بل گیٹس کی بیٹی کو گرفتاری اور 20 سال قید کے خطرات کا سامنا

نیویارک: مائیکروسافٹ کے بانی اور امریکا کے ارب پتی بل گیٹس کی 23 سالہ بیٹی فیبی گیٹس اپنی ڈیجیٹل شاپنگ اسٹارٹ اپ کمپنی فیا سے متعلق کوکی اسٹفنگ کے الزامات کے باعث تنازع میں گھر گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیبی گیٹس نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اپنی سابق ساتھی صوفیا کیانی کے ساتھ مل کر ’فیا‘ قائم کی تھی، جو صارفین کو آن لائن خریداری کے دوران مختلف مصنوعات اور ڈسکاؤنٹ آفرز تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ’فیا‘ پر الزام ہے کہ اس کے بعض فیچرز صارفین کے براؤزر میں ایسی کوکیز شامل کرتے تھے جن کے ذریعے کمپنی کو ان آن لائن خریداریوں کا کریڈٹ اور کمیشن بھی مل سکتا تھا جن میں اس نے حقیقتاً صارف کو متعلقہ اسٹور تک نہیں پہنچایا تھا۔
اس عمل کو ’کوکی اسٹفنگ‘ کہا جاتا ہے اور بعض حالات میں اس سے متعلق فراڈ کے الزامات سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ امریکی قانونی ماہرین کے مطابق متعلقہ وفاقی جرائم ثابت ہونے کی صورت میں زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال قید تک ہو سکتی ہے، تاہم فیبی گیٹس کو ایسی سزا سنائے جانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
فیا نے ابتدائی طور پر معاملے کو تکنیکی خرابی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلے کا علم ہونے کے بعد متعلقہ فیچرز کو ہٹا دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق متنازع فیچرز بند ہونے کے بعد ’فیا‘ کی اوسط یومیہ آمدن قریباً 80 ہزار ڈالر سے کم ہوکر 10 ہزار سے 28 ہزار ڈالر کے درمیان رہ گئی۔
ان کی ٹیکنالوجی کی مہارت پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہوگئے جب اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سابق ساتھیوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اچھی کوڈر کے طور پر نہیں جانی جاتی تھیں۔
سابق ساتھی کے مطابق انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ہیومن بائیولوجی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ اس ڈگری کے لیے کمپیوٹر سائنس کی کلاسز لینا لازمی نہیں تھا اور فوبی نے مبینہ طور پر ایڈوانس کوڈنگ کورسز بھی نہیں کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب فیبی اور صوفیہ نے اپنے اسٹارٹ اپ ’فیا‘ کے منصوبے کا اعلان کیا تو بعض کمپیوٹر سائنس طلبہ نے بھی ان کی کوڈنگ کی صلاحیت پر سوالات اٹھائے تھے۔ بعد ازاں فیبی نے اسٹینفورڈ میں اپلائیڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور انٹرپرینیورشپ کی ایک کلاس ضرور لی تھی، جس نے بعد میں ’فیا‘ کے قیام میں کردار ادا کیا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔