سچا مسیحا۔۔۔

عبدالعزیز بلوچ
بارش کی بوندیں اسپتال کی کھڑکی سے ٹکرا رہی تھیں۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ ایمرجنسی وارڈ میں ایک کمزور سا بوڑھا شخص اپنے سات سالہ پوتے کو گود میں اٹھائے، آنکھوں میں بے بسی لیے کھڑا تھا۔ "ڈاکٹر صاحب… میرے پاس پیسے نہیں ہیں… لیکن خدا کے لیے میرے بچے کو بچالیں…”
ڈیوٹی پر موجود نوجوان ڈاکٹر حمزہ نے بچے کا معائنہ کیا۔ بچے کی حالت تشویش ناک تھی۔ فوری آپریشن ضروری تھا۔ "پہلے پچاس ہزار روپے جمع کروائیں، پھر آپریشن ہوگا۔”
یہ آواز ڈاکٹر کی نہیں، بلکہ اسپتال کے اکاؤنٹس کلرک کی تھی۔ بوڑھا شخص ڈاکٹر کے قدموں میں گر گیا۔ "میرے پاس صرف دو ہزار روپے ہیں… میں مزدور ہوں… باقی پیسے کہاں سے لاؤں؟” ڈاکٹر حمزہ کی آنکھیں جھک گئیں۔ وہ کچھ بولنا چاہتا تھا، مگر اسپتال کے قوانین اس کی زبان روک رہے تھے۔ صرف ایک گھنٹے بعد وہ بچہ دنیا چھوڑ گیا۔
بوڑھا شخص اپنے مردہ پوتے کو سینے سے لگائے بار بار یہی کہہ رہا تھا… "بیٹا… غریب ہونا سب سے بڑا جرم ہے…” یہ جملہ ڈاکٹر حمزہ کے دل میں کسی خنجر کی طرح اتر گیا۔ وہ رات اس کی زندگی کی آخری پُرسکون رات تھی۔
چند دن بعد ڈاکٹر حمزہ اپنے گاؤں گیا۔ وہاں اس کی بوڑھی ماں نے ایک راز بتایا۔ "بیٹا… تمہیں معلوم ہے تم ڈاکٹر کیسے بنے؟” حمزہ حیران رہ گیا۔ ماں نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا… "جب تم پانچ سال کے تھے، تمہیں خون کا خطرناک انفیکشن ہوگیا تھا۔ ہمارے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔ تمہارے ابو ہر دروازے پر گئے، لیکن کسی نے مدد نہیں کی۔” "پھر کیا ہوا، امی؟”
"ایک بزرگ ڈاکٹر نے تمہیں دیکھا۔ اس نے کہا… بچے کو فوراً اندر لے جاؤ۔”
"ہم نے کہا ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔”
"وہ مسکرایا اور بولا… انسان کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔”
"اس نے کئی دن تمہارا مفت علاج کیا۔ دوائیں بھی اپنی جیب سے خریدیں۔”
"جب تم ٹھیک ہوگئے تو تمہارے ابو نے پوچھا، ڈاکٹر صاحب! آپ کا قرض کیسے اتاریں؟”
"اس بزرگ نے صرف ایک بات کہی…”
"اگر کبھی تمہارا بیٹا ڈاکٹر بنے… تو غریبوں سے کبھی علاج کے پیسے مت لینا…”
حمزہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"امی… آپ نے مجھے یہ بات پہلے کیوں نہیں بتائی؟”
ماں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ "شاید وقت آج ہی آیا تھا…”
اگلی صبح ڈاکٹر حمزہ نے استعفیٰ دے دیا۔ سب حیران رہ گئے۔ اتنی اچھی تنخواہ… اتنا بڑا اسپتال… اتنا روشن مستقبل… وہ سب چھوڑ کر شہر کے ایک غریب علاقے میں ایک چھوٹا سا کلینک کھول بیٹھا۔ کلینک کے باہر صرف ایک تختی لگی تھی۔ "جس کے پاس پیسے نہیں… اس کا علاج پہلے ہوگا۔” لوگ ہنسنے لگے۔ "یہ زیادہ دن نہیں چلے گا۔”
"یہ خود بھوکا مر جائے گا۔”
"آج کل مفت علاج کون کرتا ہے؟”
لیکن حمزہ نے کسی کی بات نہ سنی۔ ہر روز سیکڑوں مریض آنے لگے۔ کسی سے فیس لیتا… کسی سے نہیں لیتا… لیکن کسی مریض کو دوا کے بغیر واپس نہ بھیجتا۔
ایک دن ایک دس سالہ بچے کو لایا گیا۔ اسے دل کا آپریشن درکار تھا۔ والد رکشا چلاتا تھا۔ ماں لوگوں کے گھروں میں برتن دھوتی تھی۔ لاکھوں روپے کہاں سے آتے؟
حمزہ نے اپنا واحد مکان فروخت کردیا۔ بچے کا آپریشن ٹھیک سے ہوگیا۔ وہ زندہ بچ گیا۔ کسی کو معلوم بھی نہ ہوا کہ ڈاکٹر اب کرائے کے گھر میں رہتا ہے۔
وقت گزرتا گیا۔ حمزہ کے بال سفید ہوگئے۔ چہرے پر جھریاں آگئیں۔ لیکن اس کے کلینک کے باہر روزانہ لمبی قطار لگتی۔ خدمت کا سفر اس نے رُکنے نہیں دیا۔ لوگ اسے ڈاکٹر نہیں… "مسیحا” کہتے تھے۔
ایک سرد رات ایک مہنگی گاڑی کلینک کے سامنے رکی۔ اس میں سے ایک کامیاب نوجوان بزنس مین اترا۔ اس نے ڈاکٹر حمزہ کے قدم چوم لیے۔ حمزہ حیران رہ گیا۔ "بیٹا… میں نے تمہیں پہچانا نہیں۔” نوجوان کہنے لگا… "ڈاکٹر صاحب… میں وہی بچہ ہوں… جسے برسوں پہلے آپ نے اپنا گھر بیچ کر زندگی دی تھی۔” "آج میری کئی کمپنیاں ہیں۔ میں اربوں کا مالک ہوں…”
"میں آپ کا قرض چکانے آیا ہوں۔”
حمزہ مسکرادیا۔ "بیٹا… انسانیت کا قرض کبھی واپس نہیں لیا جاتا…” نوجوان نے کہا…
"پھر مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے نام سے ایک ایسا اسپتال بناؤں جہاں کسی غریب سے کبھی ایک روپیہ بھی نہ لیا جائے۔”
حمزہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔
شاید اسے اپنے والدین… اور وہ بزرگ ڈاکٹر یاد آگئے تھے جنہوں نے برسوں پہلے ایک غریب بچے کی جان بچائی تھی۔
حمزہ نے خدمت کا سفر جاری رکھا۔ بے شمار لوگ اس کے مفت علاج سے مستفید ہوئے۔ کتنی ہی زندگیاں اُس نے بچائیں۔ اُسے لوگ بے حد عزت و احترام دیتے تھے۔ سچ ہے کہ نیک کام کرنے والے اور انسانیت کا بھلا کرنے والے ہمیشہ عزت و توقیر پاتے ہیں۔ آج بھی حمزہ اور اس کے بہت سے شاگردوں کی جانب سے خدمت کا سفر جاری ہے اور اُس کے ساتھ نیک لوگ جڑتے چلے جارہے ہیں۔
جو ڈاکٹر صرف بیماری کا علاج کرے، وہ معالج ہوتا ہے… لیکن جو انسان کی بے بسی کا بھی علاج کرے، وہی حقیقی مسیحا کہلاتا ہے۔