عوام ووٹ دیں یا نہیں، میں تب بھی اُن کیلئے بات کروں گا، نواز شریف

گلگت: مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔
انہوں نے پوچھا کہ مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتاسکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔
انہوں نے کہا میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقید کرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایا گیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔
ان کا کہنا تھا گلگت ایئرپورٹ جو ہم بنا کر گئے تھے اسے کسی نے بڑا نہیں کیا، یہاں تو بوئنگ جیٹس آنے چاہیے تھے، شہباز شریف سے بات کرکے یہاں کے ایئرپورٹ کو بڑا کرنے کا کہوں گا، یہاں ہفتے میں 3 پروازیں آتی ہیں، 30 پروازیں ہونی چاہئیں، ہم نے 9 گھنٹے کے سفر کو تین گھنٹے تک پہنچایا۔
صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا یہاں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، یہاں پانی موجود ہے، دھوپ ہے، یہاں تو توانائی کا مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے، یہاں سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، مجھے یہاں طویل لوڈشیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے، آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
نواز شریف کا کہنا تھا 2017 میں این ایف سی کے لیے کمیٹی بنائی تھی اور 2018 میں ہمیں فارغ کردیا گیا، یہاں کی حکومت نے کیوں یہاں بہت ساری چیزوں کو نظرانداز کیا، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی۔
انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل 70 سال سے بند تھی، اربوں روپے خرچ کرکے اسے ہم نے پورا کیا، چاہتا ہوں یہاں کے لوگوں کا یہیں علاج ہونا چاہیے، کسی کو اسلام آباد یا دوسرے شہر جانا نہ پڑے، سیاحت سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا، میں سمجھتا ہوں یہاں کے لوگوں کو بھی گھر بنانے کے لیے قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کی آبادی تو بہت کم ہے، سب کو گھر مل جائیں گے، یہاں کے نوجوانوں کو بلاسود قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کے ہونہار بچوں کو اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ بھی دیں گے، خواتین کی یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی۔
صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیے تھے، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔