امن دشمن ناکام رہیں گے

غلام مصطفیٰ

سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کے قریب ہونے والا خودکُش حملہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ اگرچہ کافی حد تک کمزور ہوچکا ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس الم ناک واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، پولیس اہلکاروں کی شہادت اور متعدد افراد کا زخمی ہونا پوری قوم کے لیے باعثِ افسوس ہے۔ ایسے حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، ریاستی اداروں کا حوصلہ توڑنا اور امن و استحکام کے ماحول کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دہشت گرد اپنے ان مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکے اور نہ ہی آئندہ کامیاب ہوں گے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکُش حملہ آور نے کبل پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے اسے اندر جانے سے روک دیا۔ اسی مزاحمت کے باعث حملہ آور نے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہوسکتا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے پولیس اہلکار اور سیکیورٹی فورسز اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر لمحہ مستعد رہتے ہیں۔ ان شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے ہمیشہ باعثِ فخر رہیں گی اور ان کے اہلِ خانہ کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں، ان کے ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، خیبر، باجوڑ، کرم، بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں مسلسل آپریشنز نے دہشت گرد تنظیموں کی کمر توڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھی مختلف کارروائیوں میں کئی دہشت گرد مارے گئے، جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست اپنی ذمے داری پوری قوت اور عزم کے ساتھ نبھا رہی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اس سے قبل دہشت گردی کے ایک نہایت سنگین دور سے گزر چکا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب ملک کے مختلف شہروں میں آئے روز خودکُش حملے، دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات معمول بن چکے تھے۔ بازار، مساجد، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں، سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات دہشت گردوں کا نشانہ بنتے تھے۔ اس کٹھن دور میں قوم نے بے شمار جانوں کی قربانیاں دیں، لیکن سیکیورٹی فورسز، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور عوام کے مشترکہ عزم نے دہشت گردی کے اس عفریت کو بڑی حد تک شکست دی۔ یہی ماضی اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ چیلنج بھی مستقل مزاجی اور قومی اتحاد کے ذریعے شکست سے دوچار ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق کی طاقت سے نہیں جیتی جاتی بلکہ اس کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، عوامی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، مضبوط عدالتی نظام، سرحدی نگرانی اور قومی یکجہتی بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان نے ان تمام شعبوں میں گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، جدید نگرانی کے نظام اور بروقت کارروائیوں نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دہشت گرد کھلے عام کارروائیاں کرنے کے بجائے چھپ کر حملے کرنے پر مجبور ہیں، جو ان کی کمزوری کی علامت ہے، طاقت کی نہیں۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دہشت گرد عناصر وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے بزدلانہ حملوں کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے حملوں سے وقتی نقصان ضرور ہوتا ہے، مگر یہ ریاست کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ہر چیلنج کا پیشہ ورانہ انداز میں مقابلہ کیا ہے اور آج بھی وہ پوری مستعدی کے ساتھ ملک دشمن عناصر کے خاتمے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کی مسلسل کامیاب کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کے لیے پاکستان کی سرزمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔ اس موقع پر سیاسی قیادت، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور تمام قومی اداروں کی ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مزید مضبوط کریں۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی کے معاملے پر پوری قوم کو ایک آواز ہونا چاہیے۔ شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جدوجہد میں ہر شہری اپنا مثبت کردار ادا کرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔
کبل کا افسوسناک سانحہ یقیناً قوم کے دلوں کو غم زدہ کرگیا ہے، مگر یہ سانحہ ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتا۔ پاکستان ماضی میں بھی دہشت گردی کے بدترین طوفان کا مقابلہ کرکے امن کی راہ ہموار کرچکا ہے۔ آج سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کامیابیاں، دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں اور قوم کا غیر متزلزل عزم اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ دہشت گردی کے باقی ماندہ عناصر بھی اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ ان شاء اللہ وہ دن دُور نہیں جب پاکستان ایک بار پھر مکمل امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر پوری قوت کے ساتھ گامزن ہوگا اور دہشت گردی صرف تاریخ کے ایک تاریک باب کے طور پر یاد کی جائے گی۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔