آٹا مہنگا، عوام کی دادرسی کون کرے گا؟

غلام مصطفیٰ
پاکستان میں گزشتہ ہفتوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے عوام میں یہ امید پیدا کی تھی کہ اشیائے خورونوش، خصوصاً آٹے سمیت روزمرہ استعمال کی دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ معاشی اصول بھی یہی کہتے ہیں کہ جب ایندھن سستا ہو تو نقل و حمل، پیداوار اور ترسیل کے اخراجات کم ہوتے ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ صارفین تک پہنچنا چاہیے، لیکن افسوس کہ زمینی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف عوام کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے بلکہ یہ سوال بھی شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر جب پٹرول کے نرخ نیچے آچکے ہیں تو آٹا مسلسل مہنگا کیوں ہورہا ہے؟
پشاور، اسلام آباد، لاہور، کراچی، کوئٹہ، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف گندم کی پیداوار یا سپلائی تک محدود نہیں، بلکہ مارکیٹ میں نگرانی کے کمزور نظام، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور انتظامی غفلت نے بھی اس بحران کو سنگین بنادیا ہے۔ جب بنیادی غذائی شے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ بوجھ متوسط اور غریب طبقے پر پڑتا ہے، جس کی آمدن پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔
فلور ملز مالکان گندم کی قیمت میں اضافے، سپلائی چَین کی مشکلات اور بعض صوبوں سے ترسیل میں رکاوٹوں کو آٹے کی مہنگائی کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ مؤقف درست ہے تو پھر متعلقہ حکومتی اداروں کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر ان مسائل کو حل کریں۔ اگر گندم کی ترسیل میں رکاوٹیں ہیں تو انہیں دُور کیا جائے، اگر ذخیرہ اندوزی ہورہی ہے تو اس کا سدباب کیا جائے اور اگر مصنوعی قلت پیدا کی جارہی ہے تو اس کے ذمے دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان میں جب بھی کسی ضروری شے کی قلت یا قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے پیچھے اکثر ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز سرگرم ہوجاتے ہیں۔ یہی عناصر مصنوعی بحران پیدا کرکے اربوں روپے کماتے ہیں جب کہ عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان رہتا ہے۔ اگر مارکیٹ میں وافر مقدار میں گندم موجود ہے تو پھر آٹے کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ اگر پٹرول سستا ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم نہیں ہورہے تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں ریاستی نگرانی میں کمزوری موجود ہے۔
حکومت کو اب صرف بیانات اور اجلاسوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیوں، محکمہ خوراک، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو فعال بنایا جائے۔ بازاروں میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی نگرانی کی جائے، سرکاری نرخ ناموں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے اور جہاں بھی خلاف ورزی سامنے آئے وہاں فوری کارروائی کی جائے۔ صرف جرمانے کافی نہیں، بلکہ بار بار قانون توڑنے والوں کے لائسنس منسوخ کیے جائیں، گودام سیل کیے جائیں اور مقدمات درج کیے جائیں تاکہ دوسروں کے لیے بھی واضح پیغام جائے کہ عوام کے معاشی استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف ملک گیر سطح پر بے رحم کریک ڈاؤن ناگزیر ہوچکا ہے۔ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ریاست کی طاقت صرف عام شہری کے لیے نہیں بلکہ قانون توڑنے والے طاقتور کاروباری عناصر کے لیے بھی یکساں ہے۔ اگر چند افراد مصنوعی قلت پیدا کرکے کروڑوں عوام کی زندگی اجیرن بناتے ہیں تو ان کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمے داری ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ گندم کی خریداری، ذخیرہ، ترسیل اور تقسیم کے پورے نظام میں شفافیت لانا بھی ضروری ہے۔ جدید ڈیجیٹل نگرانی، حقیقی اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی، بین الصوبائی تعاون اور مارکیٹ کی مسلسل مانیٹرنگ کے بغیر قیمتوں میں استحکام ممکن نہیں۔ حکومت کو کسان، فلور ملز، ٹرانسپورٹرز اور صارفین سمیت تمام فریقوں کے ساتھ مشاورت کرکے ایسی پالیسی مرتب کرنی چاہیے جو نہ صرف موجودہ بحران پر قابو پائے بلکہ مستقبل میں بھی ایسے حالات پیدا نہ ہونے دے۔
عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ نیچے آچکے ہیں تو اس کا فائدہ انہیں کیوں نہیں مل رہا؟ اگر ہر چیز کی قیمت بڑھانے کے لیے پٹرول مہنگا ہونے کا جواز پیش کیا جاتا تھا تو اب پٹرول سستا ہونے کے باوجود قیمتیں کم کیوں نہیں ہورہیں؟ اس سوال کا جواب صرف وضاحتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دیا جاسکتا ہے۔
حکومت کے لیے یہ ایک اہم امتحان ہے۔ اگر وہ واقعی مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف دینے کے دعوؤں میں سنجیدہ ہے تو اسے آٹے سمیت تمام بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر مؤثر کنٹرول قائم کرنا ہوگا۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں قانون سب پر یکساں نافذ ہو، ناجائز منافع خوروں کو کوئی رعایت نہ ملے اور عام شہری کو مناسب قیمت پر بنیادی ضروریاتِ زندگی میسر ہوں۔ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پورے ملک میں اپنی رٹ مضبوط کرے، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خور مافیا کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے اور عوام کو یہ یقین دلائے کہ ریاست ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔