وقت کا بے رحم انصاف

حسان احمد شہر کے سب سے بڑے ہوٹل کی بارہویں منزل پر کھڑا زوہیب نیچے جگمگاتی سڑکوں کو دیکھ رہا تھا۔ شیشے کی دیوار کے اُس پار پورا شہر اس کے قدموں میں بچھا محسوس ہوتا تھا۔ وہ جہاں جاتا، لوگ کھڑے ہوکر استقبال کرتے۔ سوشل میڈیا پر اُس کی

بے قدری کی سزا

حسان احمد ایک بوڑھا باپ تھا۔ کمزور، نحیف، کانپتے ہاتھوں والا۔ مگر اُس کی آنکھوں میں اب بھی اپنے بیٹے کے لیے وہی محبت زندہ تھی، جو اُس دن تھی جب اُس نے پہلی بار اُسے اپنی گود میں اٹھایا تھا۔ وہ شخص ساری زندگی مزدوری کرتا رہا۔ گرمی کی

آخری خط

حسان احمد سردیوں کی ایک خاموش شام تھی۔ ہوا میں ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔ لاہور کے ایک پرانے سے محلے کی تنگ گلیوں میں واقع ایک چھوٹے سے گھر کے اندر، 70 سالہ بوڑھا شخص، حامد، کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر گرتے ہوئے پتوں کو دیکھ رہا

معاشرے کو بہتر بنانے والی خاموش طاقت

حسان احمد شہری شعور سے مراد وہ بنیادی آگاہی اور ذمے داری ہے جو ہر فرد پر اپنی معاشرتی زندگی کے حوالے سے لازم ہوتی ہے۔ یہ اس بات کا نام ہے کہ ہم عوامی مقامات پر کیسے برتاؤ کرتے ہیں، مشترکہ وسائل کا کس طرح استعمال کرتے ہیں اور اپنے

پاکستان کا خلائی تحقیق میں نیا سنگ میل

حسان احمد پاکستان نے خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ (EO-3) کو کامیابی سے خلا میں بھیج دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی خلائی صلاحیتوں میں اضافے کی علامت ہے

آخر وہ کون تھا؟

حسان احمد استنبول کی ٹھنڈی صبح تھی۔ استنبول کی گلیاں ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھیں، مگر باسفورس کے کنارے بیٹھا ایک نوجوان اپنی زندگی کے اندھیروں میں گم تھا۔ اس کا نام ایمرے تھا۔ لوگ اسے ایک سخت دل اور خود غرض انسان کے طور پر جانتے

انسانیت سب سے بڑی دولت

حسان احمد عرشیان شہر کے امیر ترین گھرانوں میں پیدا ہوا تھا۔ بچپن سے ہی اسے ہر وہ چیز میسر تھی، جس کا دوسرے لوگ صرف خواب دیکھتے ہیں۔ قیمتی گاڑیاں، عالی شان بنگلہ، نوکر چاکر اور بے حساب دولت۔ یہ سب اس کی زندگی کا حصہ تھے مگر اس آسائش

دعا اور معجزہ

حسان احمد شیراز نے کھڑکی کے باہر دیکھا تو استنبول کی سرد ہوا شیشوں سے ٹکرا رہی تھی۔ آسمان بوجھل تھا اور زمین جیسے ابھی تک لرزنے کے خوف سے سہم رہی تھی۔ چند دن پہلے آنے والے زلزلے نے شہر کو ہلاکر رکھ دیا تھا مگر شیراز کی دنیا تو اس سے

بھلائی کا صلہ

حسان احمد ایک چھوٹے سے گاؤں میں ارحام نامی نوجوان رہتا تھا۔ اس کی زندگی عام لوگوں جیسی نہیں تھی۔ غربت اس کے گھر کی دہلیز پر ایسے بیٹھی تھی جیسے وہی اس گھر کی اصل مالک ہو۔ اس کے والد بیمار رہتے تھے اور ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرکے

رمضان کی روشنی

حسان احمد ريان ایک عام نوجوان تھا جو ایک چھوٹے محلے میں رہتا تھا۔ اس کے والد بیمار اور نحیف تھے، اس کی والدہ کئی سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھی۔ اس نوجوان کی زندگی میں بہت سی مشکلات تھیں مگر یہ حساس اور نیک جذبات رکھنے والا شخص