بریسٹ کینسر کے خلاف جنگ، ڈیٹا سے علاج میں بڑی پیش رفت

کراچی: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیونگ اینڈ لرننگ (PILL) نے یونیورسٹی آف مانچسٹر کے اشتراک سے ورلڈ بریسٹ کینسر ریسرچ ڈے کے موقع پر PC ہوٹل کراچی میں “Data Saves Lives” (اعداد و شمار زندگی بچاتے ہیں) کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر صحت کے شعبے کے رہنماؤں، محققین، معالجین اور کمیونٹی نمائندگان نے شرکت کی اور بریسٹ کینسر کے علاج کے نتائج بہتر بنانے اور نگہداشت (دیکھ بھال) میں عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے معیاری اور قابلِ اعتماد ڈیٹا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ تقریب میں ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، وزیرِ صحت و آبادی بہبود، حکومتِ سندھ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب کا آغاز پروفیسر عمران بشیر چوہدری، چیئرمین، شعبۂ نفسیات، ضیاء الدین یونیورسٹی و اسپتال نے کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر اعداد و شمار کے پیچھے ایک مریض، ایک خاندان اور مستقبل میں بہتر نگہداشت (دیکھ بھال) کے نظام کی تعمیر کا ایک موقع موجود ہوتا ہے۔
پروفیسر نسیم چوہدری، کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ اور CEO، PILL نے بریسٹ کینسر کو ایک اہم عالمی صحت کے چیلنج کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے اس کے صحت پر ہونے والے اثرات پر روشنی ڈالی، جن میں متاثرہ فرد اور ان کے گھر کے فرد کی ذہنی صحت اور کینسر کا دوبارہ ہونا شامل ہے۔ انہوں نے علاج میں مسلسل تاخیر، خصوصاً کم خواندگی (کم پڑھے لکھے یا معلومات سے آگاہی نہ رکھنا) رکھنے والی اور سماجی و معاشی طور پر محروم خواتین کو درپیش مشکلات کی نشان دہی کی۔ انہوں نے بریسٹ کینسر سے آگے بڑھنا پروگرام کا بھی ذکر کیا، جو پاکستان میں بریسٹ کینسر پر ہونے والا سب سے بڑا پروجیکٹ ہے، جس کا مقصد 26,000 سے زائد بریسٹ کینسر سے صحت یاب ہونے والی خواتین کو شامل کرنا اور انہیں بریسٹ کینسر سے آگے بڑھنا پروگرام کے تربیتی سیشنز فراہم کرنا ہے ۔ تحقیق کے مطابق رجیسٹری کے ذریعے کینسر کے علاج میں 68٪ بہتری لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے پروگرام کے تحت جاری” ہرا دو کینسر کوDefeat Cancer” قومی آگاہی مہم اور بریسٹ کینسر رجسٹری کے قیام کو بھی اجاگر کیا، جن کا مقصد شواہد پیدا کرنا، صحت کی سہولتوں میں موجود عدم مساوات کی نشان دہی کرنا اور بہتر علاج و پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر مدیحہ ہاشمی نے Intensive Care Unit (ICU) Registry کی کامیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح معیاری طریقے سے جمع کردہ صحت کے اعداد و شمار طبی نگہداشت، علاج میں بہتری اور تحقیق میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اس تجربے کو پاکستان، بالخصوص سندھ میں کینسر رجسٹریز کے قیام کے لیے ایک عملی ماڈل قرار دیا، جو مریضوں کی نگہداشت اور تحقیق دونوں کو مضبوط بناسکتی ہیں۔
پروفیسر بینفشہ منظور سید، سربراہ کلینیکل ریسرچ ڈویژن، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) نے کینسر کی تشخیص اور بریسٹ کینسر رجسٹریز کے ارتقاء پر روشنی ڈالتے ہوئے برطانیہ اور امریکا میں قائم رجسٹری نظاموں سے حاصل ہونے والے اسباق بیان کیے۔ انہوں نے مؤثر کینسر حکمتِ عملی تشکیل دینے اور زندگیوں کی شرح بہتر بنانے میں رجسٹریز کے اہم کردار کو اجاگر کیا، خصوصاً سندھ میں جہاں زندگی کی شرح اب بھی کم ہے۔ انہوں نے صوبائی سطح پر مراکز پر مشتمل ماڈل تجویز کیا اور محکمۂ صحت سے تعاون کی اپیل کی تاکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو متحرک کیا جاسکے اور رجسٹری کے لیے ضلعی سطح پر مخصوص ٹیم مقرر کی جا سکے۔
پروفیسر نصرت حسین نے اس بات پر زور دیا کہ “Data Saves Lives” (اعداد و شمار زندگی بچاتے ہیں) صحت کی تحقیق کا ایک عالمی اصول ہے، جس کا بنیادی مقصد صحت اور فلاح و بہبود کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اعداد و شمار ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ کون متاثر ہورہا ہے، کون خطرے میں ہے، بیماری کی بروقت تشخیص کیسے ممکن ہے اور علاج کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ “ذہنی صحت کے بغیر صحت کا تصور نامکمل ہے” اور ذہنی صحت کی تحقیق کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے Global Burden of Disease جیسے اقدامات کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح صحت سے متعلق اعداد و شمار بامعنی اور مؤثر اقدامات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے شرکاء کی بھرپور شرکت اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
اپنے خطاب میں معزز وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لِوِنگ اینڈ لرننگ (PILL) کی ٹیم کو ذہنی صحت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید اور شواہد پر مبنی طریقہ ہائے کار وضع کرنے اور نافذ کرنے کی کاوشوں پر سراہا۔ معزز وزیر صحت نے پروفیسر فوزیہ ربانی اور آغا خان یونیورسٹی کو لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ذریعے ایم پریشان (mPareshan) پراجیکٹ کے کامیاب نفاذ پر بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس پراجیکٹ کا مقصد کمیونٹی کی دہلیز پر اضطراب اور ڈپریشن کی ابتدائی شناخت، اسکریننگ اور ریفرل کو ممکن بنانا تھا، ایم پریشان ذہنی صحت کی نگہداشت کو عوام کے قریب تر لاتا ہے۔ انہوں نے اس ایل ایچ ڈبلیو کی سربراہی میں چلنے والے ماڈل کو سندھ بھر میں بنیادی صحت کی نگہداشت میں ذہنی صحت کے انضمام کی بنیاد کے طور پر تجویز کیا۔
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے جاری "امپروونگ ایکسیس ٹو سائیکولوجیکل تھیراپیز – پاکستان” (آئی اے پی ٹی-پاکستان) پروگرام کی توسیع کا اعلان بھی کیا، جو لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ اور سکھر کے علاوہ اب ٹنڈو اللہ یار تک بھی پھیلایا جائے گا۔ سندھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور پی پی ایچ آئی کے ساتھ، اس کوشش کو سویرا (Savaira)، تسکین (Taskeen) اور سندھ انٹیگریٹڈ ایمرجنسی اینڈ ہیلتھ سروسز (SIEHS) کی معاونت حاصل ہوگی، جو سندھ بھر کی کمیونٹیز تک نفسیاتی نگہداشت کو مزید قریب لانے کی جانب ایک اور اہم قدم ہے۔
سیمینار کا اختتام حکومت، محققین، صحت کے اداروں اور کمیونٹیز کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بہتر اور معیاری اعداد و شمار، مضبوط تحقیقی نظام اور شواہد پر مبنی پالیسیاں سندھ میں بریسٹ کینسر اور ذہنی صحت کے بہتر نتائج کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
اس تقریب میں معروف تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، جامعہ کراچی، وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی، سلیم حبیب یونیورسٹی، ڈی ایچ اے صفہ یونیورسٹی اور سز ابسٹ (SZABIST) شامل تھے؛ صحت اور کمیونٹی تنظیمیں بشمول انڈس ہسپتال، پی پی ایچ آئی سندھ اور کاروانِ حیات؛ حکومتی صحت حکام بشمول ڈی ایچ او کیماڑی، ڈی ایچ او ساؤتھ اور ڈی ایچ او سینٹرل؛ اور ایس ڈی جیز سپورٹ یونٹ سندھ/ اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (UNDP) بھی شریک ہوا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔