بھیڑیوں کے حملے سے بھیڑوں کو بچانے کیلئے انوکھی ایجاد
ویانا: آسٹریا کے ایک موجد نے بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں سے نمٹنے کے لیے بھیڑوں کو پہنانے کے لیے ایک منفرد زرہ بکتر تیار کرلی۔ تاہم، اس ایجاد کو کسانوں اور عوام کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔
جنوبی آسٹریا کے شہر وِیلاک سے تعلق رکھنے والے رُڈولف شاؤباخ نے بتایا کہ انہیں یہ خیال آسٹریا اور جرمنی میں بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھ کر آیا۔ قریباً تین سال کی محنت کے بعد انہوں نے ایک ایسا پروٹوٹائپ تیار کیا جسے حال ہی میں آسٹریائی الپس کے مختلف فارموں پر آزمایا گیا۔
موجد کے مطابق ان کا مقصد ایسی حفاظتی ڈھال بنانا تھا جو بھیڑوں کو بھیڑیوں کے خطرناک دانتوں سے محفوظ رکھ سکے۔ جبکہ جانور آسانی سے چر بھی سکیں اور آزادانہ نقل و حرکت بھی برقرار رہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ہلکے پلاسٹک کے جال پر نوکیلے کانٹے نصب کیے، جو کسی بھی حملہ آور بھیڑیے کو شدید تکلیف پہنچا کر دوبارہ حملہ کرنے سے روک سکتے ہیں۔
رُڈولف شاؤباخ کا کہنا تھا کہ بھیڑیا ایک ذہین جانور ہے اور اگر اسے پہلی بار کاٹنے پر تکلیف پہنچے تو وہ دوبارہ اس شکار پر حملہ کرنے سے گریز کرے گا۔
تاہم، اس انوکھی ایجاد کو کسانوں اور عوام کی جانب سے زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھیڑوں کے لیے یہ چین میل نہ صرف مہنگا اور غیر عملی حل ہے بلکہ اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ واقعی بھیڑیوں کے حملوں کو مؤثر طریقے سے روک سکے گا۔
ماہرین کے مطابق بھیڑیوں اور مویشیوں کے درمیان بڑھتے تنازعات کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور حفاظتی اقدامات پر کام جاری ہے، لیکن فی الحال بھیڑوں کی یہ نوکیلی زرہ بکتر کسانوں کو قائل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔