نئے صوبے: عوام کے خوابوں کا نیا راستہ

دانیال جیلانی
قومیں صرف زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں، قومیں ان خوابوں سے بنتی ہیں جو ایک عام آدمی اپنی بستی، اپنے شہر اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے دیکھتا ہے۔ کسی ریاست کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کا نقشہ کتنا بڑا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس نقشے کے آخری سرے پر کھڑا ہوا انسان خود کو ریاست کے کتنا قریب محسوس کرتا ہے۔ اگر حکومت کا سایہ دارالحکومت سے نکل کر گلی، محلے، قصبے اور گاؤں تک پہنچ جائے تو وسیع رقبہ بھی نعمت بن جاتا ہے، لیکن اگر اختیار چند مراکز میں سمٹ جائے تو وسیع و عریض خطہ بھی محرومی کا استعارہ بن جاتا ہے۔
نئے صوبوں کی بحث بھی دراصل اسی احساسِ محرومی، انتظامی فاصلے اور اختیار کی تقسیم سے جنم لیتی ہے۔ اسے محض سیاسی نعرہ، علاقائی تعصب یا نقشے کی تبدیلی سمجھنا اس بحث کی روح کو نظرانداز کرنا ہے۔ یہ سوال کہیں زیادہ گہرا ہے: کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بڑھتی آبادی، بڑھتے ہوئے شہروں اور نئی معاشی ضرورتوں کا ساتھ دے پارہا ہے؟
وقت کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا۔ شہر پھیلتے ہیں، آبادی بڑھتی ہے، نئی بستیاں وجود میں آتی ہیں، تجارت کے مراکز بدلتے ہیں، مواصلات کے ذرائع ترقی کرتے ہیں اور لوگوں کی ضروریات بھی بدل جاتی ہیں مگر ہم اکثر انتظامی نظام کو وہیں منجمد رکھنے پر اصرار کرتے ہیں جہاں اسے کئی دہائیاں پہلے قائم کیا گیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی آگے بڑھ رہی ہو اور حکمرانی کا نقشہ پیچھے رہ گیا ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے صوبوں کا تصور ایک سنجیدہ قومی ضرورت کے طور پر سامنے آتا ہے۔
ہمیں ایک لمحے کے لیے سیاسی عینک اتار کر یہ سوچنا ہوگا کہ ایک ایسے شہری کے لیے حکومت کی معنویت کیا ہے جو اپنے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے طویل فاصلے طے کرتا ہے، دفاتر کے چکر لگاتا ہے، سفارش ڈھونڈتا ہے اور پھر بھی اسے یقین نہیں ہوتا کہ اس کی آواز فیصلہ کرنے والے شخص تک پہنچ پائے گی۔ اس شہری کے لیے صوبے کا نام، دارالحکومت کا مقام اور سیاسی نقشہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کی پہلی خواہش یہ ہے کہ اسپتال اس کے قریب ہو، اسکول اس کے بچوں تک پہنچے، پولیس اسے تحفظ دے، عدالت تک رسائی آسان ہو، سڑک اسے دنیا سے جوڑے اور سرکاری دفتر اسے دھکے دینے کے بجائے سہولت فراہم کرے۔
اگر چھوٹے انتظامی یونٹ یہ کام زیادہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں تو پھر نئے صوبوں پر گفتگو سے گھبرانے کی کیا وجہ ہے؟
ہم نے برسوں سے ’’وحدت‘‘ اور ’’یکجہتی‘‘ کے الفاظ کو اس طرح استعمال کیا ہے جیسے انتظامی تقسیم لازماً قومی تقسیم کا باعث بنتی ہو۔ حالانکہ مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں اختیارات منظم انداز میں تقسیم ہوں اور ہر انتظامی اکائی وفاق کے مضبوط رشتے میں بندھی ہو۔ صوبوں کی تعداد میں اضافہ خود بخود ملک کو کمزور نہیں کرتا، کمزور وہ نظام ہوتا ہے جو اپنے شہریوں کی ضروریات پوری نہ کرسکے۔
نئے صوبوں کی حمایت کا مطلب موجودہ صوبوں کی نفی نہیں۔ اس کا مطلب کسی قوم، زبان یا ثقافت کو کم تر سمجھنا بھی نہیں۔ پاکستان کی خوبصورتی ہی اس کے رنگا رنگ ثقافتی وجود میں ہے۔ سندھ کی اپنی تہذیبی شان ہے، پنجاب کی اپنی شناخت، بلوچستان کی اپنی روایات اور خیبر پختونخوا کی اپنی تاریخ۔ نئے انتظامی یونٹ ان شناختوں کو مٹانے کے بجائے بہتر حکمرانی کا ذریعہ بن سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں تعصب کے بجائے آئین، اتفاقِ رائے اور عوامی مفاد کی بنیاد پر تشکیل دیا جائے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر نئے مطالبے کو فوراً سیاسی فائدے اور نقصان کے ترازو میں تولنے لگتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ اس مطالبے کے پیچھے موجود عوامی احساس کیا ہے؟ لوگ ایسا مطالبہ کیوں کررہے ہیں؟ ان کے مسائل کیا ہیں؟ انہیں کس قسم کا انتظامی ڈھانچہ درکار ہے؟ عوامی مطالبات کو خاموش کرانا آسان ہے، سمجھنا مشکل۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو مطالبات مسلسل نظرانداز کیے جائیں، وہ ختم نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں۔ دانش مندی یہ ہے کہ مسئلے کو اس وقت سنا جائے جب وہ گفتگو کا موضوع ہو، نہ کہ اس وقت جب وہ بحران بن جائے۔
نئے صوبوں کے حامیوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ صرف صوبہ بنا دینا مسائل کا جادوئی حل نہیں۔ اگر نئی اکائی میں بھی وہی مرکزیت، وہی کمزور ادارے، وہی سیاسی مداخلت، وہی ناقص منصوبہ بندی اور وہی کرپشن منتقل ہوگئی تو صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچنے سے عام آدمی کی زندگی نہیں بدلے گی۔ اس لیے نئے صوبوں کی بحث کے ساتھ نئے طرزِ حکمرانی کی بحث بھی ضروری ہے۔
ایسے صوبے درکار ہیں جو محض نئے نام اور نئے دفاتر نہ ہوں بلکہ حقیقی انتظامی خودمختاری، مؤثر مقامی حکومت، مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف مالیاتی تقسیم اور جواب دہ اداروں کی بنیاد بنیں۔
یہاں ایک اور سوال بھی اہم ہے: کیا وسائل کی تقسیم آبادی، ضرورت اور پس ماندگی کے حقیقی پیمانوں پر ہونی چاہیے یا صرف اس بنیاد پر کہ کون سا علاقہ اقتدار کے مرکز سے کتنا قریب ہے؟
اگر کسی دُور دراز علاقے کا بچہ وہی ٹیکس دیتا ہے جو بڑے شہر کا شہری دیتا ہے تو اسے تعلیم، صحت، روزگار اور انفرا اسٹرکچر کے برابر مواقع ملنے چاہئیں۔ ریاست کی ذمے داری صرف یہ نہیں کہ وہ شہری سے محصول وصول کرے، ریاست کا فرض یہ بھی ہے کہ اسے عزت، سہولت اور ترقی کا حق دے۔ نئے صوبوں کی بحث کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ بحث دراصل ’’کتنے صوبے؟‘‘ سے زیادہ ’’کتنی رسائی؟‘‘ کی بحث ہے۔ یہ ’’کون سا علاقہ؟‘‘ سے زیادہ ’’کون سا نظام؟‘‘ کا سوال ہے۔ اور یہ ’’نقشہ کیسے بدلے؟‘‘ سے زیادہ ’’زندگی کیسے بدلے؟‘‘ کا سوال ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ نئی نسل پرانی انتظامی سرحدوں سے زیادہ مواقع، تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی اور بہتر طرزِ حکمرانی چاہتی ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ ریاست اس کے لیے کیا کرسکتی ہے۔ اگر حکومتی نظام اسے مسلسل یہ احساس دیتا رہے کہ فیصلہ اس سے بہت دُور کسی مرکز میں ہوتا ہے تو ریاست اور شہری کے درمیان فاصلہ بڑھتا جائے گا۔ اس فاصلے کو کم کرنا ہوگا۔ نئے صوبے اسی کوشش کا ایک ممکنہ راستہ ہیں۔
لیکن فیصلہ جذبات سے نہیں، دلیل سے ہونا چاہیے؛ اشتعال سے نہیں، آئین سے ہونا چاہیے، سیاسی مفاد سے نہیں، عوامی ضرورت سے ہونا چاہیے۔ پارلیمان، سیاسی جماعتوں، ماہرینِ انتظامیہ، ماہرینِ معیشت اور سب سے بڑھ کر متعلقہ عوام کو اس مکالمے کا حصہ بنایا جائے۔ جہاں ضرورت ثابت ہو، وہاں نئے انتظامی یونٹ بنانے پر کھلے دل سے غور کیا جائے۔
ہم کب تک اس خوف میں مبتلا رہیں گے کہ انتظامی تبدیلی سے کہیں قومی وحدت متاثر نہ ہوجائے؟ قومی وحدت صرف نقشے سے نہیں، انصاف سے پیدا ہوتی ہے۔ جس شہری کو انصاف، شناخت، عزت اور ترقی کے برابر مواقع ملیں، وہ ریاست کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جڑتا ہے۔ پاکستان کو بڑے نقشے سے زیادہ بڑے دل کی حکمرانی درکار ہے۔ ایسی حکمرانی جو یہ نہ دیکھے کہ شہری کس مرکز سے کتنی دور رہتا ہے، بلکہ یہ دیکھے کہ ریاست اس تک کتنی جلد پہنچ سکتی ہے۔
اگر نئے صوبے اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں تو ان پر بات ہونی چاہیے۔ اگر موجودہ نظام بہتر ہے تو اسے دلیل، اعداد و شمار اور عملی نتائج کے ذریعے ثابت کیا جائے۔ مگر بحث کو ہمیشہ کے لیے دفن کردینا مسئلے کا حل نہیں۔ کیونکہ عوام کے خوابوں کو سرحدوں سے نہیں باندھا جاسکتا۔ انہیں صرف ایک ایسا نظام چاہیے جہاں حکومت ان کے قریب ہو، اختیار ان کی آواز سنے اور ترقی ان کے دروازے تک پہنچے۔ نئے صوبے شاید پاکستان کے مسائل کا واحد حل نہ ہوں، لیکن ملک کے انتظامی مستقبل پر سنجیدہ غور کا ایک دروازہ ضرور ہیں۔ اور کبھی کبھی قوموں کو آگے بڑھنے کے لیے نئی منزل نہیں، صرف پرانے راستے سے ہٹ کر ایک نیا راستہ درکار ہوتا ہے۔