کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا

دانیال جیلانی
رب تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کراچی دہشت گردی کی بڑی کارروائی سے بچ گیا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی کوششیں رنگ لے آئیں۔ شہر قائد میں ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کے دوران ناکام بنانا پاکستان کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قابلیت اور بروقت حکمت عملی کی ایک روشن مثال ہے۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اظفر مہیسر کی جانب سے پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی معلومات کی بنیاد پر کئی دن کی محنت کے بعد دہشت گردوں کی سرنگونی ممکن ہوئی۔ اس کارروائی میں دو ہزار کلوگرام سے زائد انتہائی خطرناک بارودی مواد برآمد کیا گیا اور تین دہشت گرد گرفتار کیے گئے، جن میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان عرف فرید شامل ہیں۔ ان دہشت گردوں کا منصوبہ کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔
دہشت گردوں کی گرفتاری اور تفتیش سے یہ واضح ہوا کہ بارودی مواد افغانستان سے بلوچستان کے راستے کراچی لایا گیا تھا۔ پولیس حکام نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کی بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کی بدولت شہر کو ایک بڑی تباہی سے بچالیا گیا۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک کی شناخت اور ان کے منصوبوں کا بروقت توڑ، شہریوں کی حفاظت کے لیے کس قدر اہم ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گرفتار دہشت گرد مجید بریگیڈ، کالعدم بی ایل اے اور بی ایل ایف کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد نیٹ ورک ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کر رہا تھا اور رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کررہا تھا۔ اس کے پیش نظر، گھروں کی کرایہ داری اور حفاظتی نگرانی میں سختی اور مؤثر جانچ ضروری ہے۔
وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب کارروائی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردوں نے شہر میں بڑی تباہی پھیلانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے بھارت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف پراکسیز کے ذریعے کارروائیوں کی کوشش کرتا رہا ہے مگر ہر محاذ پر اسے شکست ہوئی ہے۔ یہ کارروائی کراچی کے شہریوں کے لیے نہ صرف اطمینان کا باعث ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پاکستان کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں شہری تحفظ کے معاملے میں کسی صورت لاپروائی نہیں برت رہی ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں نہایت اہم ہیں کیونکہ یہ شہری علاقوں میں بڑے نقصان سے بچانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
یہ کامیاب آپریشن نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں دہشت گرد منصوبوں کی ناکامی کی ایک مثال ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورک کی جڑیں صرف مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مضبوط ہیں، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی اور علاقائی تعاون ضروری ہے۔ اس کارروائی نے پاکستان کے عوام کو یہ اعتماد دیا ہے کہ شہر محفوظ بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر لمحے چوکس ہیں اور دہشت گردی کے ہر منصوبے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ کامیابی پاکستان کی سیکیورٹی اور استحکام کی کوششوں کی تصدیق ہے اور شہریوں کے اعتماد کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رہیں تو نہ صرف شہری محفوظ رہیں گے بلکہ ملک میں دہشت گرد عناصر کے خلاف ایک واضح پیغام بھی جائے گا۔ یہ اقدام یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے ادارے متحد اور منظم انداز میں دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔