پٹرول مافیا، ہوشیار باش!

وقاص بیگ
کسی بھی ملک میں پٹرولیم مصنوعات محض ایک تجارتی شے نہیں ہوتیں بلکہ معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور روزمرہ زندگی کا قریباً ہر شعبہ ایندھن سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں خلل، مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی کی خبریں سامنے آتی ہیں تو اس کے اثرات صرف پٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشی نظام متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان ایک ضروری قدم ضرور ہے، لیکن اصل سوال اس اعلان پر مؤثر عمل درآمد کا ہے۔ پاکستان ماضی میں کئی مرتبہ ایسے حالات دیکھ چکا ہے جب پٹرولیم مصنوعات کی قلت نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ لمبی قطاریں، بند پٹرول پمپ، نقل و حمل کا تعطل، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اور مصنوعی مہنگائی نے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر مواقع پر قلت حقیقی کم اور مصنوعی زیادہ ثابت ہوئی۔ بعض عناصر نے ناجائز منافع کے لالچ میں ذخیرہ اندوزی کی، سپلائی روک لی یا عوام میں خوف پیدا کر کے منافع کمانے کی کوشش کی۔ ایسے رویے نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ قومی مفاد کے بھی سراسر خلاف ہیں۔ یہ اطمینان بخش بات ہے کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق سپلائی کو بھی یقینی بنایا جاچکا ہے۔ اگر واقعی صورت حال یہی ہے تو پھر کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت ناقابلِ قبول ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نگرانی، انتظامی کمزوری یا ناجائز منافع خوری کا ہے۔ ایسی صورت میں متعلقہ اداروں کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور سپلائی میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں۔
مصنوعی قلت کا سب سے زیادہ نقصان متوسط اور غریب طبقے کو پہنچتا ہے۔ ایک مزدور، رکشا ڈرائیور، ٹیکسی چلانے والا یا موٹر سائیکل پر روزگار کمانے والا شخص اگر گھنٹوں پٹرول کے انتظار میں کھڑا رہے تو اس کا روزگار متاثر ہوتا ہے۔ یہی صورت حال ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کرایوں میں اضافے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید مہنگائی کا باعث بنتی ہے۔ یوں چند افراد کا ناجائز منافع لاکھوں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیتا ہے۔ حکومت نے صوبائی انتظامیہ کے تعاون سے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ یہ فیصلہ درست سمت میں ایک قدم ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کارروائیاں نمائشی نہ ہوں بلکہ قانون کی عمل داری ہر سطح پر یکساں نظر آئے۔ اگر چند دن کی مہم کے بعد نگرانی کمزور پڑ جائے تو ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سپلائی چین کی مسلسل نگرانی، پٹرول پمپوں کا باقاعدہ معائنہ، ذخائر کا شفاف ریکارڈ اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ افواہوں کی بنیاد پر غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ قلت کی خبروں کے بعد لوگ ضرورت سے زیادہ ایندھن خریدنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے وقتی دباؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر حکومتی معلومات شفاف اور بروقت ہوں تو ایسی افواہوں کی گنجائش خود بخود کم ہو جاتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا معاملہ صرف انتظامی نہیں بلکہ معاشی استحکام سے بھی جڑا ہوا ہے۔ خطے میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے خدشات کے پیش نظر حکومت کو ہنگامی منصوبہ بندی ہر وقت تیار رکھنی چاہیے۔ تاہم ان بیرونی عوامل کا فائدہ اٹھا کر مصنوعی قلت پیدا کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ توانائی کے مؤثر استعمال اور کفایت شعاری کو قومی رویہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ غیر ضروری ایندھن کے استعمال میں کمی، توانائی کی بچت اور متبادل ذرائع پر توجہ مستقبل میں درآمدی دباؤ کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، مگر یہ تمام اقدامات اس وقت مؤثر ہوں گے جب مارکیٹ میں ایندھن کی فراہمی شفاف، مسلسل اور بلا تعطل رہے۔ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ قومی معیشت کا اعتماد صرف بڑے معاشی منصوبوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ ضروریات کی بلا رکاوٹ دستیابی سے بھی وابستہ ہوتا ہے۔ اگر عوام کو یقین ہو کہ حکومت ہر حال میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنائے گی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تو نہ صرف بے یقینی ختم ہوگی بلکہ بازار میں اعتماد بھی بحال ہوگا۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔ ایسے عناصر جو ذاتی مفاد کے لیے عوام کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں، ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وقتی اقدامات کے بجائے ایسا مؤثر نظام تشکیل دے جو ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت کا مستقل سدباب کر سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کو ریلیف، معیشت کو استحکام اور ریاست کو اعتماد فراہم کر سکتا ہے۔