جنگ نہیں، امن چاہیے

اسد احمد
دنیا ایک بار پھر اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، اسلحے اور جنگی حکمتِ عملی کو سفارت کاری، مذاکرات اور دانش مندی پر ترجیح دی جارہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، فضائی حملے، ڈرون کارروائیاں، فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا اور ایک دوسرے کو سخت جوابی کارروائیوں کی دھمکیاں دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطہ ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کی قیمت ادا کرے گی۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن انہیں ختم کرنا انتہائی مشکل۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زخم کئی نسلوں تک مندمل نہیں ہوتے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سخت فوجی کارروائی کا حکم، ایران پر مسلسل حملے اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں کسی بھی غلط اندازے یا جذباتی فیصلے کے نتائج پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں تحمل، تدبر اور سفارتی رابطے پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو جاتے ہیں۔ جنگ کبھی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ اس کی آگ سرحدوں سے نکل کر معیشت، تجارت، توانائی، خوراک، روزگار اور عام انسان کی زندگی تک پہنچ جاتی ہے۔ آج دنیا پہلے ہی مہنگائی، معاشی سست روی، موسمیاتی تبدیلی، توانائی کے بحران اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے وقت میں ایک نئی بڑی جنگ عالمی معیشت پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ دنیا کے توانائی کے اہم ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر اس خطے میں جنگ شدت اختیار کرتی ہے یا جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً یقینی ہوجاتا ہے۔ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت، زراعت اور اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر ممالک اور غریب عوام پر پڑتا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ممالک پہلے ہی معاشی دباؤ، قرضوں، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، درآمدی اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹیں براہِ راست ان ممالک کی معیشت کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کا نتیجہ عام شہری کے لیے مہنگی روٹی، مہنگی بجلی، مہنگا ایندھن اور زندگی کی بنیادی ضروریات تک رسائی میں مزید مشکلات کی صورت میں نکلتا ہے۔ جنگ کا فیصلہ اگرچہ طاقت ور ممالک کرتے ہیں، مگر اس کی قیمت اکثر وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جنگ کا ایک اور افسوس ناک پہلو انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ ہر فوجی کی جان قیمتی ہوتی ہے، ہر شہری کی زندگی اہم ہوتی ہے اور ہر خاندان اپنے پیاروں کی سلامتی کا خواہش مند ہوتا ہے۔ جب جنگ چھڑتی ہے تو صرف فوجی ہی نہیں بلکہ عام شہری، بچے، خواتین، بزرگ، اسپتال، اسکول اور بنیادی ڈھانچہ بھی اس کی زد میں آ جاتے ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں اور آنے والی نسلیں نفسیاتی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت عالمی ادارے ہمیشہ تنازعات کے پُرامن حل پر زور دیتے ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کوئی نئے نہیں، مگر گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ عسکری دباؤ، پابندیاں اور حملے مستقل حل فراہم نہیں کرسکے۔ جب بھی مذاکرات ہوئے، کشیدگی میں کسی نہ کسی حد تک کمی آئی اور جب بات چیت کا سلسلہ ٹوٹا تو تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا۔ یہی حقیقت اس امر کی متقاضی ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو طاقت کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس وقت عالمی برادری کی ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان نے امن کے لیے پہلے بھی کوششیں کیں، مفاہمتی معاہدہ کرایا۔ اب بھی پاکستان کوشاں ہے۔ بااثر ممالک، اقوامِ متحدہ، علاقائی تنظیمیں اور دیگر سفارتی فورمز کو چاہیے کہ وہ جنگ کے شعلوں کو مزید بھڑکنے سے روکنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ ثالثی، اعتماد سازی، براہِ راست مذاکرات اور ایسے اقدامات جو کشیدگی کو کم کریں، وقت کی سب سے اہم ضرورت ہیں۔ اگر یہ موقع ضائع ہوگیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن، تجارت اور معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج کی دنیا باہمی انحصار کی دنیا ہے۔ ایک خطے میں جنگ دوسرے خطے کی معیشت، تجارت اور سماجی استحکام کو متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے امن اب کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ مفاد بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں اشتعال انگیز بیانات، جوابی دھمکیاں اور طاقت کے مظاہرے وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتے ہیں، لیکن دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو مزید خونریزی کا سبب بنیں۔ اختلافات خواہ کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، ان کا حل مذاکرات کی میز پر ہی نکلتا ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ بالآخر ہر جنگ کے بعد فریقین کو بات چیت ہی کرنا پڑتی ہے۔ اگر انجام مذاکرات ہی ہیں تو پھر آغاز بھی مذاکرات سے ہونا چاہیے۔ دنیا کو اس وقت مزید جنگوں کی نہیں بلکہ امن، استحکام، اقتصادی تعاون اور انسانی ترقی کی ضرورت ہے۔ وسائل اگر ہتھیاروں کے بجائے تعلیم، صحت، سائنس، روزگار اور عوامی فلاح پر خرچ ہوں تو کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔ عالمی قیادت کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ جنگیں وقتی برتری تو دلا سکتی ہیں، لیکن پائیدار امن نہیں۔ امن صرف انصاف، باہمی احترام، سفارت کاری اور مسلسل مکالمے سے ہی ممکن ہے۔ آج جب دنیا کے کروڑوں غریب افراد مہنگائی، بے روزگاری، بھوک اور غیر یقینی مستقبل سے نبرد آزما ہیں، تو ہر نئی جنگ ان کے دکھوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے، کشیدگی کے بجائے اعتماد پیدا کیا جائے اور تصادم کے بجائے تعاون کا راستہ اختیار کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پوری دنیا کو ایک محفوظ، مستحکم اور پُرامن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔