جب سارے دروازے بند ہو جائیں

عبدالعزیز بلوچ

رات کے قریباً تین بجے تھے۔ پورا محلہ سو چکا تھا، مگر سلمان اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا خاموشی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ سامنے گلی میں جلنے والی ایک مدھم سی بتی بار بار جھلملا رہی تھی، جیسے اندھیرے سے لڑتے لڑتے تھک گئی ہو۔ سلمان کی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہوگئی تھی۔
وہ ایک چھوٹی سی دکان پر کام کرتا تھا۔ آمدن محدود تھی، گھر کے اخراجات بڑھتے جارہے تھے اور اوپر سے چھوٹی بہن کی شادی قریب تھی۔ کئی دن سے وہ سوچ رہا تھا کہ آخر کب تک حالات سے لڑتا رہے گا۔ اس رات اس نے پہلی بار دل میں کہا: "شاید اللہ نے میرے لیے کچھ لکھا ہی نہیں۔” یہ جملہ زبان سے نکلا تو وہ خود ہی چونک گیا۔ اس کی نظر میز پر پڑے قرآن مجید پر گئی۔ وہ کچھ دیر دیکھتا رہا، پھر اٹھا، وضو کیا اور خاموشی سے دو رکعت نفل پڑھنے کھڑا ہوگیا۔ سجدے میں جاتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس نے کہا: "یااللہ! میں تھک گیا ہوں، مگر تجھ سے مایوس نہیں ہونا چاہتا۔ بس مجھے راستہ دکھا دے۔” نماز کے بعد اس نے قرآن کھولا۔ اتفاق سے اس کی نظر سورۃ الشرح کی آیات پر پڑی: "بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔”
سلمان نے آیات دوبارہ پڑھیں۔ پھر تیسری بار۔ اس رات اسے کوئی خزانہ نہیں ملا، کوئی بڑی نوکری نہیں ملی، کوئی اچانک رقم بھی ہاتھ نہیں آئی۔ لیکن اس کے اندر کچھ بدل گیا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ حالات کا ماتم کرنے کے بجائے اپنے حصے کی کوشش کرے گا۔
اگلے دن دکان پر جاتے ہوئے اس نے راستے میں ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو ہاتھ سے بنے ہوئے لکڑی کے چھوٹے سامان فروخت کررہا تھا۔ سلمان رک گیا۔ اس نے سامان دیکھا اور پوچھا: "بابا! یہ آپ خود بناتے ہیں؟”
بوڑھے نے مسکراکر کہا: "ہاں بیٹا، ہاتھ کمزور ہوگئے ہیں، مگر ہنر ابھی زندہ ہے۔” یہ جملہ سلمان کے دل میں اتر گیا۔ اس نے سوچا، "ہاتھ کمزور ہوسکتے ہیں، حالات خراب ہوسکتے ہیں، مگر انسان کا ہنر اور ہمت کیوں مر جائے؟”
اس نے دکان کے کام کے ساتھ رات کو لکڑی کے چھوٹے خوب صورت ڈبے بنانا شروع کردیے۔ ابتدا میں کوئی خریدنے والا نہ تھا۔ کبھی ایک چیز بکتی، کبھی کئی دن کچھ نہ بکتا۔ لوگ مذاق بھی اڑاتے۔ ایک دوست نے کہا: "تم ان چند ڈبوں سے اپنی زندگی بدل لوگے؟”
سلمان مسکراکر بولا: "پتا نہیں زندگی بدلے گی یا نہیں، لیکن بیٹھ کر شکایت کرنے سے تو کچھ نہیں بدلے گا۔”
مہینے گزرتے گئے۔ ایک دن ایک شخص اس کی دکان پر آیا۔ اس نے سلمان کے بنائے ہوئے ڈبے دیکھے اور پوچھا: "یہ کہاں سے لیے ہیں؟” سلمان نے کہا: "میں نے بنائے ہیں۔” اس شخص نے بڑی تعداد میں ڈبے خریدنے کا آرڈر دے دیا۔ وہ سلمان کی زندگی کا پہلا بڑا موقع تھا۔
چند ماہ بعد اس نے اپنا چھوٹا سا کام شروع کردیا۔ آمدن بڑھنے لگی۔ بہن کی شادی بھی عزت کے ساتھ ہوگئی۔ مگر سلمان نے کبھی اس رات کو نہیں بھلایا جب اسے لگ رہا تھا کہ اس کی زندگی کا ہر دروازہ بند ہوچکا ہے۔ ایک دن وہ اسی بوڑھے کاریگر سے ملنے گیا۔ بوڑھا کمزور ہوچکا تھا۔ سلمان نے اس کے ہاتھ میں کچھ رقم رکھتے ہوئے کہا: "بابا، آپ نے مجھے وہ بات سکھائی تھی جو میری زندگی بدل گئی۔”
بوڑھے نے حیرت سے پوچھا: "میں نے کیا سکھایا؟” سلمان نے جواب دیا: "آپ نے کہا تھا، ہاتھ کمزور ہوسکتے ہیں، مگر ہنر زندہ رہتا ہے۔ میں نے اسی دن سمجھا کہ انسان کے وسائل ختم ہوسکتے ہیں، مگر اللہ کی رحمت کے دروازے کبھی ختم نہیں ہوتے۔” بوڑھے کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
سلمان نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا: "یااللہ! اُس رات میں سمجھ رہا تھا کہ تو نے میرے لیے راستہ بند کردیا ہے، مگر حقیقت میں تو مجھے ایک نیا راستہ دکھانے والا تھا۔”
سبق یہ ہے کہ زندگی میں کبھی ایسا وقت آئے جب ہر راستہ بند دکھائی دے تو مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔” (سورۃ الطلاق: 3)
کبھی کبھی ہماری دعا کا جواب فوراً نہیں آتا، کیونکہ اللہ ہمیں صرف وہ چیز نہیں دینا چاہتا جو ہم مانگ رہے ہوتے ہیں؛ وہ ہمیں اس چیز کے قابل بھی بنارہا ہوتا ہے جس کا ہمیں ابھی اندازہ نہیں ہوتا۔ بس شرط یہ ہے کہ سجدہ نہ چھوڑیں، کوشش نہ چھوڑیں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ عین ممکن ہے جس دروازے کو آپ بند سمجھ کر بیٹھے ہیں، اللہ نے اسی کے پیچھے آپ کے لیے ایک نئی زندگی رکھی ہو۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔