واٹس ایپ یونیورسٹی کے پروفیسر

غلام مصطفیٰ
ہمارے محلے میں ایک شخصیت ایسی بھی رہتی تھی جسے دنیا "ارشاد صاحب” کے نام سے جانتی تھی، لیکن محلے والے انہیں "واٹس ایپ یونیورسٹی کے پروفیسر” کہتے تھے۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ انہوں نے کوئی یونیورسٹی بنائی تھی، بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ صبح آنکھ کھلتے ہی علم نہیں، فارورڈ تقسیم کرنا اپنا قومی فریضہ سمجھتے تھے۔ ان کا دن فجر کی نماز سے نہیں، "فارورڈڈ مینی ٹائمز” سے شروع ہوتا تھا۔
صبح پانچ بجے پہلا پیغام آتا: "اگر یہ پیغام دس لوگوں کو نہ بھیجا تو اگلے جمعہ تک آپ کے گھر کا وائی فائی بند ہوجائے گا۔”
ساتھ میں لکھا ہوتا: "آزمودہ۔” یہ "آزمودہ” کس پر آزمایا گیا تھا، آج تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔
ارشاد صاحب کے موبائل میں اتنے واٹس ایپ گروپ تھے کہ اگر ایک دن تمام گروپ ایڈمن ہڑتال کردیتے تو شاید پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار دوگنی ہو جاتی۔ ایک دن صبح سات بجے انہوں نے پورے محلے میں پیغام بھیجا: "آج رات بارہ بجے سے سورج تین دن تک نہیں نکلے گا، ناسا نے تصدیق کردی ہے۔” دس منٹ بعد محلے کے کریانے والے نے تین سو موم بتیاں بیچ دیں۔ پندرہ منٹ بعد لوگوں نے آٹا، چینی اور دالیں ایسے خریدنا شروع کردیں جیسے سورج نہیں، قیامت آنے والی ہو۔ دوپہر تک معلوم ہوا کہ سورج حسبِ معمول اگلے دن بھی نکلنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ارشاد صاحب نے فوراً دوسرا پیغام بھیجا: "یہ خبر منسوخ کر دی گئی ہے۔” جیسے سورج ان کے واٹس ایپ اسٹیٹس دیکھ کر اپنا شیڈول تبدیل کرتا ہو۔
ان کی تحقیق کا معیار بھی نرالا تھا۔ اگر کسی تصویر کے نیچے لکھا ہوتا: "یہ برازیل کا شاپنگ مال ہے۔” تو وہ جوش سے لکھتے: "واہ! انجینئرنگ کا شاہکار۔” اور اگلے دن وہی تصویر کسی دوسری پوسٹ میں کسی مُلک کا ایئرپورٹ بتائی جارہی ہوتی تو اُس پر بھی تعریفوں کے پُل باندھ دیتے۔
ان کے نزدیک سچائی کا معیار عدالت نہیں، فارورڈ کی تعداد تھی۔ ایک دن انہوں نے اعلان کیا: "نمک اور چینی ملا کر کھاؤ، تمام بیماریاں ختم۔”
دوسرے دن: "چینی زہر ہے۔”
تیسرے دن: "نمک سفید موت ہے۔”
چوتھے دن: "دونوں ملا کر کھاؤ، زندگی لمبی ہوگی۔”
محلے کے لوگ سمجھ نہیں پارہے تھے کہ زندہ رہنا ہے یا تحقیق کرتے کرتے دنیا سے جانا ہے۔
ان کی اہلیہ اکثر کہتی تھیں: "خدا کے لیے ایک دن بغیر فارورڈ کیے بھی گزار لیا کریں۔”
ارشاد صاحب سینہ تان کر کہتے: "میں قوم میں شعور بیدار کررہا ہوں۔”
بیگم ہنس کر جواب دیتیں: "قوم جاگ گئی ہے، اب تم سوجاؤ۔”
محلے میں ایک نوجوان انجینئر بھی رہتا تھا۔ اس نے ارشاد صاحب کو کئی بار سمجھایا: "بھائی! ہر خبر کی تصدیق کرلیا کریں۔”
ارشاد صاحب بولے: "تم ابھی بچے ہو، ہم نے نوکیا والے زمانے سے فارورڈ کیے ہیں۔”
یوں اندازہ ہوتا تھا جیسے جھوٹی خبروں کی دنیا میں انہیں عمر بھر کا سروس ایوارڈ ملنا چاہیے۔
اصل تماشا ایک جمعے کو ہوا۔ ارشاد صاحب کے پاس ایک پیغام آیا: "حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آج رات بارہ بجے سے پانچ سو روپے کے تمام نوٹ بند ہوجائیں گے۔ فوراً خرچ کریں۔”
انہوں نے نہ صرف یقین کیا بلکہ پورے محلے میں آگ کی طرح پھیلادیا۔ شام ہوتے ہوتے دکانوں پر رش لگ گیا۔ لوگ پانچ سو کے نوٹ ایسے خرچ کررہے تھے جیسے آلو خراب ہونے والے ہوں۔ ارشاد صاحب نے بھی اپنی برسوں کی جمع پونجی نکالی اور سوچا: "نوٹ تو ویسے بھی بند ہونے والے ہیں، کیوں نہ نیا اسمارٹ فون خرید لیا جائے۔”
وہ سیدھے موبائل مارکیٹ پہنچ گئے۔ دکان دار نے فون دیا، پیسے لیے، رسید دی اور مسکرا کر بولا: "مبارک ہو۔”
رات نو بجے ٹی وی پر خبر آئی: "پانچ سو کے نوٹ بند ہونے کی خبر جھوٹی ہے، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں۔”
ارشاد صاحب نے ٹی وی دیکھا… پھر اپنا نیا فون دیکھا… پھر خالی پرس دیکھا… اور آخر میں چھت کی طرف ایسے دیکھا جیسے وہاں سے کوئی غیر مرئی مخلوق آ کر ریفنڈ کر دے گی۔
اگلے دن محلے والوں نے پوچھا: "ارشاد بھائی! نوٹ تو چل رہے ہیں۔”
وہ کھنکار کر بولے: "اصل میں میں تو لوگوں کا امتحان لے رہا تھا۔”
محلے کا نائی فوراً بولا: "اور آپ خود فیل ہوگئے۔”
پورا بازار قہقہوں سے گونج اٹھا۔
ایک دن پہلی بار ارشاد صاحب نے کسی خبر کو فوراً فارورڈ نہیں کیا۔ پہلے گوگل کیا… پھر دو نیوز ویب سائٹس دیکھیں… پھر ٹی وی پر تصدیق کی… پھر بھی شک رہا تو بھیجا ہی نہیں۔
محلے والوں نے حیرت سے پوچھا: "آج کوئی فارورڈ نہیں آیا؟”
ارشاد صاحب مسکرائے اور بولے: "پہلے میں سمجھتا تھا ہر پیغام سچ ہوتا ہے، اب معلوم ہوا ہر سچ پیغام نہیں ہوتا۔” اس دن کے بعد ان کا لقب بھی بدل گیا۔
پہلے وہ "واٹس ایپ یونیورسٹی کے پروفیسر” تھے۔ اب لوگ انہیں "ریٹائرڈ پروفیسر” کہتے تھے۔
وہ بھی ہنس کر جواب دیتے: "ڈگری واپس کردی ہے، اب عقل سے کام لیتا ہوں۔” اور واقعی، اس دن کے بعد محلے میں جھوٹی خبروں کا کاروبار کافی ٹھنڈا پڑگیا، کیونکہ سب سے بڑا سپلائر ہی ریٹائر ہوچکا تھا۔
سبق: ہر وہ بات جو موبائل کی اسکرین پر نظر آئے، سچ نہیں ہوتی۔ خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کرلینا نہ صرف سمجھ داری ہے بلکہ ایک سماجی ذمے داری بھی۔ بعض اوقات ایک بے سوچا سمجھا فارورڈ صرف ہنسی کا نہیں، بڑے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔