براؤزنگ بلاگز

بلاگز

بُرا کرنے والے کا بھلا کبھی نہیں ہوتا

حسان احمد عبدالکریم بستی کا وہ شخص تھا جس کے ماتھے پر ہمیشہ سجدے کا نشان نمایاں رہتا۔ مسجد کی پہلی صف میں اس کی جگہ مقرر تھی، تسبیح اس کے ہاتھ سے کبھی جدا نہ ہوتی اور لوگ اسے نیک، پرہیزگار اور اللہ والا سمجھتے تھے مگر بستی کے چند باشعور

پاکستان نے کرکٹ کی دنیا کو چونکا دیا

انجینئر بخت سید یوسف زئی پاکستان نے جب یہ اعلان کیا کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گا تو یہ محض ایک کرکٹ شیڈول سے متعلق فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گہرے سیاسی، سفارتی اور اصولی مؤقف کا اظہار تھا۔ اس اعلان نے نہ

امانت، دیانت داری اور اسلامی تعلیمات

محمد راحیل وارثی اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات بلکہ اخلاق، معاملات اور معاشرتی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کی بُنیاد جِن اعلیٰ اخلاقی اقدار پر رکھی گئی ہے، ان میں امانت اور دیانت

حق کا بوجھ

مہروز احمد اکرم شہر کے مصروف ترین علاقے میں جانا پہچانا نام تھا۔ وہ نہایت چالاک، ہوشیار اور موقع شناس آدمی تھا۔ لوگوں کو دیکھ کر مسکراتا، باتوں میں نرمی رکھتا، مگر دل کے اندر بے پناہ سختی تھی، کسی کا حق مارنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچاتا

توانائی بحران میں امید کی کرن

بلال ظفر سولنگیپاکستان کو درپیش توانائی کے بحران کے تناظر میں بلوچستان کے ضلع بارکھان میں گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا خبر ہے۔ ماڑی انرجیز کمپنی نے کلچاس ساؤتھ بلاک کے تحت تِبری ون کنویں سے گیس کی موجودگی کا اعلان

صبر

وقاص بیگ یہ واقعہ برصغیر کے ایک چھوٹے سے قصبے کا ہے، جہاں وقت آہستہ آہستہ گزرتا تھا اور لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقف ہوا کرتے تھے۔ اسی قصبے میں ایک بزرگ رہتے تھے جنہیں سب حاجی صاحب پکارا کرتے تھے۔ حاجی صاحب نہ عالمِ دین تھے، نہ

سب سے پہلے نیکی

اسد احمد شہر کے ایک پرانے محلے میں کامران نام کا آدمی رہتا تھا۔ کامران کا مزاج سادہ، لیکن دل بڑا اور خوف خدا رکھنے والا تھا۔ وہ دولت مند نہیں تھا، لیکن اپنی کمائی میں سے ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے کچھ نہ کچھ نکال لیتا۔ کامران کا ماننا

برطانیہ کی نئی حقیقت

انجینئر بخت سید یوسف زئی(engr.bakht@gmail.com)(بریڈفورڈ، انگلینڈ) برطانیہ کی معروف سپر مارکیٹ چین اسڈا (Asda) نے بڑھتے ہوئے جرائم اور چوری کے واقعات کے پیش نظر اپنی اسٹور سیکیورٹی کی ذمے داری اب ایک نجی سہولتی ادارے مائٹی (Mitie) کے

دستک

حسان احمد رات کا وقت تھا۔ شہر کی گلیاں سنسان اور سرد تھیں۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا، بجلی کا بلب بند اور دیواروں پر پرانی نمی کے دھبے۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک عورت بیٹھی تھی، ہاتھ میں خالی گلاس پکڑے، جو بار بار

ایمان داری کا انعام

فہیم سلیم رات گہری ہوچکی تھی۔ محلے کی مسجد سے عشاء کی اذان کو گھنٹہ گزر چکا تھا، مگر احمد ابھی تک دکان بند نہیں کرسکا تھا۔ چھوٹی سی کریانے کی دکان، پرانی لکڑی کی شیلفیں اور ایک بوسیدہ کاؤنٹر، یہی اس کی کل کائنات تھی۔ دکان کے کونے میں