قربانی کا اصل مطلب

عبدالعزیز بلوچ

عیدالاضحیٰ میں صرف دو دن باقی تھے۔ شہر کی گلیوں کی رونق دوبالا تھی۔ کہیں بچے بکرے کے گلے میں رنگین پھول ڈال رہے تھے، کہیں نوجوان اپنے جانوروں کی تصویریں بناکر سوشل میڈیا پر لگارہے تھے۔ بازاروں میں رش تھا، ہر طرف قربانی کی تیاریوں کا شور سنائی دیتا تھا۔ اسی شہر کے ایک پوش علاقے میں حاجی سلیم کا بڑا گھر تھا۔ اللہ نے انہیں بہت دولت دی تھی۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی انہوں نے مہنگے اور خوبصورت جانور خریدے تھے۔ گھر میں مہمانوں کی فہرست بن رہی تھی، گوشت بانٹنے کے بجائے زیادہ بحث اس بات پر ہورہی تھی کہ اس سال قربانی کی ویڈیو کتنی اچھی بنے گی۔
حاجی سلیم کا بیٹا حمزہ یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ وہ جدید سوچ رکھنے والا نوجوان تھا، لیکن دل کے کسی کونے میں ایک بے چینی بھی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ لوگ قربانی کی روح بھول چکے ہیں۔ ہر طرف دکھاوا، مقابلہ اور نمائش تھی۔ اسی دوران ان کے گھر میں کام کرنے والا ایک بوڑھا شخص “بابا کریم” صحن میں بیٹھا جانوروں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی نمی تھی۔ حمزہ نے قریب جا کر پوچھا، “بابا، آپ اتنے خاموش کیوں ہیں؟”
بابا کریم نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “بیٹا، جانور تو ہر سال ذبح ہوتے ہیں، مگر انسان اپنی انا کب قربان کرے گا؟” یہ جملہ حمزہ کے دل میں اتر گیا۔
اگلے دن حمزہ کسی کام سے شہر کے پرانے علاقے میں گیا۔ وہاں اس نے ایک چھوٹے سے گھر کے باہر کچھ بچوں کو بیٹھے دیکھا۔ ان کے کپڑے پرانے تھے، مگر چہروں پر عجیب سی معصومیت تھی۔ ایک بچہ دوسرے سے کہہ رہا تھا، “کاش اس سال ہمیں بھی گوشت مل جائے… امی کہتی ہیں شاید عید کے تیسرے دن کوئی دے جائے۔”
حمزہ رُک گیا۔ اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ عید کی خوشیاں ہر گھر میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ وہ گھر واپس آیا تو اس کا دل بدل چکا تھا۔ رات کے کھانے پر اس نے اپنے والد سے کہا، “ابو، کیا اس بار ہم قربانی کے ساتھ کچھ مختلف کرسکتے ہیں؟”
حاجی سلیم نے حیرت سے پوچھا، “کیا مطلب؟” حمزہ نے آہستہ آواز میں کہا، “ہم مہنگی ویڈیوز اور دعوتوں پر خرچ کم کردیں… اور وہ پیسے ایسے لوگوں پر لگائیں جن کے گھروں میں عید نہیں آتی۔” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
حاجی سلیم نے پہلی بار اپنے بیٹے کی بات غور سے سنی۔ انہیں اپنا بچپن یاد آگیا، جب ان کے والد ایک چھوٹا سا بکرا خریدتے تھے اور آدھا گوشت غریبوں میں بانٹ دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے، “قربانی جانور کی نہیں، دل کی ہوتی ہے۔” عید کی صبح آگئی۔
محلے میں شور تھا، بچے خوش تھے، تکبیروں کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ لیکن اس بار حاجی سلیم کے گھر میں کچھ الگ ہورہا تھا۔
انہوں نے قربانی کے فوراً بعد گوشت کے حصے تیار کروائے اور خود حمزہ کے ساتھ شہر کے غریب علاقوں میں نکل پڑے۔ ایک گھر میں ایک بیوہ عورت رہتی تھی۔ جب اس کے ہاتھ میں گوشت کا تھیلا دیا گیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
وہ بولی، “بیٹا، میرے بچے گوشت کا انتظار کررہے تھے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔”
حمزہ خاموش کھڑا رہا، مگر اس کے دل میں عجیب سکون اتر رہا تھا۔
پھر وہ ایک یتیم خانے گئے، وہاں بچوں میں عید کے تحفے تقسیم کیے۔ یتیم خانے کی انتظامیہ کو گوشت فراہم کیا گیا۔ واپسی پر انہوں نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کہا،
“حمزہ، آج سمجھ آیا کہ قربانی کی خوشی تصویروں میں نہیں، دعاؤں میں ہوتی ہے۔”
اس رات حمزہ چھت پر کھڑا شہر کی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ عید صرف نئے کپڑوں، مہنگے جانوروں یا سوشل میڈیا کی نمائش کا نام نہیں۔ عید تو اس احساس کا نام ہے کہ آپ کی وجہ سے کسی کے گھر میں خوشی آئی، کسی ماں کے چہرے پر مسکراہٹ آئی، کسی بچے نے پہلی بار پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اگلے دن حاجی سلیم نے ایک اور فیصلہ کیا۔
انہوں نے محلے کے لوگوں کو جمع کیا اور کہا، “اس سال سے ہم قربانی کے ساتھ ایک اور کام کریں گے۔ ہر گھر ایک غریب بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھائے گا۔ کیونکہ صرف گوشت بانٹنے سے نہیں، مستقبل سنوارنے سے بھی قربانی مکمل ہوتی ہے۔”
لوگ حیران تھے، مگر متاثر بھی۔ کچھ ہی دیر میں کئی لوگوں نے اس مہم میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔
چند مہینوں بعد وہی بچے جو کبھی عید پر گوشت کے منتظر ہوتے تھے، اسکول جاتے دکھائی دینے لگے۔ کسی کے ہاتھ میں کتاب تھی، کسی کے چہرے پر امید۔
حمزہ نے بابا کریم سے کہا، “بابا، اب سمجھ آیا آپ کیا کہتے تھے۔ اصل قربانی انسان کی انا، لالچ اور خودغرضی کی ہوتی ہے۔”
بابا کریم مسکرائے اور بولے، “بیٹا، جس دن انسان اپنے حصے کی خوشی دوسروں میں بانٹنا سیکھ جائے، اسی روز اس کی قربانی قبول ہونے لگتی ہے۔”
عیدالاضحیٰ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ صرف جانور ذبح کرنا کافی نہیں۔ اگر ہمارے دل میں رحم نہیں، اگر ہمارے ہاتھ سے کسی ضرورت مند کی مدد نہیں ہورہی، اگر ہمارے رویوں میں عاجزی نہیں آرہی، تو قربانی کی روح ادھوری رہ جاتی ہے۔ آج بھی ہمارے آس پاس بے شمار لوگ ایسے ہیں جو صرف ایک توجہ، ایک مدد اور ایک احساس کے منتظر ہیں۔ کوئی یتیم ہے، کوئی بیمار، کوئی سفید پوش اپنی ضرورت چھپا رہا ہے۔
اگر اس عید ہم صرف اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کردیں، کسی بھوکے کو کھانا دے دیں، کسی غریب بچے کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دیں، کسی دکھی دل کو امید دے دیں… تو شاید یہی وہ قربانی ہو جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہو۔ کیونکہ اللہ کے ہاں نہ جانور کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون…
بلکہ پہنچتی ہے صرف نیت، اخلاص اور انسانیت۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔