شہادتِ عمرؓ: عدل کا وہ چراغ جو آج بھی روشن ہے

محمد راحیل وارثی

نئے اسلامی سال 1448 کا آج آغاز ہوچکا ہے، آج یکم محرم الحرام ہے اور خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروقؓ کا یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ آپؓ ایسی ہستی ہیں کہ جن کے سائے سے شیطان بھی بھاگتا تھا، آپؓ مُراد رسول ہیں، آپؓ کو خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے جنتی ہونے کی خوشخبری دی اور آپؓ کے حق میں دعا بھی فرمائی، آپؓ کے ذریعے اسلام کو اللہ پاک نے عزت عطا فرمائی، فاروق اعظمؓ یتیموں، بے سہارا لوگوں کی خیر خواہی کے لیے راتوں کو جاگ کر دورے فرمایا کرتے تھے۔ آپؓ کی کنیت ابوحفص، لقب فاروق اعظم اور نام عمر ہے، آپؓ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو بے حد خوشی ہوئی اور بہت بڑا سہارا مل گیا، یہاں تک کہ حضور ﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر حرم کعبہ میں اعلانیہ نماز ادا فرمائی۔
خلیفہ دوم فاروق اعظمؓ اسلامی جنگوں میں مجاہدانہ شان کے ساتھ شامل ہوئے اور تمام منصوبہ بندیوں میں رسول اکرم ﷺ کے وزیر ومشیر کی حیثیت سے وفادار و رفیق کار رہے، آپؓ نے تخت وخلافت پر رونق افروز رہ کر جانشینی مصطفیٰ ﷺ کی تمام تر ذمے داریاں بہت ہی اچھے انداز سے سرانجام دیں، آپؓ کا قلب انوار الٰہی سے خوب روشن تھا، آپؓ بصیرت اور دانش مندی کے روشن چراغ تھے، آپؓ کی جرأت و بہادری، عاجزی و سادگی، حوصلہ و استقامت، ہمت، دیانت وامانت، ذہانت فطانت اور صبر کی مثالیں آج بھی تاریخ کے اوراق میں منقش ہیں۔ نماز فجر میں ایک بدبخت نے آپؓ پر خنجر سے وار کیا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تیسرے دن جام شہادت نوش فرمایا۔ وقت وفات آپ کی عمر 63 برس تھی، حضرت صہیبؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپؓ روضہ مبارکہ کے اندر حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کے پہلوئے انور میں مدفون ہوئے۔
امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کی عادت تھی کہ آپ ہر وقت رعایا کی خبر گیری فرماتے، صحرائے عرب کی سخت دھوپ اور رات کی تاریکی بھی رعایا کی خبر گیری سے آپؓ کو نہ روک سکی۔ آپؓ کی سیرت طیبہ کے بے شمار ایسے واقعات ہیں، جن میں آپؓ نے اپنی رعایا کی خبر گیری کرتے ہوئے ان کے مختلف مسائل کو حل فرمایا۔

حضرت عمر فاروقؓ کے عدل، دیانت اور جوابدہی کے حوالے سے ایک مشہور واقعہ بیان کیا جاتا ہے جسے "چادر والا قصہ” کہا جاتا ہے۔

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروقؓ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے۔ آپؓ نے فرمایا:

"لوگو! میری بات سنو اور اس پر عمل کرو۔”

مجمع میں موجود ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا:

"اے عمر! ہم نہ آپ کی بات سنیں گے اور نہ ہی اس پر عمل کریں گے۔”

حضرت عمرؓ نے پوچھا:

"کیوں؟”

اس شخص نے جواب دیا:

"بیت المال سے ہر شخص کو کپڑے کا ایک ہی ٹکڑا ملا تھا، مگر آپ نے جو چادر پہن رکھی ہے وہ ایک ٹکڑے سے نہیں بن سکتی۔ ہمیں بتائیں کہ آپ کو اضافی کپڑا کہاں سے ملا؟”

یہ سوال دراصل حکمران کے احتساب اور شفافیت کے بارے میں تھا۔ حضرت عمرؓ نے فوراً اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو جواب دینے کے لیے کہا۔ حضرت عبداللہؓ نے بتایا:

"میرے والد کا قد لمبا ہے، اس لیے ان کے حصے کا کپڑا چادر کے لیے کافی نہیں تھا۔ میں نے اپنے حصے کا کپڑا انہیں دے دیا تھا، جس سے یہ چادر تیار ہوئی۔”

یہ وضاحت سن کر وہ شخص مطمئن ہوگیا اور بولا:

"اب ہم آپ کی بات بھی سنیں گے اور اس پر عمل بھی کریں گے۔”

یہ واقعہ اسلامی طرزِ حکمرانی میں احتساب، شفافیت، انصاف اور عوام کے سوال کرنے کے حق کو نمایاں کرتا ہے۔ حکمران ہونے کے باوجود حضرت عمر فاروقؓ نے سوال کرنے والے کو نہ روکا، نہ ڈانٹا، بلکہ اپنے عمل کی وضاحت پیش کی۔

فاروق اعظمؓ خلیفۃ المسلمین ہونے کے باوجود لوگوں کے گھروں میں جاکر ان کے گھریلو کام تک کردیا کرتے تھے۔ دوسروں کا بھلا چاہنا اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی ایک ایسا عمل خیر ہے کہ اگر ہر مسلمان اس کو حرز جان بناکر اس پر عمل شروع کردے تو ایک دم مسلمانوں کے بگڑے ہوئے معاشرے کی کایا پلٹ جائے۔ سیدنا عمر فاروقؓ لوگوں کی دینی تربیت اور ان کی اصلاح کے بارے میں کوشش فرماتے، یقیناً حضرت عمر فاروقؓ کی یہ مدنی تربیت سب کے لیے مشعل راہ ہے۔
آپؓ کے دورِ خلافت میں دُنیا کے وسیع رقبے پر اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ عدل و انصاف کا بول بالا رہا۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت امت مسلمہ کو اسلامی تعلیمات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

 

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔