیب نیچے جگمگاتی سڑکوں کو دیکھ رہا تھا۔ شیشے کی دیوار کے اُس پار پورا شہر اس کے قدموں میں بچھا محسوس ہوتا تھا۔ وہ جہاں جاتا، لوگ کھڑے ہوکر استقبال کرتے۔ سوشل میڈیا پر اُس کی

بے قدری کی سزا

حسان احمد ایک بوڑھا باپ تھا۔ کمزور، نحیف، کانپتے ہاتھوں والا۔ مگر اُس کی آنکھوں میں اب بھی اپنے بیٹے کے لیے وہی محبت زندہ تھی، جو اُس دن تھی جب اُس نے پہلی بار اُسے اپنی گود میں اٹھایا تھا۔ وہ شخص ساری زندگی مزدوری کرتا رہا۔ گرمی کی