امریکا کی حملے کی دھمکیاں: ایران جدید اور خفیہ ہتھیار استعمال کرے گا
تہران: ایران نے امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس ایسے جدید ہتھیار موجود ہیں جو اب تک میدان جنگ میں استعمال نہیں کیے گئے۔
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ایرانی عسکری ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مقامی سطح پر جدید دفاعی اور حملہ آور ہتھیار تیار کیے ہیں، جن کا ابھی تک عملی استعمال یا تجربہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی ذریعے نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو ایران اس بار تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر قسم کی ممکنہ کشیدگی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا کہ دفاعی ساز و سامان یا عسکری صلاحیت کے حوالے سے ایران کو کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں اور ملک اپنے دفاع کیلئے مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کو دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا سخت اقدام کرسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی اور مغربی حکام ایران کی عسکری صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر مسلسل تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں جب کہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام مکمل طور پر ملکی سلامتی کے لیے ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرق وسطیٰ میں ایک نئی بحرانی صورت حال پیدا کرسکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے کی سلامتی کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔