گھر سے لال بیگ کا خاتمہ، جاپانی وزیراعظم خود کو تنہا محسوس کرنے لگیں

ٹوکیو: جاپانی وزیراعظم سونائی تاکائیچی نے انکشاف کیا کہ وہ گھر سے لال بیگ کے خاتمے پر خود کو تنہا محسوس کررہی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر گزشتہ روز جاپانی وزیراعظم نے اسٹوری شیئر کی اور عوام کی جانب سے پوچھے گئے چند سوالات کے جوابات بھی دیے۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے کبھی بھوتوں کا سامنا کیا ہے جو مبینہ طور پر وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر پریشان ہیں، ٹوکیو مینشن طویل عرصے سے اس حوالے سے مشہور ہے اور 1930 کی دہائی میں دو بغاوتوں کے دوران مرنے والوں کی روحیں وہاں نمودار ہوتی ہیں۔
تاکائیچی نے کہا کہ انہوں نے گھر میں کبھی بھوت نہیں دیکھا، تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ میرا سامنا کسی اور چیز سے ہوا تھا جس نے مجھے خوف زدہ کردیا تھا اور وہ ایک کاکروچ تھا۔
انہوں نے لکھا کہ میں نے کبھی کسی کیڑے کو نہیں مارا اب بالغ ہونے کے باوجود میں خود اتنی ہمت نہیں کرپاتی کہ کیڑوں کو مار سکوں جن میں لال بیگ بھی شامل ہیں۔
تاکایچی نے بتایا کہ انہوں نے کچھ عرصے تک لال بیگ کی موجودگی کو برداشت کیا، یہ امید کرتے ہوئے کہ وہ آخرکار خود ہی رہائش گاہ سے چلا جائے گا۔ تاہم صورت حال کا علم ہونے پر ان کے عملے نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
عملے کی مداخلت کے بعد سُنائے تاکایچی نے کہا کہ انہیں رہائش گاہ کے اندر مزید کسی لال بیگ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
تاہم، وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ان کے جذبات محض سکون سے زیادہ پیچیدہ تھے۔ انہوں نے لکھا کہ مجھے سکون تو ملا، لیکن تھوڑا اکیلاپن، یا شاید اداسی بھی محسوس ہوئی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔