ماں کی نصیحت

حسان احمد
شدید سردی کی ایک رات تھی۔ شہر کی سڑکیں سنسان تھیں اور لوگ اپنے گرم کمروں میں سو چکے تھے۔ ایک نوجوان، حارث، اپنی گاڑی میں تیزی سے گھر جارہا تھا۔ وہ ایک کامیاب کاروباری شخص تھا، دولت کی کوئی کمی نہ تھی، مگر دل میں عجیب بے چینی رہتی تھی۔ دنیا کی ہر آسائش ہونے کے باوجود سکون اس سے کوسوں دُور تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک بوڑھی عورت پر پڑی جو سڑک کنارے بیٹھی کانپ رہی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے۔ حارث نے ایک لمحے کو گاڑی آہستہ کی، مگر پھر سوچا، "یہ میرا مسئلہ نہیں۔” اور آگے بڑھ گیا۔ چند منٹ بعد اچانک گاڑی خراب ہوگئی۔ رات کے اس پہر کوئی مدد بھی دستیاب نہ تھی۔ مجبوراً وہ گاڑی سے نکلا اور پیدل چلنے لگا۔ کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا جھونپڑا نظر آیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک ضعیف عورت نے دروازہ کھولا۔ "بیٹا، اندر آجاؤ، بہت سردی ہے۔” حارث اندر داخل ہوا۔ جھونپڑے میں غربت ناچ رہی تھی۔ ایک پرانا بستر، ایک ٹوٹی ہوئی کرسی اور کونے میں مٹی کا چولہا، لیکن اس غریب عورت کے چہرے پر عجیب سکون تھا۔
اس نے حارث کے لیے چائے بنائی۔ حارث حیران تھا کہ خود بھوکی لگنے والی عورت اسے اپنے گھر کا آخری سامان پیش کررہی تھی۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ عورت کا ایک ہی بیٹا تھا جو کئی سال پہلے شہر کمانے گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔ نہ خط، نہ خبر۔ "کیا آپ کو اس پر غصہ نہیں آتا؟” حارث نے پوچھا۔ عورت کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ "نہیں بیٹا، ماں اپنے بچوں سے ناراض نہیں ہوتی۔ میں آج بھی اس کے لیے دعا کرتی ہوں۔” یہ سن کر حارث کو اپنی ماں یاد آگئی۔
اس کی ماں بھی گاؤں میں اکیلی رہتی تھی۔ وہ کئی بار فون کرتی، ملنے کی خواہش کرتی، مگر حارث ہمیشہ مصروفیت کا بہانہ بنادیتا۔ اسے لگتا تھا کہ دولت کمانا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ رات گزری اور صبح ہوگئی۔ گاڑی بھی ٹھیک ہوگئی۔ رخصت ہوتے وقت حارث نے عورت کو کچھ پیسے دینے چاہے۔ عورت مسکرا دی۔ "بیٹا، اگر میرے لیے کچھ کرنا چاہتے ہو تو اپنی ماں کے پاس چلے جانا۔ بوڑھی ماؤں کو پیسوں سے زیادہ اپنے بچوں کی ضرورت ہوتی ہے۔” یہ الفاظ تیر بن کر حارث کے دل میں اتر گئے۔
وہ سیدھا اپنے گاؤں روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچا تو دروازہ بند تھا۔ پڑوسی نے بتایا: "بیٹا، تم بہت دیر کر چکے ہو…” حارث کے قدم لرز گئے۔ "کیا مطلب؟” پڑوسی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "تمہاری ماں تین دن پہلے انتقال کر گئی۔ آخری وقت تک تمہارا نام لیتی رہی۔” یہ سن کر حارث زمین پر گر پڑا۔ اسے یوں لگا جیسے پوری دنیا اس کے اوپر ٹوٹ پڑی ہو۔ وہ ماں کے کمرے میں گیا۔ بستر خالی تھا۔ تکیے کے نیچے ایک خط رکھا تھا۔ کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔ اس میں لکھا تھا:
"میرے پیارے بیٹے حارث! اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو تو شاید میں اس دنیا میں نہیں ہوں گی۔ بیٹا، میں نے تمہیں ہمیشہ خوش دیکھنا چاہا۔ تم کامیاب ہوگئے، یہ سوچ کر مجھے خوشی ملتی تھی۔ مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں۔ بس ایک خواہش ہے۔ جب بھی کسی غریب، یتیم یا مجبور انسان کو دیکھو تو اس کی مدد ضرور کرنا۔ لوگوں کے دل جیتنا، کیونکہ دولت قبر تک ساتھ نہیں جاتی، لیکن نیکیاں انسان کے ساتھ جاتی ہیں۔
اور بیٹا، اگر کبھی میری یاد آئے تو کسی بھوکے کو کھانا کھلا دینا۔ مجھے یوں لگے گا جیسے تم نے مجھے تحفہ دیا ہو۔ تمہاری ماں”
خط پر آنسوؤں کے قطرے گرنے لگے۔ اس دن حارث پہلی بار ٹوٹ کر رویا۔ وہ سمجھ گیا کہ جس دولت کے پیچھے وہ ساری زندگی بھاگتا رہا، وہ اسے اپنی ماں کے آخری لمحات واپس نہیں دے سکتی۔ اس نے اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے غریب بچوں کے لیے اسکول بنوایا، یتیموں کی کفالت شروع کی، بیماروں کا علاج کروانے لگا۔ ہر نیکی کرتے وقت اسے اپنی ماں کا چہرہ یاد آتا۔ برسوں بعد جب لوگ اس کے بارے میں بات کرتے تو کہتے: "یہ وہ شخص ہے جس نے ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔”
مگر حارث جانتا تھا کہ حقیقت میں ایک ماں کی آخری نصیحت نے اس کی اپنی زندگی بدل دی تھی۔