شہدا کی حرمت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے

وقاص بیگ

پاکستان ایک ایسی ریاست ہے، جس کی بنیاد بے شمار قربانیوں پر استوار ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک اس سرزمین کے سپوتوں نے وطن کی سلامتی، خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو، سرحدوں کا دفاع ہو یا اندرونی امن کا قیام، ہمارے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں نے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ "شہید” کا لفظ پاکستانی قوم کے لیے صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ عقیدت، احترام اور قومی غیرت کی علامت ہے۔ ایسے میں اگر کوئی قومی یا مذہبی رہنما ایسا بیان دے جس سے شہدا کے اہلِ خانہ یا عوام کے جذبات مجروح ہوں تو اس پر سوال اٹھنا ایک فطری امر ہے۔ مولانا فضل الرحمان ملک کی ایک قدآور سیاسی اور مذہبی شخصیت ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے قومی سیاست کا اہم حصہ رہے ہیں اور لاکھوں لوگ انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسی لیے ان کے ہر لفظ کی اہمیت عام سیاست دان سے کہیں زیادہ ہے۔ ان جیسے رہنما سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ حساس قومی معاملات پر نہایت ذمے داری، بردباری اور احتیاط کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ بدقسمتی سے حالیہ دنوں میں شہدا سے متعلق ان کے بیان نے نہ صرف عوامی سطح پر بے چینی پیدا کی، بلکہ شہدا کے اہلِ خانہ کے لیے بھی دکھ اور تکلیف کا باعث بنا۔
سیاسی اختلافات ہر جمہوری معاشرے کا حسن ہوتے ہیں۔ حکومتوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، پالیسیوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور ریاستی فیصلوں پر سوال بھی اٹھائے جاسکتے ہیں، لیکن وطن کے لیے جان قربان کرنے والوں کی عزت و حرمت کو سیاسی مباحث کا حصہ بنانا کسی طور مناسب نہیں۔ شہدا کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم کا مشترکہ سرمایہ ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیوں کی بدولت ہی قومیں امن، آزادی اور استحکام سے زندگی گزارتی ہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، انہیں دنیا نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ہزاروں فوجی افسران اور جوانوں نے اپنے خون سے اس دھرتی کو محفوظ بنایا۔ اسی طرح پولیس، رینجرز، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے بھی اپنی جانیں قربان کیں۔ اگر یہ قربانیاں نہ ہوتیں تو شاید پاکستان آج بدترین بدامنی کا شکار ہوتا۔ بلاشبہ امن کی موجودہ فضا ان ہی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
شہید کے گھر کا دروازہ جب کسی تابوت پر دستک دیتا ہے تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا خاندان عمر بھر کے لیے بدل جاتا ہے۔ ایک ماں اپنے جگر کے ٹکڑے سے محروم ہوجاتی ہے، ایک بیوی زندگی بھر کی تنہائی کا بوجھ اٹھاتی ہے اور بچے اپنے والد کی شفقت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کے لیے سب سے بڑی تسلی یہی ہوتی ہے کہ پوری قوم ان کے پیاروں کی قربانی کو سلام پیش کرتی ہے۔ لہٰذا کوئی بھی ایسا بیان جو اس احترام کو متاثر کرے، ان کے زخموں کو تازہ کردیتا ہے۔
یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ مذہبی رہنماؤں کی زبان ہمیشہ اتحاد، صبر، احترام اور اخوت کا پیغام دینی چاہیے۔ اسلام نے بھی شہادت کے بلند مقام کو واضح کیا ہے اور شہدا کے احترام کی تعلیم دی ہے۔ اسی لیے کسی بھی مذہبی رہنما کے الفاظ سے اگر کوئی ایسا تاثر پیدا ہو جو شہدا کی عظمت پر سوال اٹھاتا محسوس ہو تو اس پر تنقید ہونا غیر معمولی بات نہیں۔
مولانا فضل الرحمان ایک سینئر سیاست دان ہیں اور ان کے پاس اتنا سیاسی تجربہ ضرور ہے کہ وہ الفاظ کے اثرات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ اگر ان کے بیان سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے یا عوام نے اسے شہدا کی توہین کے طور پر محسوس کیا ہے تو مناسب یہی ہوگا کہ وہ اس کی وضاحت کریں یا اپنے الفاظ واپس لے لیں۔ بڑے رہنما کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کسی بھی غلط فہمی کا ازالہ کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاملے کو سیاسی انتقام یا نفرت پھیلانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اختلاف ضرور کیا جائے مگر دلیل، شائستگی اور آئینی دائرے میں رہ کر۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن شہدا کا احترام ایک مستقل قومی قدر ہے جس پر پوری قوم کو متفق رہنا چاہیے۔ آج پاکستان کو سب سے زیادہ قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور ہمارے سیکیورٹی ادارے اب بھی ملک کے امن کے لیے سرگرم ہیں۔ ایسے حالات میں قومی قیادت، مذہبی شخصیات اور سیاسی جماعتوں کو ایسے بیانات دینے چاہئیں جو قوم کو جوڑیں، نہ کہ تقسیم کریں۔ دشمن ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ ہمارے اندر اختلافات بڑھیں جب کہ ہماری طاقت اتحاد، یکجہتی اور اپنے قومی ہیروز کے احترام میں ہے۔
شہدا کی قربانیوں پر کسی قسم کی سیاست یا غیر ذمے دارانہ گفتگو سے گریز کرنا ہر قومی رہنما کا فرض ہے۔ پاکستان کے عوام اپنے شہدا سے محبت کرتے ہیں اور ان کی عظمت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرتے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حُسن ضرور ہے، لیکن وطن کے لیے جان دینے والوں کے احترام پر پوری قوم کو ایک آواز ہونا چاہیے۔
آخر میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ شہدا کا مقام ہر قسم کی سیاسی کشمکش سے بالاتر ہے۔ ان کی قربانیوں کا احترام نہ صرف ہمارا اخلاقی اور قومی فرض ہے، بلکہ یہی پاکستان کی سلامتی، استحکام اور قومی وحدت کی ضمانت بھی ہے۔ جو زبان قوم کو جوڑتی ہے وہی تاریخ میں عزت پاتی ہے جب کہ ایسے الفاظ جو دلوں میں رنجش پیدا کریں، وہ کبھی قومی مفاد کی خدمت نہیں کرسکتے۔ اس لیے تمام سیاسی و مذہبی قیادت کو اپنے بیانات میں ایسی احتیاط برتنی چاہیے جو شہدا کے اہلِ خانہ کے زخموں پر مرہم رکھے اور قوم کے اتحاد کو مزید مضبوط کرے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔