حضرت امام حسینؓ کا فلسفۂ شہادت

محمد راحیل وارثی
آج یوم عاشور ہے۔ دین کی سربلندی کے لیے اُس عظیم قربانی کا دن، جو 1400 سال گزرنے کے باوجود آج بھی تروتازہ اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا سبق دیتی ہے۔ نواسہ رسولؐ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے اہل بیت کی شہادت کا دن ہر سال ماہ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو آتا ہے تو اس تاریخ ساز واقعہ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس نے جیسے جیسے زمانے کا پہیہ گھومتا گیا، اس واقعے کی اہمیت و اثرات واضح ہوتے گئے، اس واقعہ سے بنی نوع انسان کو صبرو استقلال اور ایثار وقربانی کا سبق ہی نہیں ملتا، فکر وعمل اور حق وانصاف کی پاسداری کی تحریک بھی ہوتی ہے۔
حضرت امام حسینؓ کی شہادت میں سب سے بڑا سبق یہ پوشیدہ ہے کہ ظلم کے آگے سرنہ جھکایا جائے اور انسان اپنی خودداری اور شرف کو ظالم کے قدموں میں روندنے کے لیے نہ ڈال دے، قتل وغارت گری، فتنہ و فساد اور ظلم و تشدد اسلام میں انتہائی ناپسندیدہ عمل ہیں، اسلام کا مطلب ہی امن و سلامتی ہے، کرۂ ارض پر آباد تمام انسان یہاں تک کہ چرند پرند، حیوان اور چیونٹیوں تک کو اسلام میں امان و پناہ ہے، ہرے بھرے درختوں کی حفاظت، ماحولیات کے رکھ رکھاؤ اور انسانوں پر عائد انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم ہے، لیکن اگر ظالم کسی طرح نہ مانے اور اس کی سرکشی حد سے سوا ہوجائے تو پھر اسلام ظلم کے خلاف اٹھنے اور مقابلہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے، کیونکہ ایسا نہ کیا جائے تو حق مغلوب اور باطل غالب آجائے گا۔ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اسوہ اسی جانب ہماری رہبری کرتا ہے جسے نواسہ رسول امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے مشعلِ راہ بنایا۔
واقعہ کربلا‘‘ کو حق و باطل کے درمیان معرکہ اس لیے گردانا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی جنگ تھی جو اسلام کے تحفظ کے لیے ملوکیت یا ڈکٹیٹرشپ کے خلاف لڑی گئی. مسلمانوں کے خلیفہ یا امیر کا انتخاب عام لوگوں کے مشورے سے کیا جاتا ہے، جس کا جانشینی یا وراثت سے کوئی تعلق نہیں، نہ اس بات کی گنجائش ہے کہ کوئی بزعم خود یا طاقت کے زور پر خلیفہ اور امیر بن جائے، اس نظام نے آج سے چودہ سو برس پہلے سماجی اونچ نیچ اور ادنیٰ واعلیٰ کے امتیاز کو مٹادیا تھا، جرم و سزا میں کسی کے ساتھ تفریق نہیں تھی، غلطی خواہ امیر کرے یا کسی غریب سے سرزد ہو، شریعت کی نظر میں دونوں کی حیثیت مساوی ہے، اس اسلامی نظام کے طفیل نسلی امتیازات اور قبائلی غرور کا خاتمہ ہوا، ایک دوسرے کے دشمن ہمدرد بن گئے، ان کی تمام تر پس ماندگی ترقی میں بدل گئی، اونٹوں کے ریوڑ لے کر ریگستانوں کی خاک چھاننے والے مسلمان، ملکوں اور قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرنے لگے، اس بہترین نظام کی بنیاد سب سے پہلے اسلام نے رکھی جسے یزید نے ڈھانے کی کوشش کی۔
حضرت حسینؓ نے بھی اپنے والد ماجد کی پیروی کرتے ہوئے خلافت کے واسطے کوئی دعویٰ پیش نہیں کیا، نہ یہ کہا کہ میرے والد خلیفہ تھے لہٰذا مجھے ان کا وارث سمجھا جائے بلکہ ہوا یہ کہ کوفے کے لوگوں نے حضرت امام حسینؓ کو بار بار یزید کی مطلق العنانی اور حدودِ اسلامی سے سرتابی کی طرف متوجہ کیا اور یہ بھی درخواست کی کہ آپ اپنے نانا کے دین کو بچانے اور ہماری مدد کرنے کو آئیں تو ہم آپ کو اپنا خلیفہ تسلیم کرلیں گے لیکن کوفے کے قریب پہنچنے پر آپ کو یہ خبر ملی کہ اہل کوفہ کی رائے بدل گئی اور وہ اپنے وعدہ سے پھر گئے ہیں.یزیدی لشکر نے آپ کو گھیر لیا اور میدان کربلا میں آپ نے محصور ہوجانا گوارہ کیا، لیکن خود کو ایک غیر شرعی حکومت کے سپرد نہ کیا بلکہ مصالحت کی نہایت موزوں اور عزت نفس کی حامل تین شرطیں پیش کیں اول میں مدینہ واپس چلا جاتا ہوں، یہ منظور نہیں تو میں جہاد میں حصہ لینے کے لیے سرحد کی طرف نکل جاتا ہوں، یہ بھی قبول نہیں تو میرا راستہ چھوڑ دو اور مجھے یزید کے پاس جانے دو تاکہ اس سے مل کر میں اپنا معاملہ خود طے کرلوں، مگر یزید کے لشکر نے مصالحت کی ان تینوں شرطوں کو نہ مانا تو نواسۂ رسول اور آپ کے اہل خاندان نیزجاں نثاروں نے بے سروسامانی کی حالت میں اس طرح دادِ شجاعت دی جو ہمیشہ ظالموں کے مقابلہ میں مظلوموں کا حوصلہ بڑھاتی رہے گی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ یہ جانتے تھے کہ لشکر یزید سے مقابلہ کا نتیجہ کیا ہوگا ایک طرف مٹھی بھر نفوس اور دوسری جانب ہزاروں کا لشکر جو خون بہانے اور جان لینے کو بے تاب تھا۔
حضرت امام حسینؓ نے جنگ میں پہل نہیں کی، معاملہ صرف جارحیت کے مقابلے میں اپنے دفاع کا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ آپ نے یاس وپریشانی اور بھوک وپیاس کے عالم میں بہترین دفاع فرمایا۔
حضرت امام حسینؓ کی میدان کربلا میں صف آرائی درحقیقت اسلام کے مزاج میں تغیروتبدل کے خلاف ایک ایسی مزاحمت تھی جو رہتی دنیا تک حق وباطل کے امتیاز کو واضح کرتی رہے گی۔ آزادی ضمیر، آزادی فکر اور اختلافِ رائے کا حق آج کے جمہوری دور کا ایک امتیاز ہے جس کو چھیننے والی حکومت کبھی جمہوری قرار نہیں پاسکتی۔ حضرت امام حسینؓ نے بھی حکومت اور اقتدار کے مطالبہ بیعت کو ٹھکرا کر رہتی دنیا تک اپنے عمل وکردار سے یہ سبق دے دیا کہ جبر کی بنیاد پر کسی سے کوئی مطالبہ وفاداری باطل ہے اور اس جبر واستبداد کا مقابلہ اس عزیمت کے ساتھ ہونا چاہیے کہ سر کٹ جائے مگر جھکے نہیں۔
حضرت حسین ابن علیؓ نے جب مطالبہ بیعت کو ٹھکرایا تو منجملہ دیگر باتوں کے یہ بھی فرمایا جس کا مفہوم تھا کہ ’’حکومت مال مسکین پر قابض ومتصرف ہے جو جائز نہیں‘‘ اس بلیغ فقرہ سے اسلام میں دولت کے تصور تقسیم پر روشنی پڑتی ہے جو جمع ہونا نہیں تقسیم ہونا ہے، کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں کے مال پر قابض ومتصرف ہوجائے، عوام کی دولت عوام میں ہی تقسیم ہونا چاہیے۔
حضرت امام حسینؓ کے لشکر میں عرب وعجم کی تخصیص اور قبائلی عصبیت کا عمل دخل نہ تھا، لشکر کے میمنہ یا میسرہ کے سردار حضرت زہیر ابن قین تھے جو اس دور کی سیاسی اصطلاح میں ’’عثمانی‘‘ تھے، یعنی حضرت حسینؓ نے ہر طبقہ اور خیال کے افراد کو ایک مرکز پر جمع کرکے یہ ثابت کردیا کہ جب اعلیٰ اصول اور بلند اقدار اور بنیادی نظریات کا سوال آجائے تو جزوی اختلافات کو دور کردینا چاہیے اور حق وسچائی، دین وملت کی حفاظت اس میں سب سے زیادہ اہم ہے۔
’’واقعہ کربلا‘‘ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ جنگ وتشدد میں اپنی طرف سے پہل نہ کرو کیونکہ حضرت حسینؓ نے آخر وقت تک جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی اور لشکر یزید کو پندونصیحت فرماتے رہے، اسی طرح حسینی کارنامہ دنیا کے کچلے ہوئے عوام کا خون کھولا دینے اور مردہ ذہنیت میں حرارت و دلیری کی روح پھونک دینے کے لئے کافی ہے جیسا کہ میدان کربلا کے خطاب میں آپ نے فرمایا۔
’’دیکھو لوگو! زندگی کی ذلت اور قتل ہوجانا دونوں ہی ناگوار عمل ہیں مگر ان میں سے کسی ایک کے انتخاب کے بغیر چارہ نہ ہو تو میں کہتا ہوں کہ بہتر یہی ہے کہ موت کی طرف قدم بڑھا دیا جائے‘‘۔
مولانا محمد علی جوہر نے بالکل درست کہا تھا:
قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حضرت امام حسینؓ کا فلسفۂ شہادت پوری دُنیا کے مسلمانوں کے لیے سبق اور مشعل راہ ہے۔ باطل کے سامنے جھکنا ہرگز بھی درست نہیں، ظلم و ستم کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہیے۔ اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئی حضرت امام حسینؓ اور اُن کے رفقاء کی قربانیوں کو رہتی دُنیا تک خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔