براؤزنگ بلاگز

بلاگز

فیلڈ مارشل کا دورۂ جرمنی، اہم شخصیات سے ملاقات

دانیال جیلانی پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے جرمنی کے دارالحکومت میونخ میں منعقد ہونے والی 62 ویں میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت کی، جو عالمی سطح پر سیکیورٹی، دفاعی تعلقات اور علاقائی استحکام پر تبادلہ خیال

سچ کبھی نہیں ہارتا

مہروز احمد ہادی ایک باعزت اور محنتی انسان تھا، جس نے اپنی زندگی میں ہر قدم ایمان داری اور اصولوں کے ساتھ اٹھایا۔ وہ ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوا تھا، جہاں مالی وسائل محدود تھے مگر والدین نے اسے سچ بولنے، دیانت داری اور محنت کی تعلیم دی

پاک بھارت کرکٹ مقابلہ، فاتح کون ہوگا؟

اسد احمد ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے مقابلے جاری ہیں۔ کرکٹ کے سب سے بڑے ہائی وولٹیج مقابلے کا انتظار ہر شائق کرکٹ کے دل میں جوش اور بے صبری پیدا کررہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا یہ T20 ورلڈکپ کا میچ قومی فخر اور جذبے کا بھی

ماں، دعا، زندگی

عبدالعزیز بلوچ احمد۔ شہر کی تیز رفتار زندگی میں ایسا گم ہوا کہ وقت کی قدر تو جانتا تھا مگر ماں کے وقت کی قدر کرنا بھول گیا تھا۔ اچھی نوکری، بڑے خواب، اونچی عمارت میں فلیٹ، سب کچھ تھا اس کے پاس، سوائے اس سکون کے جو کبھی اس کی ماں کی گود

حقوقُ العباد اور کامیابی کا راستہ

غلام مصطفیٰ اسلام میں عبادات کے ساتھ انسانوں کے باہمی حقوق اور ذمے داریوں کو بھی نہایت اہمیت حاصل ہے۔ ہم عموماً نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے اعمال کو دین کی بنیاد سمجھتے ہیں، جو یقیناً بنیادی ارکان ہیں مگر ان کے ساتھ حقوقُ العباد کی

واپسی کا دروازہ

بلال ظفر سولنگی اس کا نام فہد تھا۔ آنکھوں میں خواب، دل میں آگ اور خالی جیب۔ وہ کسی امیر باپ کا بیٹا نہیں تھا۔ باپ ایک معمولی سرکاری ملازم تھا جو ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی دل کے دورے سے چل بسا۔ گھر میں ماں، دو بہنیں اور ذمے داریوں کا پہاڑ رہ

اے آئی انقلاب کی جانب قدم

فہیم سلیم وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 2030 تک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کو پاکستان کے روشن اور باوقار مستقبل کی سمت ایک تاریخی قدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ انڈس اے آئی ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں

الفاظ کی طاقت

مہروز احمد شہرِ بے مثال کی وزارتوں میں عجیب و غریب قصے مشہور تھے، برسہا برس بیت جانے کے باوجود عوام کی حالت زار وہی تھی جب کہ حکمران طبقہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہا تھا۔ رشوت وصولی عام تھی، عوام کی کسی کو پروا نہیں تھی۔ طبقۂ امرا کے

کبھی کسی کا بُرا نہ چاہیں

حسان احمد شفیق ایک سرکاری دفتر میں کلرک تھا۔ نہ بہت بااختیار، نہ بہت نمایاں مگر اس کے دل میں ایک خواہش ضرور تھی کہ کسی طرح سب سے آگے نکل جائوں، چاہے راستہ درست ہو یا نہیں۔ اسی دفتر میں ایک اور ملازم سلمان تھا۔ سلمان وقت کا پابند، نرم

اندھیرے سے روشنی تک

وقاص بیگ عارف ایک تعلیم یافتہ، سمجھ دار اور باصلاحیت نوجوان تھا۔ اچھے گھرانے سے تعلق، مناسب نوکری، ماں باپ زندہ، مگر ایک کمی تھی، دل کا سکون۔ ابتدا میں دوستوں کی محفلیں، پھر سگریٹ، پھر شراب اور آہستہ آہستہ وہ نشے کی اُس اندھی گلی میں داخل