جنگ نہیں، مذاکرات ہی راستہ

عبدالعزیز بلوچ
مشرقِ وسطیٰ ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کیے رکھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دُنیا نے سکون کا سانس لیا، لیکن پھر دونوں کے درمیان کشیدگی کے واقعات پیش آئے۔ ایسے ماحول میں اگر امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں کسی حد تک پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین نے دوبارہ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تو اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے۔ جنگ کے سائے میں رہنے والے خطے کے عوام اور عالمی برادری دونوں اس بات کے منتظر ہیں کہ اختلافات کا حل میدانِ جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر تلاش کیا جائے۔ پاکستان اور قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششیں اس حقیقت کا اظہار ہیں کہ خطے کے ذمے دار ممالک کسی نئے تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ سفارت کاری ہمیشہ جنگ کے مقابلے میں کم خرچ، زیادہ مؤثر اور دیرپا نتائج کی حامل ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی بالآخر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتی ہیں، کیونکہ جنگ وقتی برتری تو دے سکتی ہے، لیکن مستقل امن نہیں لا سکتی۔ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، علاقائی اثر و رسوخ اور سلامتی کے معاملات دونوں ممالک کے تعلقات کو مسلسل متاثر کرتے رہے ہیں۔ ہر دور میں مذاکرات اور کشیدگی ایک ساتھ چلتے رہے، لیکن بدقسمتی سے اعتماد کی کمی نے کسی جامع اور مستقل حل کی راہ ہموار نہیں ہونے دی۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی غلط فہمی بھی بڑے بحران کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ دونوں ممالک اشتعال انگیز بیانات اور طاقت کے اظہار کے بجائے سنجیدگی، تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔ دھمکی آمیز زبان وقتی طور پر داخلی سیاست میں فائدہ پہنچاسکتی ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس کے نتائج اکثر خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ اگر فریقین ایک دوسرے کے خدشات کو سمجھنے اور قابلِ قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کریں تو کشیدگی میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اگر خدانخواستہ اس خطے میں کسی قسم کی فوجی کشیدگی یا تصادم بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران، امریکا یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پوری دنیا میں تیل کی قیمتوں، تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بھی اس خطے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ پاکستان کا کردار بھی اس تناظر میں قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے پُرامن حل، بات چیت اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا مختلف جنگوں اور تنازعات سے دوچار ہے، پاکستان کی جانب سے مفاہمت اور مذاکرات کی حمایت نہ صرف اس کی متوازن خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ خطے میں استحکام کے لیے ایک مثبت پیغام بھی دیتی ہے۔ قطر بھی گزشتہ برسوں میں مختلف عالمی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرکے اپنی سفارتی اہمیت منوا چکا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ معیشت تباہ ہوتی ہے، ترقیاتی منصوبے رک جاتے ہیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نفرتیں اور تباہ کاریاں کئی نسلوں تک اپنے اثرات چھوڑتی ہیں جب کہ امن اور مذاکرات ترقی، خوش حالی اور باہمی اعتماد کی بنیاد بنتے ہیں۔ ایران اور امریکا دونوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ طاقت کے ذریعے مستقل حل ممکن نہیں۔ اگر ایک فریق دباؤ بڑھائے گا اور دوسرا جوابی اقدامات کرے گا تو کشیدگی کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعتماد سازی کے عملی اقدامات کیے جائیں، اشتعال انگیز بیانات سے اجتناب برتا جائے اور اختلافی معاملات کو مرحلہ وار مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ اسی طرح خطے کے دیگر ممالک کو بھی کسی نئی محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت اور تعاون کی فضا کو فروغ دینا ہوگا۔ بین الاقوامی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے حساس معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔ عالمی قوانین، ریاستوں کی خودمختاری اور انسانی جانوں کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔ اگر عالمی ادارے غیر جانب دار اور مؤثر کردار ادا کریں تو بہت سے تنازعات کو جنگ میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔ آج دنیا کو اسلحے کی دوڑ سے زیادہ امن، مکالمے اور تعاون کی ضرورت ہے۔ جدید دور میں قوموں کی طاقت کا معیار صرف فوجی قوت نہیں بلکہ معاشی استحکام، سائنسی ترقی اور عوام کی خوشحالی بھی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ممالک کو حقیقی عزت، استحکام اور عالمی احترام دلا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں اپنے اختلافات کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے سفارتی عمل کو آگے بڑھائیں۔ اگر مذاکرات سنجیدگی، خلوصِ نیت اور باہمی احترام کے ساتھ جاری رہے تو نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آسکتی ہے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے بحران سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ امن صرف ایک خواہش نہیں بلکہ آج کی دنیا کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام فریقین کو تحمل، دوراندیشی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔