ہار سے جیت تک

فہیم سلیم

رات بہت ٹھنڈی تھی۔ شہر کے بڑے اسپتال کے باہر بیٹھا وہ شخص بار بار اپنی پھٹی ہوئی جیکٹ کو سینے سے چپکارہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف انتظار تھا۔ انتظار اس خبر کا کہ اندر آئی سی یو میں موجود اُس کی 6 سالہ بیٹی اب شاید بچ جائے۔ اُس شخص کا نام عارف تھا۔
کبھی وہ بھی ایک خوشحال آدمی ہوا کرتا تھا۔ شہر کی ایک فیکٹری میں اچھی نوکری، چھوٹا سا گھر، ہنستا کھیلتا خاندان۔ اُس کی دنیا بہت بڑی نہیں تھی مگر مکمل تھی۔ بیوی زینب، بیٹی عائشہ اور ایک خواب کہ بیٹی کو بڑا افسر بنانا ہے، تاکہ وہ اُس زندگی سے بہتر زندگی گزار سکے جو عارف نے دیکھی تھی مگر زندگی ہمیشہ انسان کے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتی۔
ایک دن فیکٹری میں آگ لگ گئی۔ کئی مزدور زخمی ہوئے، کچھ جان سے گئے اور فیکٹری ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی۔ عارف کی نوکری ختم ہوگئی۔ شروع میں اُسے لگا کہ وہ جلد ہی دوسری نوکری ڈھونڈ لے گا مگر مہینے گزرتے گئے۔ قرض بڑھتا گیا۔ گھر کا سامان بکتا گیا۔
پھر ایک دن اُس کی بیوی بیمار پڑ گئی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ علاج لمبا اور مہنگا ہوگا۔ عارف نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا۔ رشتے دار، دوست، محلے والے… مگر غربت انسان کو آہستہ آہستہ اکیلا کر دیتی ہے۔ زینب اکثر اُس سے کہتی: “عارف… اگر میرے علاج پر اتنے پیسے لگ رہے ہیں تو چھوڑ دو… عائشہ کی پڑھائی مت رکنے دینا۔”
مگر عارف ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ دن بھر مزدوری کرتا، رات کو رکشا چلاتا۔ کئی کئی دن بغیر سوئے گزار دیتا مگر بیماری نے زینب کو آخرکار اُس سے چھین لیا۔
اُس دن عارف پہلی بار ٹوٹا تھا۔ بیوی کی قبر کے پاس بیٹھ کر وہ بچوں کی طرح رویا۔ اُسے لگا زندگی ختم ہوگئی ہے مگر جب گھر واپس آیا تو چھوٹی عائشہ اُس کے گلے لگ کر بولی: “بابا… آپ روئیں نہیں… میں بڑی ہوکر امی جیسی بنوں گی۔”
اُسی لمحے عارف نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے زندہ رہے گا۔ مگر آزمائشیں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں۔
ایک رات عائشہ کو تیز بخار ہوا۔ عارف اُسے اسپتال لے گیا۔ ٹیسٹ ہوئے۔ رپورٹس آئیں۔ ڈاکٹر نے دھیمی آواز میں کہا: “آپ کی بیٹی کے دل میں مسئلہ ہے۔ فوری آپریشن کرنا ہوگا۔” عارف کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ آپریشن کے لیے لاکھوں روپے چاہیے تھے۔ اُس رات وہ سڑک کنارے بیٹھا آسمان کو دیکھتا رہا۔ پہلی بار اُس نے خدا سے شکوہ کیا: “یااللہ… آخر کب تک؟ میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟” اگلے دن اُس نے اپنی بیوی کی آخری نشانی، ایک چھوٹی سی انگوٹھی بیچ دی۔ پھر خون بیچا۔ کئی دن مزدوری کی مگر رقم پھر بھی پوری نہ ہوئی۔
ایک شام وہ تھک کر فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا کہ ایک بوڑھا شخص اُس کے پاس آیا۔ اُس نے عارف کے چہرے پر شکستگی دیکھی اور پوچھا: “بیٹا، اتنا پریشان کیوں ہو؟” عارف پھٹ پڑا۔ اُس نے ساری کہانی سنادی۔ بوڑھے شخص نے خاموشی سے اُس کی بات سنی، پھر اپنی جیب سے ایک پرانا بٹوہ نکالا۔ اُس میں چند ہزار روپے تھے۔ اُس نے سارے پیسے عارف کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ عارف حیران رہ گیا۔ “بابا جی… آپ مجھے جانتے بھی نہیں…”
بوڑھا مسکرایا: “بیٹا… میں بھی کبھی تمہاری جگہ کھڑا تھا۔ اُس وقت کسی اجنبی نے میری مدد کی تھی۔ آج میری باری ہے۔”
یہ الفاظ عارف کے دل میں اتر گئے۔ پھر عجیب طرح سے مدد آنا شروع ہوگئی۔ کسی نے سوشل میڈیا پر اُس کی کہانی شیئر کی، کسی نے چندہ دیا، کسی نے دوائیوں کا خرچہ اٹھایا اور آخرکار عائشہ کا آپریشن ہوگیا۔ آپریشن کے بعد جب عائشہ نے پہلی بار آنکھ کھولی تو کمزور آواز میں بولی: “بابا… ہم جیت گئے نا؟” عارف رو پڑا۔ اُس نے بیٹی کا ماتھا چوما اور کہا: “ہاں بیٹا… ہم جیت گئے۔” مگر اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
کئی سال گزر گئے۔ عائشہ بڑی ہوگئی۔ اُس نے سخت محنت کی، اسکالرشپ حاصل کی اور ڈاکٹر بن گئی۔ ایک دن اُسی اسپتال کے باہر ایک غریب آدمی اپنی بیمار بیٹی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اُس کے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے۔ لوگ گزر رہے تھے مگر کوئی رُک نہیں رہا تھا۔ تب سفید کوٹ پہنے ایک ڈاکٹر اُس کے پاس آئی۔ اُس نے بچی کو دیکھا اور فوراً اندر لے گئی۔ وہ ڈاکٹر عائشہ تھی۔ علاج مکمل ہونے کے بعد اُس شخص نے روتے ہوئے کہا: “بیٹی… میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کچھ نہیں…” عائشہ مسکرائی۔ “مجھے بھی کبھی کسی نے بغیر کسی مطلب کے بچایا تھا۔ آج میری باری ہے۔”
اُس رات عائشہ گھر آئی تو اُس نے اپنے باپ کو سوتے دیکھا۔ عارف کے چہرے پر اب سکون تھا۔ وہی شخص جو کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر قسمت کو رویا کرتا تھا، آج اپنی بیٹی کی کامیابی دیکھ کر مطمئن تھا۔ عائشہ نے آہستہ سے اپنے باپ کے ہاتھ چومے اور دل ہی دل میں کہا: “بابا… آپ ہار جاتے تو میں کبھی جیت نہ پاتی۔”
زندگی کبھی کبھی انسان کو اتنا توڑ دیتی ہے کہ اُسے لگتا ہے اب کچھ باقی نہیں رہا۔ مگر اکثر وہی لوگ، جو سب سے زیادہ درد سہتے ہیں، ایک دن دوسروں کے لیے روشنی بن جاتے ہیں۔ مشکل وقت ہمیشہ مستقل نہیں رہتا، لیکن ہمت رکھنے والے لوگ اپنی کہانی ہمیشہ مستقل بنا جاتے ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔