بجلی صارفین کے لیے بڑا اعلان

مہروز احمد
پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ کے اس دور میں اگر عوام کو کسی ایک شعبے سے بھی ریلیف ملے تو یہ یقیناً ایک خوش آئند خبر سمجھی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں پاور ڈویژن کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ جون میں بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، جس کے باعث صارفین 5 سے 6 روپے فی یونٹ کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچ جائیں گے۔ یہ خبر نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی اور کاروباری حلقوں کے لیے بھی امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔ ایسے وقت میں جب ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے، بجلی کی قیمتوں میں استحکام عوام کے لیے کسی بڑے ریلیف سے کم نہیں۔
پاور ڈویژن کے مطابق بروقت حکمت عملی، بہتر لوڈمینجمنٹ، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور درآمدی کول پلانٹس کے مؤثر استعمال کے باعث قریباً 38 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ عوام پر منتقل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں منصوبہ بندی اور سنجیدگی کے ساتھ فیصلے کیے جائیں تو نہ صرف بحرانوں پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ عوام کو براہِ راست ریلیف بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ پہلی سہ ماہی میں صارفین کو 65 ارب روپے کی واپسی اور قریباً 1.93 روپے فی یونٹ ریلیف اس بات کا ثبوت ہے کہ درست سمت میں کیے گئے فیصلے مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔ یہ اقدامات حکومت کے لیے ایک موقع ہیں کہ وہ عوام کا اعتماد بحال کرے اور یہ ثابت کرے کہ توانائی کے شعبے میں بہتری ممکن ہے۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ریلیف مستقل نوعیت کا ہوگا یا صرف وقتی اقدام ثابت ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ اب بھی کئی سنگین مسائل کا شکار ہے۔ گردشی قرضے مسلسل بڑھ رہے ہیں، بجلی چوری کا مسئلہ ختم نہیں ہوسکا جب کہ مہنگے معاہدے اور ناقص ترسیلی نظام بھی قومی خزانے پر بھاری بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ اگر ان بنیادی مسائل کو حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں دوبارہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ موجود رہے گا۔
عوام کی اصل خواہش صرف بجلی سستی ہونے تک محدود نہیں، بلکہ وہ مستقل اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی بھی چاہتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں لوڈشیڈنگ اور وولٹیج کے مسائل عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے بجلی کی ترسیل اور پیداوار کے نظام میں بھی جامع اصلاحات لائے۔
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرکے متبادل توانائی ذرائع، خصوصاً سولر، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں پر توجہ دے تو نہ صرف بجلی کی پیداواری لاگت کم ہوسکتی ہے، بلکہ ملک کو توانائی کے بحران سے بھی نکالا جاسکتا ہے۔ دُنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کی طرف تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے اور پاکستان کے پاس بھی اس میدان میں بے شمار مواقع موجود ہیں۔ اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ طویل المدتی پالیسی اپنائے تو آنے والے برسوں میں عوام کو مزید سستی بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔
صنعتی شعبے کے لیے بھی بجلی کی مستحکم قیمتیں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر براہِ راست اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اگر صنعتوں کو مناسب نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے تو برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی پالیسی کو صرف عوامی ریلیف تک محدود رکھنے کے بجائے ملکی معیشت کی بحالی سے بھی جوڑنا ضروری ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے کا حالیہ اعلان بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب حکومت مستقل بنیادوں پر توانائی اصلاحات نافذ کرے گی۔ عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ دیرپا نتائج چاہتے ہیں۔ اگر حکومت توانائی کے شعبے میں شفافیت، بہتر منصوبہ بندی اور سخت نگرانی کو یقینی بنائے تو نہ صرف عوامی مشکلات کم ہوسکتی ہیں، بلکہ پاکستان کی معیشت بھی استحکام کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے۔