اصل کامیابی۔۔۔

وقاص بیگ
ریاض کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جہاں ریت کے طوفان زندگی کا حصہ تھے اور خاموشی ہر گھر کی دیواروں میں بسی ہوئی تھی۔ اسی گاؤں میں ایک نوجوان رہتا تھا، نام تھا سلمان۔ وہ بہت غریب تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی، جیسے وہ کسی بڑے خواب کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔
سلمان کے والد اونٹوں کے چرواہے تھے۔ گھر میں اکثر فاقے ہوتے، مگر اس کے دل میں ہمیشہ ایک ہی خواہش تھی: “میں اپنی ماں کو وہ زندگی دوں گا جس میں وہ کبھی بھوکی نہ سوئے۔”
ایک دن سلمان نے شہر جانے کا فیصلہ کیا۔ ماں نے اس کے ہاتھ میں صرف ایک پرانا کپڑا اور کچھ کھجوریں رکھ دیں۔ آنکھوں میں آنسو تھے، مگر لبوں پر دعا۔
“بیٹا، اللہ تمہیں کبھی اکیلا نہ چھوڑے…”
شہر پہنچ کر سلمان کو حقیقت کا سامنا ہوا۔ نہ کام تھا، نہ پہچان۔ کئی دن وہ سڑکوں پر بھوکا گھومتا رہا۔ کبھی مسجد کے باہر بیٹھ جاتا، کبھی کسی دکان کے سامنے امید سے کھڑا ہوجاتا، مگر ہر بار جواب “نہیں” ہی ہوتا۔
ایک رات وہ ایک مسجد کے باہر سوگیا۔ سردی بہت شدید تھی۔ اسی رات ایک بزرگ مسجد سے نکلے۔ انہوں نے سلمان کو دیکھا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے پر تھکن اور آنکھوں میں بے بسی تھی۔ بزرگ نے اسے جگایا اور پوچھا:
“بیٹا، تم کون ہو؟”
سلمان نے کانپتی آواز میں کہا: “میں کچھ بھی نہیں ہوں… بس ایک خواب ہوں جو ٹوٹنے سے انکار کر رہا ہے۔”
یہ سن کر بزرگ کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ اسے اپنے گھر لے گئے، کھانا دیا اور اگلے دن اسے اپنے بیٹے کی دکان پر کام دے دیا۔
سلمان نے وہاں دل لگا کر محنت شروع کی۔ دن رات کام کرتا، کبھی شکایت نہ کرتا۔ وقت گزرتا گیا۔ اس کی ایمان داری اور محنت نے اسے آگے بڑھا دیا۔ چند سال میں وہی لڑکا جو سڑک پر سویا کرتا تھا، ایک چھوٹی سی کاروباری پہچان بنانے میں کامیاب ہوگیا۔
مگر اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کی ماں بہت بیمار ہے۔ سلمان فوراً گاؤں لوٹا۔ ماں بستر پر تھی، کمزور، مگر مسکراتی ہوئی۔ اس نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور دھیرے سے کہا: “میں جانتی تھی تم ضرور کچھ بنو گے… لیکن یاد رکھنا، اصل کامیابی مال نہیں، اللہ کا شکر ہے۔”
کچھ ہی دن بعد اس کی ماں دنیا سے چلی گئی۔ سلمان پہلی بار ٹوٹ گیا۔ وہ رات بھر قبر کے پاس بیٹھا رہا۔ روتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: “یااللہ… میں نے سب کچھ کمایا، مگر اپنی ماں کو ہمیشہ کے لیے کھودیا…”
خاموشی تھی، صرف ہوا کی آواز۔ اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ زندگی میں سب سے بڑی دولت پیسہ نہیں، وقت اور اپنوں کی محبت ہے۔
آج سلمان ایک کامیاب انسان تھا، مگر ہر کامیابی کے پیچھے اس کی ماں کی وہ دعائیں تھیں جو اس کے گاؤں میں آج بھی ہوا کے ساتھ گونجتی ہیں۔
کامیابی صرف دولت کا نام نہیں، اصل کامیابی وہ ہے جس میں انسان اپنی جڑوں، اپنے پیاروں اور اپنی دعاؤں کو نہ بھولے۔