دیانت داری کا خوبصورت صلہ

عبدالعزیز بلوچ شہر کی ایک پرانی بستی میں سلمان نامی نوجوان رہتا تھا۔ عمر کوئی تیس برس تھی، مگر چہرے پر زندگی کی تھکن چالیس برس کی محسوس ہوتی تھی۔ وہ ایک چھوٹی سی ورکشاپ میں موٹر سائیکلیں ٹھیک کرتا تھا۔ آمدن زیادہ نہیں تھی، لیکن

امید کی پہلی اینٹ

عبدالعزیز بلوچ شہر کے آخری سرے پر ایک پرانی سی بستی تھی۔ وہاں کچی گلیاں، ٹوٹی دیواریں اور چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔ اسی بستی میں حارث نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ عمر قریباً پینتالیس برس تھی اور پیشے کے اعتبار سے وہ معمولی سا مستری تھا۔ سارا

جب سارے دروازے بند ہو جائیں

عبدالعزیز بلوچ رات کے قریباً تین بجے تھے۔ پورا محلہ سو چکا تھا، مگر سلمان اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا خاموشی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ سامنے گلی میں جلنے والی ایک مدھم سی بتی بار بار جھلملا رہی تھی، جیسے اندھیرے سے لڑتے لڑتے تھک گئی

شکست یا کامیابی کا آغاز

عبدالعزیز بلوچ رات کے قریباً دو بج رہے تھے۔ شہر سو چکا تھا، مگر ایک شخص سڑک کے کنارے بیٹھا جاگ رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک چھوٹا سا بریف کیس پڑا تھا، جیب میں صرف چند سو روپے تھے اور موبائل کی اسکرین پر ایک کے بعد ایک پیغامات آ رہے تھے:

پرچم دل میں لہرانا چاہیے

عبدالعزیز بلوچ 14 اگست کی صبح تھی۔ شہر کی گلیاں سبز و سفید جھنڈیوں سے سجی ہوئی تھیں۔ کہیں ملی نغموں کی آوازیں گونج رہی تھیں، کہیں بچے ہاتھوں میں پرچم لیے گھوم رہے تھے۔ ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ مگر شہر کے ایک نسبتاً خاموش محلے میں ایک

ایک سجدہ، نئی زندگی

عبدالعزیز بلوچ شہر کے ایک پرانے محلے میں اکبر نام کا نوجوان رہتا تھا۔ وہ محنتی تھا، خواب دیکھتا تھا اور اپنی زندگی بدلنے کے لیے دن رات کوشش کرتا تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا کاروبار تھا، مگر کئی مہینوں سے حالات خراب تھے۔ کبھی مال خراب

دورۂ ویسٹ انڈیز: کامیابی کا تسلسل قائم کیا جائے

عبدالعزیز بلوچ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی آٹھ وکٹوں سے شاندار کامیابی صرف ایک میچ میں فتح حاصل کرنے کا واقعہ نہیں بلکہ یہ قومی ٹیم کے اعتماد، حوصلے اور صلاحیتوں کی بحالی کی علامت بھی ہے۔ غیر ملکی سرزمین پر

بھروسا جیت گیا

عبدالعزیز بلوچ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں شہر کی سڑکوں کو بھگو رہی تھیں۔ عارف اپنی پرانی موٹرسائیکل پر آہستہ آہستہ گھر کی طرف جارہا تھا۔ جیب میں صرف 120 روپے تھے جب کہ گھر پہنچتے ہی اسے بچوں کی اسکول فیس، راشن، بجلی کے بل اور بیمار

آخری اینٹ۔۔۔

عبدالعزیز بلوچ ایک چھوٹے سے گاؤں میں حارث نام کا نوجوان رہتا تھا۔ اس کے والد مزدوری کرتے تھے اور بمشکل گھر کا خرچ پورا ہوتا تھا۔ حارث ذہین تھا مگر غربت نے اس کے خوابوں پر گرد جما دی تھی۔ وہ اکثر سوچتا، "جب قسمت ہی ساتھ نہیں تو محنت

سچا مسیحا۔۔۔

عبدالعزیز بلوچ بارش کی بوندیں اسپتال کی کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ ایمرجنسی وارڈ میں ایک کمزور سا بوڑھا شخص اپنے سات سالہ پوتے کو گود میں اٹھائے، آنکھوں میں بے بسی لیے کھڑا تھا۔ "ڈاکٹر صاحب… میرے پاس پیسے نہیں