امید کی پہلی اینٹ

عبدالعزیز بلوچ

شہر کے آخری سرے پر ایک پرانی سی بستی تھی۔ وہاں کچی گلیاں، ٹوٹی دیواریں اور چھوٹے چھوٹے گھر تھے۔ اسی بستی میں حارث نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ عمر قریباً پینتالیس برس تھی اور پیشے کے اعتبار سے وہ معمولی سا مستری تھا۔ سارا دن لوگوں کے گھروں کی دیواریں بناتا اور شام کو تھکے قدموں سے اپنے گھر لوٹ آتا۔
حارث کی زندگی میں کوئی بڑی خواہش نہیں تھی۔ بس اتنا چاہتا تھا کہ اس کے بچے اچھے اسکول میں پڑھیں اور اس کا چھوٹا سا گھر ہو، کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت محسوس نہ کرے۔ ایک سال شدید بارشیں ہوئیں۔ بستی کے کئی گھر گر گئے۔ لوگوں نے حکومت اور مخیر افراد سے مدد کی امید لگائی، مگر دن گزرتے گئے اور مدد نہ پہنچی۔
حارث نے ایک صبح بستی کے بیچ کھڑے ہوکر دیکھا تو ایک بوڑھی عورت اپنے گرے ہوئے گھر کے ملبے پر بیٹھی رو رہی تھی۔ حارث نے پوچھا، “اماں، گھر دوبارہ بنائیں گی؟” بوڑھی عورت نے آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا، “بیٹا، گھر تو بنا لوں گی، مگر پیسے کہاں سے لاؤں؟”
حارث خاموش ہوگیا۔ اس کے پاس بھی زیادہ رقم نہیں تھی۔ گھر میں بچوں کی فیس دینی تھی، راشن خریدنا تھا اور خود اس کے اوپر بھی قرض تھا۔ وہ گھر واپس آیا تو ساری رات سو نہ سکا۔ اگلی صبح اس نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ وہ روز اپنے کام سے واپسی پر ایک اینٹ اس بوڑھی عورت کے گھر کے ملبے پر رکھے گا۔ اس کی بیوی نے حیرت سے پوچھا، “ایک اینٹ؟ اس سے گھر بن جائے گا؟”
حارث مسکرایا اور بولا، “گھر ایک دن میں نہیں بنتا، مگر پہلی اینٹ کے بغیر کبھی نہیں بنتا۔” اس دن اس نے ایک اینٹ رکھی۔ اگلے دن دوسری۔ تیسرے دن تیسری۔ لوگ اسے دیکھتے اور ہنستے۔
ایک نوجوان نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا، “حارث بھائی! اس رفتار سے تو گھر بننے میں دس سال لگ جائیں گے!”
حارث نے جواب دیا، “ہوسکتا ہے۔ لیکن دس سال بعد کم از کم یہ تو نہیں کہنا پڑے گا کہ میں نے کچھ کیا ہی نہیں۔” کچھ دن بعد ایک اور شخص نے اس کے ساتھ ایک اینٹ رکھ دی۔ پھر ایک بچے نے اپنی جیب سے بچا ہوا چند روپے کا سکہ نکالا اور کہا،
“چچا! میرے پاس اینٹ خریدنے کے پیسے نہیں، یہ لے لیں۔” حارث کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
اس نے وہ سکہ لیا اور بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، “بیٹا، آج تم نے اینٹ نہیں، امید رکھی ہے۔” رفتہ رفتہ لوگوں کو حارث کا کام نظر آنے لگا۔ کسی نے پانچ اینٹیں دیں۔ کسی نے سیمنٹ کی بوری۔ کسی نے ریت۔ ایک دکاندار نے کہا، “حارث، جتنا سامان چاہیے، لے جاؤ۔ پیسے بعد میں دے دینا۔”
حارث نے کہا، “نہیں، یہ قرض نہیں ہوگا۔ یہ آپ کا حصہ ہوگا۔” چند ماہ بعد وہاں ایک چھوٹا سا گھر کھڑا تھا۔ وہ گھر خوبصورت نہیں تھا، مگر اس کی ہر دیوار میں بستی کے کسی نہ کسی انسان کی محبت شامل تھی۔ افتتاح کے دن بوڑھی عورت نے حارث کا ہاتھ پکڑ کر کہا، “بیٹا، تم نے میرا گھر نہیں بنایا، تم نے مجھے دوبارہ جینا سکھایا ہے۔”
حارث نے آسمان کی طرف دیکھا اور خاموشی سے شکر ادا کیا۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اس گھر کی تعمیر کے دوران بستی کے لوگوں نے پہلی بار محسوس کیا کہ اگر وہ مل کر کام کریں تو وہ اپنے بہت سے مسائل خود حل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے صفائی کے لیے ایک دن مقرر کیا۔ پھر بچوں کے لیے شام کی مفت کلاس شروع کی۔ پھر ایک چھوٹی سی لائبریری بنائی۔ پھر محلے کی گلی میں سولر لائٹس لگانے کے لیے چندہ جمع کیا۔ اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس سارے سفر کا آغاز صرف ایک اینٹ سے ہوا تھا۔
کئی سال بعد حارث کا بیٹا انجینئر بن گیا۔ ایک دن اس نے اپنے والد سے پوچھا،
“ابا! آپ نے زندگی میں اتنی مشکلات دیکھیں، کبھی ہمت نہیں ہاری؟”
حارث نے مسکرا کر کہا، “ہار تو میں بھی کئی بار گیا تھا بیٹا، مگر میں نے ایک بات سیکھی تھی۔” بیٹے نے پوچھا، “کیا؟”
حارث نے کہا، “زندگی ہمیشہ تمہیں پورا راستہ نہیں دکھاتی۔ کبھی صرف اگلا قدم دکھاتی ہے۔ تمہارا کام پورا راستہ دیکھنا نہیں، اگلا قدم اٹھانا ہے۔”
پھر اس نے اپنے بیٹے کو وہی پرانا سکہ دکھایا جو اس بچے نے برسوں پہلے اسے دیا تھا۔ وہ سکہ اب بھی اس کے پاس محفوظ تھا۔ حارث نے کہا، “دیکھو، یہ دنیا کا سب سے قیمتی سکہ نہیں، مگر میرے لیے یہ اس لیے قیمتی ہے کہ اس نے مجھے بتایا تھا کہ چھوٹی کوشش کبھی چھوٹی نہیں ہوتی۔”
زندگی میں ہم اکثر اس لیے شروع نہیں کرتے کہ ہمیں منزل بہت دور دکھائی دیتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ قرض بہت زیادہ ہے، وسائل بہت کم ہیں، عمر گزر چکی ہے، حالات خراب ہیں، لوگ ساتھ نہیں دیں گے۔ مگر کامیابی ہمیشہ بڑے قدم سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی ایک کتاب کے پہلے صفحے سے شروع ہوتی ہے۔ کبھی ایک فون کال سے۔ کبھی ایک معافی سے۔ کبھی ایک چھوٹی سی بچت سے۔ اور کبھی صرف ایک اینٹ سے۔
اس لیے اگر آج آپ کی زندگی بکھری ہوئی ہے تو پوری زندگی ایک ساتھ ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کریں۔ صرف ایک کام کریں۔ ایک قدم اٹھائیں۔ کل دوسرا اٹھائیے۔ ممکن ہے آج آپ کو اپنی کوشش بے معنی لگے، لوگ آپ پر ہنسیں، حالات آپ کو روکیں اور منزل بہت دور دکھائی دے۔ لیکن یاد رکھیے: جو شخص روز ایک اینٹ رکھتا ہے، ایک دن وہی شخص اپنی محنت کی دیوار کے سائے میں کھڑا ہوتا ہے۔ اور شاید کامیابی کا اصل راز بھی یہی ہے: رکنا نہیں، چاہے رفتار کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔