بجٹ اور عوام کا انتظار

غلام مصطفیٰ

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی ملاقات کے بعد حکومتی اتحاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاقِ رائے کی خبریں سیاسی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھی جاسکتی ہیں۔ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے فطری امر ہے، لیکن قومی معیشت جیسے حساس معاملے پر سیاسی قوتوں کا باہمی تعاون ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ ایسے وقت میں جب مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ نے عام شہری کی زندگی کو مشکل بنا رکھا ہے، بجٹ پر مفاہمت اس امید کو جنم دیتی ہے کہ فیصلے محض سیاسی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ عوامی مشکلات کو سامنے رکھ کر کیے جائیں گے۔ پاکستان اس وقت ایسے معاشی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں حکومتی پالیسیوں کا براہِ راست اثر ہر گھر کے دسترخوان پر پڑ رہا ہے۔ بجلی، گیس، ایندھن، آٹا، دالیں، سبزیاں اور ادویہ جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ متوسط اور کم آمدن والے طبقے کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ ایسے حالات میں بجٹ صرف اعداد و شمار کی کتاب نہیں رہتا، بلکہ یہ کروڑوں شہریوں کے مستقبل، ان کی روزمرہ زندگی اور ان کے اعتماد کا تعین کرتا ہے۔
سیاسی اتفاقِ رائے اپنی جگہ خوش آئند ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا آنے والا بجٹ عام آدمی کو حقیقی ریلیف دے سکے گا؟ عوام اس وقت سب سے زیادہ اسی بات کے منتظر ہیں۔ اگر حکومت اور اتحادی جماعتیں واقعی عوامی مشکلات کو سمجھتی ہیں تو بجٹ میں چند بنیادی اصولوں کو ترجیح دینا ناگزیر ہوگا۔ کم آمدن والے طبقے کے لیے براہِ راست ریلیف، تنخواہ دار طبقہ، پنشنرز اور دیہاڑی دار مزدور سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ انکم ٹیکس کی حدِ استثنا میں اضافہ، کم تنخواہ والوں کے لیے ٹیکس میں رعایت اور پنشنرز کے لیے سہولتوں جیسے اقدامات فوری ریلیف دے سکتے ہیں۔ صرف اعداد و شمار میں افراطِ زر کم دکھانا کافی نہیں۔ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام، ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائی اور زرعی شعبے کی مدد ضروری ہے تاکہ پیداوار بڑھے اور قیمتیں قابو میں رہیں۔ بڑے منصوبوں سے زیادہ ترجیح ان شعبوں کو ملنی چاہیے جو براہِ راست شہریوں کی زندگی بہتر بناتے ہیں، جیسے تعلیم، صحت، صاف پانی، مقامی سڑکیں اور روزگار پیدا کرنے والے منصوبے۔ قرضوں پر بڑھتے ہوئے سودی اخراجات بجٹ کا بڑا حصہ کھا جاتے ہیں۔ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے ٹیکس نیٹ وسیع ہو، غیر ضروری اخراجات کم ہوں اور معیشت کی پیداواری صلاحیت بڑھے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ آسان قرضے، کم شرح سود، ٹیکس میں سہولت اور کاروباری ماحول میں بہتری نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ تجاویز پر اتفاقِ رائے کی خبر بلاشبہ سیاسی استحکام کے لیے اچھی ہے۔ لیکن عوام اس مفاہمت کو تب ہی سراہیں گے جب اس کے ثمرات ان کی زندگی میں نظر آئیں گے۔ اگر بجٹ کے بعد بھی بجلی کے بل ناقابلِ برداشت رہیں، بازار میں قیمتیں بڑھتی رہیں اور روزگار کے مواقع محدود ہوں تو سیاسی اتفاقِ رائے اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔
اس لیے ضروری ہے کہ بجٹ سازی کے عمل میں شفافیت اختیار کی جائے۔ پارلیمان میں کھلی بحث ہو، ماہرینِ معیشت کی رائے لی جائے اور عوام کو واضح بتایا جائے کہ کن اقدامات سے انہیں فائدہ پہنچے گا اور کن قربانیوں کی ضرورت ہوگی۔ اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب حکومت مشکل فیصلوں کے ساتھ عوامی تحفظ کا بندوبست بھی کرے۔ پاکستان کی بڑی آبادی ایسے خاندانوں پر مشتمل ہے جو ماہانہ آمدن اور اخراجات کے درمیان مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔ بہت سے گھرانوں کے لیے بچوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی خوراک کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں بجٹ کا بنیادی مقصد صرف مالی خسارہ کم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ حکومت اگر واقعی غریب طبقے کی دادرسی چاہتی ہے تو سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مؤثر بنانا ہوگا۔ مستحق خاندانوں کی نشان دہی، شفاف امدادی نظام، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں براہِ راست سہولتیں اور خواتین کے لیے معاشی مواقع ایسے اقدامات ہیں جو معاشرے میں حقیقی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ بجٹ پر سیاسی جماعتوں کا اتفاقِ رائے ایک خوش آئند آغاز ہے مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب بجٹ عوام کے لیے آسانی، امید اور اعتماد کا ذریعہ بنے۔ مہنگائی سے پریشان غریب اور متوسط طبقہ محض اعلانات نہیں بلکہ عملی ریلیف چاہتا ہے۔ حکومت اور اس کے اتحادی اگر اس حقیقت کو سامنے رکھ کر مالیاتی پالیسی ترتیب دیں تو نہ صرف معاشی دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ ملک کو اس وقت ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جو ریونیو بڑھانے کے ساتھ شہریوں کی زندگی کو قابلِ برداشت بنائے، معاشی سرگرمی کو فروغ دے اور کمزور طبقات کے لیے حقیقی سہارا ثابت ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو سیاسی مفاہمت کو عوامی کامیابی میں تبدیل کرسکتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔