مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی پُرتشدد کارروائیاں، برطانوی مسلمان سراپا احتجاج!

لندن: اسرائیلی فورسز کی مسجد اقصیٰ میں‌ پُرتشدد کارروائیوں کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے برطانیہ میں مظاہرہ کیا گیا جب کہ برطانیہ کی رکن پارلیمنٹ نے اسرائیل فوج کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم بورس جانسن سے معاملے پر آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کی رکن یاسمین قریشی نے فلسطین کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم بورس جانسن کو خط لکھ دیا۔ اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ ’اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مسجدِ اقصیٰ میں عبادت کرنے والے 200 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے‘۔
انہوں نے اپنے خط میں بورس جانسن کو متوجہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’وزیراعظم اس معاملے کو اسرائیلی حکام کے سامنے اٹھائیں اور فوری فوج کے پُرتشدد واقعات کو رکوائیں‘۔
اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں پر حملے سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
دوسری طرف بریڈ فورڈ میں واقع ٹاؤن ہال کے سامنے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مظاہرہ بھی کیا، جس میں رکن پارلیمنٹ ناز شاہ بھی شریک ہوئیں۔
مظاہرے میں خواتین اور بچے بھی موجود تھے، جنہوں نے فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ شرکا نے فلسطین کے پرچم اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر مظالم فوری بند کرو کے الفاظ درج تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ شب قابض اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے والے نمازیوں پر پھر دھاوا بولا تھا۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور شیلنگ سے بچی اور خواتین سمیت 80 سے زائد نمازی زخمی ہوئے۔
اس سے قبل جب جمعۃ الوداع کی شب فلسطینیوں نے بڑی تعداد میں مسجد اقصیٰ پہنچ کر عبادت شروع کی تو اسرائیلی فورسز نے قبلۂ اوّل میں داخل ہوکر نمازیوں کو نکالنے کے لیے لاٹھی چارج اور فائر و شیلنگ کی تھی۔
خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو روز سے جاری اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں ایک سالہ بچی سمیت ڈھائی سو سے زائد نمازی زخمی ہوئے۔
ترک صدر اردوان اور وزیراعظم عمران خان نے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اعلان کیا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔