مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے متعلق چوہدری شجاعت کا اہم انکشاف!

لاہور: مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان جب دھرنے کے لیے اسلام آباد آئے تو کچھ لوگ دھرنے پر دھاوا بولنے کے حامی تھے۔
مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے چوہدری شجاعت نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن جب دھرنے کے لیے اسلام آباد آئے تو کچھ لوگ دھرنے پر دھاوا بولنے کے حامی تھے تاہم چوہدری پرویزالہی نے عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں مشورہ دیا کہ اگر مار کٹائی ہوگئی اور کوئی آدمی مر گیا تو الزام لینے پر کوئی تیار نہیں ہوگا بلکہ وزیراعظم کو ہر چیز کا جواب دینا پڑے گا جس پر فیصلہ موخر کر دیا گیا۔
چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کے معاملے پر ہماری جماعت پر الزام لگایا گیا، تاہم پرویز الٰہی کی باہمی سوچ پر عمل کرتے ہوئے معاملہ افہام و تفہیم سے حل ہوا، عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس وقت حالات کیا ہوں گے، ایک طرف پولیس اور دوسری جانب مدارس کے طلباء مولانا فضل الرحمان کے آرڈر کا انتظار کررہے تھے، تاہم مولانا نے ان حالات میں بڑی دور اندیشی کا ثبوت دیا۔
نواز شریف کے حوالے سے چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے ملیحہ لودھی کو بغاوت کے کیس میں گرفتار کرنے کا کہا لیکن میں نے اس اقدام کی مخالفت کی، میں نے نوازشریف سے کہا کہ ملیحہ لودھی کی گرفتاری کی صورت میں نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
چوہدری شجاعت نے کہا کہ عمران خان سے کہوں گا کہ مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کرنے کی کوشش کریں، ملک کے بحران کو سب چیزیں بھول کر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔