حقیقی دولت کیا ہے؟

حسان احمد

قدیم اناطولیہ کے ایک شہر میں ایک بزرگ درویش رہتے تھے۔ لوگ انہیں "بابا سلیم” کہتے تھے۔ ان کے کپڑے سادہ، جھونپڑی معمولی، مگر باتیں ایسی ہوتیں کہ سننے والے گھنٹوں سوچتے رہ جاتے۔ اسی شہر پر سلطان مراد کی حکومت تھی۔ سلطان بہادر تھا، انصاف پسند بھی، لیکن ایک خامی تھی۔ اسے اپنی دولت اور شان و شوکت پر بے حد فخر تھا۔ ایک دن سلطان نے اپنے وزیروں سے کہا، "سنا ہے بابا سلیم بڑے دانا ہیں۔ دیکھتے ہیں ان کی دانائی میری دولت سے بڑی ہے یا نہیں۔”
اگلے دن سلطان شاہی جلوس کے ساتھ بابا سلیم کی جھونپڑی پر پہنچا۔ سپاہی آگے، وزیر پیچھے، گھوڑوں کی ٹاپیں اور شاہی جھنڈے ہوا میں لہرا رہے تھے۔
بابا سلیم جھونپڑی کے باہر بیٹھے لکڑی کے ایک پرانے پیالے میں پانی پی رہے تھے۔ سلطان نے مسکرا کر کہا، "بابا! تمہاری ساری زندگی اسی ٹوٹے ہوئے پیالے میں گزر گئی؟” بابا سلیم نے پیالے کو دیکھا، پھر سلطان کو دیکھا اور بولے، "حضور! پیالہ ٹوٹا نہیں، صرف پرانا ہے۔ مگر کئی دل ایسے ہوتے ہیں جو نئے ہوتے ہوئے بھی ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔”
وزیر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ سلطان نے بات بدلتے ہوئے اپنے خادم کو اشارہ کیا۔ خادم فوراً سونے سے بنا نہایت قیمتی پیالہ لے آیا، جس پر ہیروں کی جڑائی تھی۔ سلطان نے فخر سے کہا، "یہ پیالہ تمہارے اس لکڑی کے پیالے سے ہزار گنا قیمتی ہے۔”
بابا سلیم نے خاموشی سے دونوں پیالوں میں پانی بھرا۔ پھر سلطان سے کہا، "حضور! پہلے اس سونے کے پیالے سے پانی پیجیے۔” سلطان نے پانی پیا۔ پھر بابا نے لکڑی کا پیالہ آگے کیا۔ سلطان نے اس سے بھی پانی پی لیا۔ بابا سلیم نے مسکرا کر پوچھا، "اب بتائیے، کس پیالے کے پانی نے زیادہ پیاس بجھائی؟”
سلطان چند لمحے خاموش رہا۔ "دونوں نے برابر پیاس بجھائی۔” بابا نے نرمی سے کہا،
"پھر قیمت پیالے کی تھی یا پانی کی؟” سلطان خاموش ہوگیا۔ مگر اس کے دل میں ابھی بھی غرور باقی تھا۔ اس نے کہا، "بابا! اگر دولت اتنی ہی بے وقعت ہے تو لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے محنت کیوں کرتے ہیں؟”
بابا سلیم نے جواب دیا، "دولت بری نہیں، اس کا غرور برا ہے۔ کشتی پانی پر چلے تو منزل تک پہنچاتی ہے، لیکن اگر پانی کشتی کے اندر آ جائے تو اسے ڈبو دیتا ہے۔” یہ سن کر دربار کے کئی لوگ زیرِ لب سبحان اللہ کہہ اٹھے۔ سلطان نے سوچا کہ ابھی بھی میں ہارا نہیں۔ اس نے بابا کو محل آنے کی دعوت دی۔
اگلے دن بابا سلیم محل پہنچے۔ محل میں سونے کے ستون، چاندی کے دروازے، قیمتی قالین اور بے شمار خادم موجود تھے۔ سلطان نے فخر سے پوچھا، "بابا! کیسا لگا میرا محل؟” بابا نے چاروں طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے، "بہت خوبصورت ہے… مگر ایک چیز کی کمی ہے۔” سلطان چونک گیا۔ "وہ کیا؟”
بابا نے جواب دیا، "یہ سب کچھ ہمیشہ رہنے والا نہیں۔” پورا دربار خاموش ہوگیا۔
سلطان نے پہلی بار محسوس کیا کہ واقعی ایک دن یہ سب پیچھے رہ جائے گا۔ اسی دوران محل کے دروازے پر شور مچا۔ ایک غریب بوڑھی عورت روتی ہوئی اندر آئی۔ اس نے عرض کی، "بادشاہ سلامت! میرے بیٹے پر جھوٹا الزام لگا ہے۔ اگر آج انصاف نہ ملا تو وہ بے گناہ سزا پا جائے گا۔”
سلطان نے وزیروں کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کہا، "تمام کاغذات مکمل ہیں۔ سزا دی جا سکتی ہے۔” بابا سلیم نے کہا، "حضور! کبھی کبھی کاغذ سچ نہیں بولتے، انسان بولتا ہے۔”
سلطان نے نوجوان کو بلانے کا حکم دیا۔ تحقیقات دوبارہ ہوئیں۔ پتا چلا کہ اصل مجرم ایک امیر تاجر تھا جس نے رشوت دے کر بے گناہ نوجوان کو پھنسایا تھا۔ سلطان نے فوراً تاجر کو گرفتار کروادیا اور نوجوان کو آزاد کر دیا۔ بوڑھی ماں روتے ہوئے سلطان کے قدم چومنے لگی۔
بابا سلیم نے آہستہ سے کہا، "آج آپ نے سونے کے پیالے سے زیادہ قیمتی کام کیا ہے۔” سلطان نے حیران ہو کر پوچھا، "وہ کیسے؟”
بابا بولے، "سونے کا پیالہ صرف ایک انسان کی پیاس بجھاتا ہے، لیکن انصاف ہزاروں دلوں کی پیاس بجھا دیتا ہے۔” یہ الفاظ سلطان کے دل میں اتر گئے۔
اسی شام اس نے محل کے کئی شاہی اخراجات ختم کردیے، خزانے کا ایک حصہ یتیموں، بیواؤں اور مسافروں کے لیے وقف کردیا اور حکم دیا کہ ہر فیصلے سے پہلے انصاف کو دولت پر ترجیح دی جائے۔ کئی سال بعد جب سلطان کا انتقال ہوا تو لوگوں نے اس کے محلات کا ذکر کم کیا، مگر اس کے انصاف کی مثالیں نسلوں تک سنائی جاتی رہیں۔
بابا سلیم کی وہ لکڑی کی پیالی؟
وہ آج بھی ان کے مزار کے قریب محفوظ رکھی گئی ہے، تاکہ آنے والے ہر شخص کو یاد رہے کہ انسان کی اصل قیمت اس کے برتن، لباس یا دولت میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، عاجزی اور انصاف میں ہوتی ہے۔
اس ترک حکایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ عاجزی، انصاف اور اچھا کردار انسان کو ہمیشہ کے لیے لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔قدیم اناطولیہ کے ایک شہر میں ایک بزرگ درویش رہتے تھے۔ لوگ انہیں "بابا سلیم” کہتے تھے۔ ان کے کپڑے سادہ، جھونپڑی معمولی، مگر باتیں ایسی ہوتیں کہ سننے والے گھنٹوں سوچتے رہ جاتے۔ اسی شہر پر سلطان مراد کی حکومت تھی۔ سلطان بہادر تھا، انصاف پسند بھی، لیکن ایک خامی تھی۔ اسے اپنی دولت اور شان و شوکت پر بے حد فخر تھا۔ ایک دن سلطان نے اپنے وزیروں سے کہا، "سنا ہے بابا سلیم بڑے دانا ہیں۔ دیکھتے ہیں ان کی دانائی میری دولت سے بڑی ہے یا نہیں۔”
اگلے دن سلطان شاہی جلوس کے ساتھ بابا سلیم کی جھونپڑی پر پہنچا۔ سپاہی آگے، وزیر پیچھے، گھوڑوں کی ٹاپیں اور شاہی جھنڈے ہوا میں لہرا رہے تھے۔
بابا سلیم جھونپڑی کے باہر بیٹھے لکڑی کے ایک پرانے پیالے میں پانی پی رہے تھے۔ سلطان نے مسکرا کر کہا، "بابا! تمہاری ساری زندگی اسی ٹوٹے ہوئے پیالے میں گزر گئی؟” بابا سلیم نے پیالے کو دیکھا، پھر سلطان کو دیکھا اور بولے، "حضور! پیالہ ٹوٹا نہیں، صرف پرانا ہے۔ مگر کئی دل ایسے ہوتے ہیں جو نئے ہوتے ہوئے بھی ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔”
وزیر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ سلطان نے بات بدلتے ہوئے اپنے خادم کو اشارہ کیا۔ خادم فوراً سونے سے بنا نہایت قیمتی پیالہ لے آیا، جس پر ہیروں کی جڑائی تھی۔ سلطان نے فخر سے کہا، "یہ پیالہ تمہارے اس لکڑی کے پیالے سے ہزار گنا قیمتی ہے۔”
بابا سلیم نے خاموشی سے دونوں پیالوں میں پانی بھرا۔ پھر سلطان سے کہا، "حضور! پہلے اس سونے کے پیالے سے پانی پیجیے۔” سلطان نے پانی پیا۔ پھر بابا نے لکڑی کا پیالہ آگے کیا۔ سلطان نے اس سے بھی پانی پی لیا۔ بابا سلیم نے مسکرا کر پوچھا، "اب بتائیے، کس پیالے کے پانی نے زیادہ پیاس بجھائی؟”
سلطان چند لمحے خاموش رہا۔ "دونوں نے برابر پیاس بجھائی۔” بابا نے نرمی سے کہا،
"پھر قیمت پیالے کی تھی یا پانی کی؟” سلطان خاموش ہوگیا۔ مگر اس کے دل میں ابھی بھی غرور باقی تھا۔ اس نے کہا، "بابا! اگر دولت اتنی ہی بے وقعت ہے تو لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے محنت کیوں کرتے ہیں؟”
بابا سلیم نے جواب دیا، "دولت بری نہیں، اس کا غرور برا ہے۔ کشتی پانی پر چلے تو منزل تک پہنچاتی ہے، لیکن اگر پانی کشتی کے اندر آ جائے تو اسے ڈبو دیتا ہے۔” یہ سن کر دربار کے کئی لوگ زیرِ لب سبحان اللہ کہہ اٹھے۔ سلطان نے سوچا کہ ابھی بھی میں ہارا نہیں۔ اس نے بابا کو محل آنے کی دعوت دی۔
اگلے دن بابا سلیم محل پہنچے۔ محل میں سونے کے ستون، چاندی کے دروازے، قیمتی قالین اور بے شمار خادم موجود تھے۔ سلطان نے فخر سے پوچھا، "بابا! کیسا لگا میرا محل؟” بابا نے چاروں طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے، "بہت خوبصورت ہے… مگر ایک چیز کی کمی ہے۔” سلطان چونک گیا۔ "وہ کیا؟”
بابا نے جواب دیا، "یہ سب کچھ ہمیشہ رہنے والا نہیں۔” پورا دربار خاموش ہوگیا۔
سلطان نے پہلی بار محسوس کیا کہ واقعی ایک دن یہ سب پیچھے رہ جائے گا۔ اسی دوران محل کے دروازے پر شور مچا۔ ایک غریب بوڑھی عورت روتی ہوئی اندر آئی۔ اس نے عرض کی، "بادشاہ سلامت! میرے بیٹے پر جھوٹا الزام لگا ہے۔ اگر آج انصاف نہ ملا تو وہ بے گناہ سزا پا جائے گا۔”
سلطان نے وزیروں کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کہا، "تمام کاغذات مکمل ہیں۔ سزا دی جا سکتی ہے۔” بابا سلیم نے کہا، "حضور! کبھی کبھی کاغذ سچ نہیں بولتے، انسان بولتا ہے۔”
سلطان نے نوجوان کو بلانے کا حکم دیا۔ تحقیقات دوبارہ ہوئیں۔ پتا چلا کہ اصل مجرم ایک امیر تاجر تھا جس نے رشوت دے کر بے گناہ نوجوان کو پھنسایا تھا۔ سلطان نے فوراً تاجر کو گرفتار کروادیا اور نوجوان کو آزاد کر دیا۔ بوڑھی ماں روتے ہوئے سلطان کے قدم چومنے لگی۔
بابا سلیم نے آہستہ سے کہا، "آج آپ نے سونے کے پیالے سے زیادہ قیمتی کام کیا ہے۔” سلطان نے حیران ہو کر پوچھا، "وہ کیسے؟”
بابا بولے، "سونے کا پیالہ صرف ایک انسان کی پیاس بجھاتا ہے، لیکن انصاف ہزاروں دلوں کی پیاس بجھا دیتا ہے۔” یہ الفاظ سلطان کے دل میں اتر گئے۔
اسی شام اس نے محل کے کئی شاہی اخراجات ختم کردیے، خزانے کا ایک حصہ یتیموں، بیواؤں اور مسافروں کے لیے وقف کردیا اور حکم دیا کہ ہر فیصلے سے پہلے انصاف کو دولت پر ترجیح دی جائے۔ کئی سال بعد جب سلطان کا انتقال ہوا تو لوگوں نے اس کے محلات کا ذکر کم کیا، مگر اس کے انصاف کی مثالیں نسلوں تک سنائی جاتی رہیں۔
بابا سلیم کی وہ لکڑی کی پیالی؟
وہ آج بھی ان کے مزار کے قریب محفوظ رکھی گئی ہے، تاکہ آنے والے ہر شخص کو یاد رہے کہ انسان کی اصل قیمت اس کے برتن، لباس یا دولت میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، عاجزی اور انصاف میں ہوتی ہے۔
اس ترک حکایت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دولت انسان کو بڑا نہیں بناتی، بلکہ عاجزی، انصاف اور اچھا کردار انسان کو ہمیشہ کے لیے لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔