پانی کو ہتھیار بنانا خطرناک

عبدالعزیز بلوچ
دریائے سندھ محض ایک دریا نہیں، بلکہ پاکستان کی تہذیب، معیشت، زراعت اور قومی بقا کی علامت ہے۔ اسی دریا کے پانی نے ہزاروں برس سے اس خطے کی زمینوں کو سیراب کیا، فصلوں کو زندگی بخشی اور کروڑوں انسانوں کے روزگار کا ذریعہ بنا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک انتظامی معاہدہ نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی ایک اہم مثال بھی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ریاست یک طرفہ اقدامات کے ذریعے اس معاہدے کو کمزور کرنے یا اسے سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرے تو اس کے اثرات صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورے خطے کے امن اور عالمی قانونی نظام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جس دوٹوک انداز میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا، وہ نہ صرف قومی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ان رہنماؤں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور بھارت کے کسی بھی یک طرفہ اقدام کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے نے کئی جنگوں، سیاسی کشیدگی اور شدید اختلافات کے باوجود اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھی۔ یہی اس کی مضبوطی اور بین الاقوامی اعتماد کی دلیل ہے۔ اگر آج کوئی ملک سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ایسے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہے، بلکہ عالمی سفارتی اصولوں کے لیے بھی ایک خطرناک مثال ہے۔ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین، انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔ جدید دنیا میں خوراک، توانائی اور پانی کو انسانی سلامتی کا بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر متاثر کرنا درحقیقت اس کی معیشت، زراعت، ماحول اور عوامی زندگی پر براہِ راست دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسے اقدامات مستقبل میں دیگر خطوں کے لیے بھی ایک غلط مثال قائم کرسکتے ہیں، جہاں مشترکہ دریاؤں اور آبی وسائل پر انحصار کرنے والے ممالک پہلے ہی حساس صورت حال سے دوچار ہیں۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں لاکھوں ایکڑ اراضی دریائے سندھ اور اس سے نکلنے والے نہری نظام کے ذریعے سیراب ہوتی ہے۔ کپاس، گندم، چاول، گنا اور دیگر اہم فصلوں کا انحصار انہی آبی وسائل پر ہے۔ اگر پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خوراک کی پیداوار، صنعتی سرگرمیوں، برآمدات، روزگار اور مجموعی قومی معیشت پر بھی پڑیں گے۔ اس لیے پاکستان کے لیے پانی محض قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور عوامی بقا کا مسئلہ ہے۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اختلافات کے باوجود سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کا راستہ اختیار کیا ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی سندھ طاس معاہدے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا اور نہ ہی اس کی خلاف ورزی کی۔ یہی ذمے دارانہ طرزِ عمل ایک مہذب ریاست کی پہچان ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی فریق یک طرفہ فیصلوں کے ذریعے معاہدے کی حیثیت کو چیلنج کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے بین الاقوامی تشخص کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ خطے میں عدم اعتماد اور کشیدگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری بھی اس مسئلے کو محض دو ہمسایہ ممالک کا تنازع سمجھنے کے بجائے ایک اصولی معاملہ تصور کرے۔ اگر بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کی گئی تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حصوں میں بھی طاقتور ریاستیں کمزور ممالک کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ بین الاقوامی اداروں، عالمی بینک اور متعلقہ فورمز کی ذمے داری ہے کہ وہ معاہدوں کی حُرمت کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔ پاکستان کو بھی اس معاملے پر صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ بین الاقوامی عدالتوں، قانونی فورمز، سفارتی رابطوں اور عالمی میڈیا کے ذریعے اپنا مؤقف مزید مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر آبی وسائل کے بہتر انتظام، نئے آبی ذخائر، نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور جدید آب پاشی کے نظام پر بھی فوری توجہ دینا ہوگی تاکہ داخلی سطح پر بھی پانی کے ہر قطرے کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی ممالک کے درمیان امن نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔ تاہم امن کی بنیاد انصاف، معاہدوں کی پاسداری اور باہمی احترام پر ہونی چاہیے، نہ کہ دباؤ، دھونس یا یک طرفہ اقدامات پر۔ اگر معاہدوں کو سیاسی مفادات کی نذر کیا جائے گا تو امن کا خواب بھی کمزور پڑجائے گا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، مگر اپنے بنیادی قومی مفادات، آبی حقوق اور خودمختاری کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہی ایک ذمے دار ریاست کا مؤقف ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ اختلافات مذاکرات، قانون اور سفارت کاری کے ذریعے حل ہوں، مگر اس کے ساتھ یہ پیغام بھی واضح ہونا چاہیے کہ قومی وسائل اور عوام کے بنیادی حقوق کے دفاع میں کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائی جاسکتی۔ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس کی حفاظت دراصل خطے کے امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کی حفاظت ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے جب کہ بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ یک طرفہ اقدامات سے گریز کرتے ہوئے بین الاقوامی ذمے داریوں اور معاہدوں کی پاسداری کرے۔ یہی راستہ دونوں ممالک کے بہتر مستقبل، علاقائی امن اور پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔