آخری روٹی

وقاص بیگ

یخ بستہ رات تھی۔ شہر کی روشن سڑکوں پر گاڑیوں کا شور تھا، بازار جگمگا رہے تھے اور لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ انہی سڑکوں کے کنارے ایک بوڑھا شخص پھٹے ہوئے کپڑوں میں بیٹھا تھا۔ اس کا نام کریم بخش تھا۔ سفید بال، جھریوں سے بھرا چہرہ اور آنکھوں میں برسوں کی تھکن صاف دکھائی دیتی تھی۔ کریم بخش کبھی ایک مزدور تھا۔ اس نے اپنی جوانی دوسروں کے گھر بنانے میں گزار دی تھی۔ اینٹیں اٹھاتے اٹھاتے اس کے ہاتھ پتھر جیسے سخت ہوگئے تھے مگر وقت بدلا۔ بڑھاپا آیا، جسم نے ساتھ چھوڑ دیا اور کام ملنا بند ہوگیا۔ جن بچوں کے لیے اس نے ساری زندگی محنت کی تھی، وہ اپنے اپنے گھروں اور دنیا میں مصروف ہوگئے۔
اس رات کریم بخش کے پاس صرف ایک روٹی تھی۔ پورے دن کی بھوک کے بعد وہ اسی روٹی کے سہارے رات گزارنے والا تھا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے روٹی نکالی اور کھانے لگا۔ اتنے میں ایک کمزور سا بچہ اس کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ "بابا جی… دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔” کریم بخش نے بچے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بھوک تھی، ایسی بھوک جو لفظوں سے بیان نہیں ہوسکتی۔ چند لمحے وہ اپنی روٹی کو دیکھتا رہا۔ پھر بچے کو دیکھا۔ اس کے پیٹ میں بھی آگ لگی ہوئی تھی۔
آخرکار اس نے روٹی بچے کی طرف بڑھادی۔ "لے بیٹا، اللہ تیرا بھلا کرے۔” بچے نے روٹی لی اور چند ہی لمحوں میں کھا گیا۔ پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "بابا جی، اب آپ کیا کھائیں گے؟” کریم بخش مسکرا دیا۔ "بیٹا، میں نے زندگی میں بہت کچھ کھایا ہے۔ آج تم کھالو۔” بچہ چلا گیا اور اس رات کریم بخش بھوکا ہی سو گیا۔
اگلی صبح جب وہ اٹھا تو جسم مزید کمزور تھا۔ سردی بھی شدت اختیار کرچکی تھی۔ وہ شہر کی ایک مسجد کے باہر بیٹھ گیا۔ لوگ آتے، نماز پڑھتے اور چلے جاتے۔ کچھ لوگ اس کے پاس سے ایسے گزرتے جیسے وہ کوئی انسان ہی نہ ہو۔ اسی دوران ایک بڑی گاڑی مسجد کے سامنے رکی۔ ایک امیر آدمی نیچے اترا۔ قیمتی کپڑے، مہنگی گھڑی اور پروٹوکول۔ اس نے کریم بخش کو دیکھا اور نظر انداز کرکے آگے بڑھ گیا۔ کریم بخش خاموش رہا۔ شام ڈھل گئی۔ اچانک اسی امیر آدمی کو فون آیا۔ "سر! آپ کا بیٹا ایک حادثے میں زخمی ہوگیا ہے۔” اس کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ خون کی فوری ضرورت ہے۔ خون کا گروپ نایاب تھا۔ پورے اسپتال میں کوئی ڈونر نہیں مل رہا تھا۔ اتفاق سے کریم بخش بھی اسی گروپ کا حامل تھا۔ کریم بخش تجسس کے ساتھ اس آدمی کی جانب بڑھا۔ اُس آدمی سے درکار خون کا بلڈ گروپ پوچھا۔ آدمی کے جواب پر کریم بخش نے بتایا کہ اس کا بھی یہی بلڈ گروپ ہے اور ایک لمحہ سوچے بغیر اپنا خون دینے کی پیشکش کی۔
امیر آدمی حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا، جسے چند لمحات پہلے اس نے نظرانداز کیا تھا، وہی اس کے بیٹے کی جان بچانے کی وجہ بن رہا ہے تو اس کی آنکھیں جھک گئیں۔ امیر آدمی کریم بخش کو ساتھ لیے اسپتال پہنچا۔
کریم بخش کے خون دینے سے امیر آدمی کے بیٹے کی جان بچ گئی اور وہ خطرے سے باہر ہوگیا۔ اُس کے بعد وہ امیر آدمی کریم بخش کے پاس آیا۔ "بابا جی، میں آپ کا قرض کبھی نہیں اتار سکتا۔” کریم بخش ہلکا سا مسکرایا۔ "بیٹا، انسان انسان کے کام آئے تو یہی سب سے بڑی دولت ہے۔”
چند دن بعد کریم بخش کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی۔ اسپتال میں داخل کیا گیا۔ وہی امیر آدمی اب دن رات اس کی خدمت کرتا تھا۔ ایک رات اس نے کریم بخش سے پوچھا: "بابا جی، آپ ہمیشہ دوسروں کے لیے ہی کیوں جیے؟”
کریم بخش کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ اس نے آہستہ سے کہا: "کیونکہ مجھے میری ماں نے ایک بات سکھائی تھی۔”
"کون سی بات؟”
"بیٹا، قبر میں انسان کے ساتھ اس کا بینک بیلنس نہیں جاتا، اس کے نیک اعمال جاتے ہیں۔” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ کریم بخش نے بات جاری رکھی:
"میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ بڑے بڑے محل خالی ہوجاتے ہیں، طاقتور لوگ مٹی میں مل جاتے ہیں، مگر کسی بھوکے کو کھلایا ہوا ایک لقمہ، کسی روتے ہوئے کو دی گئی ایک تسلی اور کسی مجبور کے لیے بہایا گیا ایک آنسو اللہ کے ہاں ضائع نہیں جاتا۔” امیر آدمی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
کچھ دن بعد کریم بخش اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اس کی نمازِ جنازہ میں حیرت انگیز طور پر بہت لوگ موجود تھے۔ وہ بچہ بھی آیا جسے اس نے اپنی آخری روٹی دی تھی۔ اس نے روتے ہوئے کہا: "اگر اس رات بابا جی مجھے روٹی نہ دیتے تو شاید میں زندہ نہ ہوتا۔”
وہ امیر آدمی بھی موجود تھا جس کے بیٹے کی جان کریم بخش نے بچائی تھی۔ جنازے کے بعد امیر آدمی نے اعلان کیا کہ وہ اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ یتیموں، غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے لیے وقف کرے گا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک غریب بوڑھے نے مرنے کے بعد بھی کتنی زندگیاں بدل دی تھیں۔
کریم بخش کے پاس نہ کوئی محل تھا، نہ دولت، نہ عہدہ۔ مگر اس کے پاس ایک چیز تھی جو دنیا کی ہر دولت سے بڑی تھی: ایک نرم دل۔ شاید زندگی کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ جب ہم اس دنیا سے جائیں تو لوگ ہمارے بنائے ہوئے مکانوں کو نہیں، ہمارے دیے ہوئے سکون کو یاد کریں۔ لوگ ہماری دولت کو نہیں، ہماری مہربانی کو یاد کریں۔ لوگ ہماری طاقت کو نہیں، ہمارے کردار کو یاد کریں۔ کیونکہ آخر میں انسان کے پاس صرف دو چیزیں رہ جاتی ہیں: ایک مٹی کی قبر اور دوسرا لوگوں کے دلوں میں اپنا نام۔ سوچئے، آپ اپنے پیچھے کون سی میراث چھوڑنا چاہتے ہیں؟
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ ایک چھوٹا سا اچھا عمل کسی کی پوری زندگی بدل سکتا ہے اور بعض اوقات وہی عمل ہماری نجات کا سبب بن جاتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔