شکست یا کامیابی کا آغاز

عبدالعزیز بلوچ
رات کے قریباً دو بج رہے تھے۔ شہر سو چکا تھا، مگر ایک شخص سڑک کے کنارے بیٹھا جاگ رہا تھا۔ اس کے سامنے ایک چھوٹا سا بریف کیس پڑا تھا، جیب میں صرف چند سو روپے تھے اور موبائل کی اسکرین پر ایک کے بعد ایک پیغامات آ رہے تھے: "آپ کی درخواست مسترد کردی گئی ہے۔”
"ہمیں اس وقت آپ کی خدمات کی ضرورت نہیں۔”
"ہم نے کسی اور امیدوار کا انتخاب کیا ہے۔”
وہ ہر پیغام پڑھتا، موبائل بند کرتا اور کچھ دیر آسمان کو دیکھتا رہتا۔ اس کا نام سلمان تھا۔ عمر صرف بتیس سال تھی، لیکن پچھلے تین برسوں نے اسے ایسا تھکا دیا تھا جیسے وہ ساٹھ برس کا ہوچکا ہو۔ وہ ایک معمولی نوکری کرتا تھا۔ تنخواہ زیادہ نہیں تھی، مگر گھر کا چولہا چل جاتا تھا۔ پھر ایک دن کمپنی بند ہوگئی۔ سلمان نے سوچا: "چلو، کچھ دن مشکل ہوں گے… پھر نئی نوکری مل جائے گی۔”
مگر وہ "کچھ دن” مہینوں میں بدل گئے۔ ایک نوکری کے لیے درخواست دی۔ انٹرویو ہوا۔ منتخب نہ ہوا۔ دوسری جگہ گیا۔ تجربہ کم قرار دیا گیا۔ تیسری جگہ گیا۔ عمر زیادہ بتائی گئی۔ چوتھی جگہ گیا۔ تنخواہ اتنی کم تھی کہ آنے جانے کا خرچ بھی پورا نہ ہوتا۔ پھر اس نے چھوٹا سا کاروبار شروع کرنے کی کوشش کی۔ کچھ پیسے ادھار لیے۔ کاروبار شروع کیا۔ چند ماہ بعد ایک نقصان ہوا اور سارا سرمایہ ڈوب گیا۔
اب قرض بھی تھا، نوکری بھی نہیں تھی اور گھر والوں کی نظریں بھی اس سے سوال کرتی تھیں۔ ایک رات اس کی بیوی نے صرف اتنا پوچھا: "سلمان… کچھ ہوا؟”
وہ مسکرایا۔ "ہاں، سب ٹھیک ہے۔” لیکن وہ جانتا تھا کہ سب ٹھیک نہیں تھا۔ اس رات وہ گھر سے نکل گیا۔ سڑک کے کنارے بیٹھا وہ خود سے کہہ رہا تھا: "شاید میں ناکام انسان ہوں۔”
پھر اچانک مسجد سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہوئی۔ اللہ اکبر… اللہ اکبر… سلمان نے سر اٹھایا۔ کچھ لمحوں تک وہ خاموش بیٹھا رہا۔ پھر جیسے کسی نے اس کے اندر چھپی ہوئی کوئی گرہ کھول دی ہو۔ وہ مسجد میں داخل ہوگیا۔ نماز کے بعد امام صاحب ایک کونے میں بیٹھے قرآن پڑھ رہے تھے۔ سلمان ان کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا: "مولانا صاحب… اگر انسان بار بار ناکام ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟” امام صاحب نے قرآن بند کیا اور اس کی طرف دیکھا۔ پوچھا: "بار بار؟”
سلمان نے کہا: "جی… بہت بار۔”
امام صاحب مسکرائے۔ "تو تم نے ناکامی گننا کب شروع کیا؟” سلمان نے حیرت سے دیکھا۔ "جب سے حالات خراب ہوئے۔”
امام صاحب نے کہا: "اور اللہ کی نعمتیں کتنی گنی ہیں؟”
سلمان خاموش ہوگیا۔ امام صاحب نے آہستہ سے کہا: "بیٹا، کبھی کبھی انسان ایک بند دروازے کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرلیتا ہے کہ دنیا میں کوئی راستہ نہیں بچا۔ حالانکہ اللہ نے شاید اس کے لیے راستہ کہیں اور رکھا ہوتا ہے۔”
سلمان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ امام صاحب نے قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ سُنایا۔ "اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔”
پھر گویا ہوئے: "لیکن توکل کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی بیٹھ جائے اور دروازہ کھلنے کا انتظار کرے۔” "توکل یہ ہے کہ انسان پوری طاقت سے کوشش کرے، پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کردے۔”
یہ جملہ سلمان کے دل میں اتر گیا۔ اگلے دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ صرف نوکریاں تلاش نہیں کرے گا۔ وہ اپنی قابلیت تلاش کرے گا۔ اسے لکھنے کا شوق تھا۔ اس نے موبائل اٹھایا، مفت آن لائن کورسز تلاش کیے اور روزانہ چند گھنٹے سیکھنے لگا۔ پہلے ہفتے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دوسرے ہفتے بھی نہیں۔ تیسرے ہفتے بھی نہیں۔ لیکن اس بار سلمان نے ناکامی کو نتیجہ نہیں سمجھا۔ اس نے اسے تربیت سمجھا۔ تین ماہ بعد اس نے ایک چھوٹا سا آن لائن کام شروع کیا۔ پہلی کمائی ہوئی: دو ہزار روپے۔ رقم بہت کم تھی۔ لیکن سلمان کے لیے وہ دو ہزار روپے دنیا کی سب سے بڑی دولت تھے۔ کیونکہ تین سال بعد پہلی بار اسے محسوس ہوا تھا کہ: "میں ختم نہیں ہوا… میں دوبارہ شروع ہوا ہوں۔” پھر پانچ ہزار۔ پھر دس ہزار۔ پھر ایک مستقل کلائنٹ۔ پھر دوسرا۔ ایک سال بعد وہی سلمان، جو کبھی سڑک کے کنارے بیٹھ کر خود کو ناکام سمجھ رہا تھا، اپنے گھر کے ایک کمرے میں تین نوجوانوں کو کام سکھارہا تھا۔
ایک دن اس کی بیوی نے پوچھا: "آپ کو یاد ہے وہ رات جب آپ گھر سے نکل گئے تھے؟”
سلمان مسکرایا۔ "ہاں۔”
وہ بولی: "تب مجھے لگا تھا آپ ٹوٹ گئے ہیں۔”
سلمان نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: "میں ٹوٹا نہیں تھا… اللہ مجھے دوبارہ بنا رہا تھا۔”
زندگی میں بعض اوقات دروازے بند نہیں ہوتے، راستے بدلتے ہیں۔ کبھی نوکری نہیں ملتی تو ہنر سیکھنے کا راستہ کھلتا ہے۔ کبھی کاروبار ناکام ہوتا ہے تو تجربہ ملتا ہے۔ کبھی لوگ چھوڑ جاتے ہیں تو انسان اپنے رب کے قریب ہوجاتا ہے۔ اور کبھی انسان کو لگتا ہے کہ وہ سب کچھ ہار گیا… حالانکہ اللہ اسے ایک ایسے مقام کے لیے تیار کررہا ہوتا ہے جہاں پہنچنے کے بعد وہ ماضی کی ہر تکلیف کو سمجھ پاتا ہے۔ اس لیے اگر آج آپ کی زندگی میں بھی دروازے بند ہیں… تو خود کو ناکام قرار نہ دیں۔ کوشش جاری رکھیں۔ دعا جاری رکھیں۔ نماز سے جڑے رہیں۔ اور یاد رکھیں: اللہ کے فیصلے میں تاخیر ہوسکتی ہے، اندھیرا ہوسکتا ہے، امتحان ہوسکتا ہے… مگر بے مقصد کچھ نہیں ہوتا۔ شاید جس دروازے پر آپ آج شکست کھارہے ہیں… وہ دروازہ آپ کے لیے تھا ہی نہیں۔ آپ کا راستہ کہیں اور ہے۔ بس چلتے رہیں، کیونکہ کبھی کبھی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی انسان کی سب سے بڑی ناکامی کے بعد شروع ہوتی ہے۔