بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا، اویس لغاری
اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ آئی ایم ایف ہمیں مخصوص اوقات میں سستی بجلی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہا۔
اسلام آباد میں بیٹری اسٹوریج فلیکسیبلٹی 2026 سے متعلق کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ماہرین کے سوالات کے جواب دیے۔
اویس لغاری نے کہا کہ آئی ایم ایف ہمیں مخصوص اوقات میں سستی بجلی فراہمی کی اجازت نہیں دے رہا، آئی ایم ایف کے ساتھ اس سہولت پر گزشتہ چند ماہ سے مذاکرات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سہولت سے ملک میں بجلی کا استعمال بڑھایا جاسکتا ہے، آسٹریلیا میں ایک کمپنی نے اس سہولت سے بجلی فروخت میں نمایاں اضافہ کیا، اس سہولت پر آئی ایم ایف کو راضی کیا جائے گا۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑی توانائی اصلاحات ہورہی ہیں، آئی ایم ایف کے سامنے تمام حقائق رکھیں گے اور ان کو راضی کیا جائے گا، پاکستان کا پہلا جامع توانائی پلان آئندہ سال اپریل میں آجائے گا، لوگ مستقبل میں اپنی شمسی توانائی کو اسٹور کرکے رات میں استعمال کریں گے، دن کے وقت سولر بجلی دستیاب ہونے سے بجلی کی صورت حال نسبتاً بہتر رہی۔
وزیر توانائی نے مزید کہا کہ پاکستان کی بجلی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ چکا ہے، حکومت کا 2035 تک صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد کرنے کا ہدف ہے، صرف سولر اور ونڈ نہیں، بیٹری اسٹوریج کے بغیر 90 فیصد کلین انرجی ہدف حاصل نہیں ہوسکتا، بیٹری اسٹوریج بجلی کو قومی اثاثہ بنانے اور گرڈ کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بیٹری انرجی اسٹوریج کی مقامی صنعت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، پاکستان میں بیٹریوں کی درآمد نہیں بلکہ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے گا، مقامی انجینئرنگ، سسٹم انٹیگریشن اور بیٹری مینجمنٹ سافٹ ویئر کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔