مزدور کی کہانی

غلام مصطفیٰ

صبح ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی تھی۔ فضا میں ہلکی سی نمی اور سڑکوں پر خاموشی تھی، مگر شہر جاگنے سے پہلے ہی کچھ لوگ جاچکے تھے۔ انہی میں ایک شخص بھی تھا، عمر قریباً پچپن سال، کندھوں پر وقت کا بوجھ، ہاتھوں میں چھالے اور آنکھوں میں ایک عجیب سی تھکن۔ اس کا نام رحمت علی تھا۔
وہ ہر روز اسی وقت گھر سے نکلتا، جب اس کے اپنے بچے گہری نیند میں ہوتے۔ بیوی چولہے پر روٹی پکاتے ہوئے اس کی چپل سیدھی کرتی اور آنکھوں سے چھپ کر آنسو پونچھ لیتی۔ رحمت علی کبھی اس کے آنسو نہیں دیکھتا تھا، یا شاید دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتا تھا، کیونکہ اگر وہ رک جاتا تو گھر کا چولہا بھی رک جاتا۔
وہ ایک تعمیراتی مزدور تھا۔ اینٹیں اٹھاتا، سیمنٹ ڈھوتا، لوہے کی سلاخیں کھینچتا اور سورج کے نیچے جلتے فرش پر دن بھر کام کرتا۔ نہ اس کے پاس کوئی ڈگری تھی، نہ کوئی بڑی نوکری، مگر اس کی زندگی ایک ایسی عمارت کی بنیاد تھی جسے وہ خود کبھی مکمل ہوتے نہیں دیکھ پاتا تھا۔ ہر دن ایک ہی کہانی تھی۔ پسینہ، تھکن اور خاموشی۔
اس کے ساتھ کام کرنے والے اکثر نوجوان ہوتے۔ وہ جب بھی آرام کے وقت بیٹھتے تو موبائل پر ویڈیوز دیکھتے یا مستقبل کے خوابوں پر بات کرتے۔ کوئی کہتا، “میں ایک دن باہر جاکر گاڑیوں کا شو روم کھولوں گا۔” دوسرا کہتا، “میں امی کے لیے بڑا گھر بناؤں گا۔”
رحمت علی ان باتوں کو سن کر صرف مسکرا دیتا۔ ایک دن ایک نوجوان مزدور نے اس سے پوچھ لیا، “چاچا، آپ کے کیا خواب ہیں؟”
رحمت علی نے اینٹیں رکھتے رکھتے جواب دیا، “خواب؟ میرے خواب اب بچوں کی شکل میں چل رہے ہیں۔” وہ خاموش ہو گیا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک پرانی کہانی تیرنے لگی۔
کچھ سال پہلے وہ بھی ایک عام مزدور نہیں تھا۔ وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کا نوجوان تھا جس نے بڑے خواب دیکھے تھے۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ پڑھ لکھ کر کچھ بنے گا۔ مگر حالات نے اسے کتابوں سے دور اور اینٹوں کے قریب کر دیا۔
باپ بیمار تھا، گھر میں آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ وہ امتحان چھوڑ کر شہر آ گیا۔ ابتدا میں اس نے سوچا تھا یہ عارضی ہے، چند مہینے کام کرے گا اور پھر واپس پڑھائی شروع کرے گا۔ مگر وقت نے اسے ایسے جکڑ لیا کہ وہ خواب کہیں پیچھے رہ گئے۔ سال گزرتے گئے۔
اب اس کے ہاتھوں میں کتاب کی جگہ اوزار تھے۔ مگر ایک چیز جو کبھی نہیں بدلی، وہ اس کی نیت تھی، اپنے بچوں کو وہ زندگی دینا جو وہ خود نہ پاسکا۔
اس کا بیٹا، علی، بہت ذہین تھا۔ اسکول میں ہمیشہ اول آتا۔ استاد کہتے تھے، “اگر یہ لڑکا پڑھتا رہا تو بہت آگے جائے گا۔”
رحمت علی کے لیے یہی سب سے بڑی خوشی تھی۔ مگر زندگی ہمیشہ سیدھی نہیں چلتی۔
ایک دن کام کے دوران ایک بڑا حادثہ ہوا۔ لوہے کا ایک بھاری پلر غلطی سے اس کے اوپر آ گرا۔ اسے اسپتال لے جایا گیا۔ کئی دن وہ بستر پر بے حس و حرکت پڑا رہا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اب وہ پہلے جیسا کام نہیں کرسکے گا۔ یہ خبر اس کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی۔
گھر میں فاقوں کی نوبت آ گئی۔ بیوی نے سلائی کا کام شروع کیا، مگر آمدن ناکافی تھی۔ بیٹا اسکول سے آ کر خاموش بیٹھ جاتا، جیسے اس کے اندر کوئی سوال چل رہا ہو۔
ایک رات رحمت علی نے اپنے بیٹے کو اپنے پاس بلایا۔
کمزور آواز میں اس نے کہا، “بیٹا، اگر میں تمہیں پڑھا نہ سکا تو مجھے معاف کر دینا۔”
علی نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے اور کہا، “ابا، آپ نے مجھے جینے کا مطلب سکھایا ہے۔ پڑھائی میں خود جاری رکھوں گا۔”
یہ الفاظ سن کر رحمت علی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ آنسو صرف درد کے نہیں تھے، بلکہ فخر کے بھی تھے۔
وقت گزرتا گیا۔ علی نے محنت جاری رکھی۔ دن میں اسکول اور رات میں محنت۔ ماں سلائی کرتی رہی اور باپ خاموشی سے ان دونوں کو دیکھتا رہا۔
کئی سال بعد ایک دن وہی لڑکا، علی، یونیورسٹی سے واپس آیا۔ ہاتھ میں ڈگری تھی، اور آنکھوں میں کامیابی کی روشنی۔ وہ سیدھا اپنے باپ کے پاس گیا۔
رحمت علی اب بہت بوڑھا اور کمزور ہو چکا تھا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، جیسے وقت نے اسے روک لیا ہو۔ علی نے ڈگری اس کے ہاتھ میں رکھی۔
“ابا، یہ آپ کی محنت ہے۔”
رحمت علی نے کانپتے ہاتھوں سے ڈگری کو چھوا، جیسے وہ کوئی خواب ہو جو حقیقت بن گیا ہو۔ وہ کچھ بول نہ سکا۔
بس اتنا کہا، “میرا پسینہ ضائع نہیں ہوا…” آج بھی وہ شہر جہاں وہ کام کرتا تھا، وہاں ایک بڑی عمارت کے دروازے پر ایک تختی لگی ہے۔ اس پر لکھا ہے کہ اس منصوبے کی بنیاد رکھنے والوں میں ایک مزدور بھی شامل تھا، رحمت علی۔ یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں۔ یہ ہر اس مزدور کی کہانی ہے جو دھوپ میں جلتا ہے، بارش میں بھیگتا ہے، مگر اپنے بچوں کے خوابوں کو زندہ رکھتا ہے۔
یومِ مزدور ہمیں یہی یاد دلاتا ہے کہ اصل ہیرو وہ نہیں جو اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے، بلکہ وہ ہے جو خاموشی سے پسینہ بہا کر دنیا کو کھڑا کرتا ہے۔ کیونکہ عمارتیں اینٹوں سے نہیں، مزدور کے حوصلے سے بنتی ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔