جدید پولٹری فارمنگ سے خطرناک بیکٹیریا پھیلنے کا خدشہ
لندن: برطانوی سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ جدید تجارتی پولٹری فارمنگ ایک ایسے خطرناک بیکٹیریا کے پھیلاؤ میں اضافہ کررہی ہے جو فوڈ پوائزننگ، سیپسس (خون کے شدید انفیکشن) اور بعض صورتوں میں آنتوں کے کینسر سے بھی منسلک ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق گزشتہ 35 برس کے دوران کمرشل مرغیوں میں کیمپائلوبیکٹر بیکٹیریا کے پھیلاؤ میں قریباً 100 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آلودہ یا مناسب طریقے سے نہ پکی ہوئی مرغی کے گوشت میں موجود یہ بیکٹیریا برطانیہ میں بیکٹیریل فوڈ پوائزننگ کی سب سے بڑی وجہ ہے، جہاں گزشتہ سال اس کے قریباً 70 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ زیادہ تر مریض ایک ہفتے کے اندر صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ تاہم، بعض صورتوں میں یہ انفیکشن جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اور اسے آنتوں کے کینسر کے پھیلاؤ سے بھی جوڑا گیا ہے۔
فوڈ ہائجین سرٹیفکیٹ ادارے کے مطابق برطانیہ میں ہر سال قریباً 100 افراد کی موت کیمپائلوبیکٹر انفیکشن کے باعث ہوتی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس بیماری کے کیسز (جن میں اسہال، قے اور پیٹ درد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں) 2016 کے بعد قریباً ایک تہائی بڑھ چکے ہیں۔
نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسی جریدے میں شائع شدہ تحقیق کے مصنفین کا کہنا تھا کہ فیکٹری طرز کی پولٹری فارمنگ اس بیکٹیریا کو سپر مارکیٹوں تک پہنچنے والی مرغیوں میں تیزی سے پھیلنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔
ان کے مطابق یہ تحقیق اس بات کا نیا ثبوت ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے ماحول میں آنے والی تبدیلیاں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ کرسکتی ہیں۔